| | | |  

 بِسْمِ اللهِ الرَّ حْمٰنِ الرَّ حِیْم
اِلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن وَالصَّلَوٰ ةُ وَالسَّلَا مُ عَلٰی سَیِّدِ الِمُرْ سَلِیِنَ وَعَلٰی اَلِہ وَ اَصْحَا بِہ اَجْمَعِیْنَ

 مقدمہ

مرّوجہ مذہب اسلام کے ماخذ چار ہیں۔ قرآن، احادیث، تفاسیر، فقہ۔
قرآنِ حکیم تو ایک ازلی اور ابدی قانون کی آسمانی کتاب ہے جو ہر لحاظ اور ہر اعتبار سے مکمل و مفصل ہے، جس کے ایک حرف اور ایک نقطہ میں بھی ردّوبدل یا ترمیم و تنسیخ ممکن نہیں۔ احادیث اور تفاسیر پر بحث و نظر کی ضرورت ہے۔

 تمہید
مذہب ایک قدرتی نظامِ حیاتِ انسانی ہے جس کو جذبہٴ فطرتِ بشری سے تعبیر کر سکتےہیں۔ جذبہٴ فطرت زندگانی کے مراحل طے کرنے کے لیے ایک دستورکی ضرورت محسوس کرتا ہے اور گرد وپیش کے حالات و ماحول سے نتائج خیر و شراخذ کر کےکسی پسندیدہ اور مناسب طریقہ کو اختیار کرنے کی رہنمائی کرتا ہے۔ جب سلیم الفطرت ہستیوں میں سے کسی منتخب شخصیت پر آسمانی ہدایات اور الٰہی احکامات کا نزول ہوتا ہے تو دنیاوی زندگی کی صحیح تنظیم کے ساتھ روحانی تسکین اور قلبی طمانیت کی راہیں کشادہ ہوجاتی ہے اور انسانی معاشرہ مذہبی حدود  قیود کے ماتحت منزلیں طے کرنے لگتا ہے۔
       ہر زمانے میں پیغبر آتے رہے اوربنی نوع انسان کی رہنمائی آسمانی فرامین کے بموجب کرتے رہے۔ سعید و صالح بندوں نے اپنے جذبہٴ فطرت کے مطابق انہی قانونِ حیات  کی پیروی اختیار کی اور تسلسل و تواتر کے ساتھ نسلاً بعد نسلاً اُسی راہ پر چلتے رہے۔
       جب کسی طورو طریق کو زیادہ زمانہ گزرتا ہے تو اس میں بتقاضائے حوادث و تغیر حالات و تبدل حالات اور اختلاف رونما ہوتا ہے اور شیرازہٴ راستی بکھر جاتا ہے۔ جب کوئی منتخب شخص آسمانی ہدایت  کے ساتھ ظہور میں نہیں آتی اختلاف بڑھ جاتے ہیں۔جب الٰہی احکام کا نزول کسی بندے پر ہوتا ہے، سب اختلاف مٹ جاتے ہیں اور اصلاح عمل ہو کر ایک صحیح تنظیم کی پیروی ہونے لگتی ہے۔
      پیغمبرآخرالزماںﷺکے بعد اب کسی پیغبر کا مبعوث ہونا اور کسی ہدایت کا نازل ہونا ممکن نہیں رہا۔ صرف ختم المرسلینﷺکی اتباع ہی صحیح راہِ ہدایت ہے۔ مگر بمقتضائے رفتارِ زمانہ تعلیماتِ نبویﷺمیں بھی اختلافاتِ کثیر واقع ہو کر بےشمارراہیں پیداہوگئیں۔ آج امتِ مسلمہ فرقوں میں بٹی ہوئی ہے۔ محض انسانی اقوال اور اختلافی آراؤ قیاسیات پر مذہب کی بنیاد رکھی ہے، ذلت و پستی میں پڑ کر موردِ عذاب و عتاب ہو رہےہیں۔ہر فرقہ اپنے معقتدات و معمولات کو اور اپنے خود ساختہ مذہب کو احادیث نبویﷺسے ثابت کرنے کے لیے ایک ذخیرہٴ احادیث اپنے پاس رکھتا ہے جسے بطورِ استدلال پیش کیا جاتا ہے۔

قول متواتر
کسی قول کی صحت کے لیے قطعی ثبوت درکار ہوتا ہے۔ ثبوت کے  لیےقول کا شروع زمانے سے آخر زمانے تک متواتر ہونا شرط ہے،  پھر قول متواتر بھی دو قسم کاہے، ایک لفظی دوسرے معنوی۔ دنیا میں صرف ایک قرآن حکیم ہی ایسا قول متواتر ہے جس کے لفظی تواتر کے قطعی الثبوت ہونے کا یقین اور وثوق کے ساتھ دعویٰ کیا جاسکتا ہے جس میں شروع زمانے سے لے کر آج تک کبھی نسخ و تبدل واقع نہیں ہوا۔
        نبی آخرالزماں ختم المرسلین حضرت محمد مصطفےٰﷺکے ان اقوال شریفہ کو بھی جو صحیفہٴ الٰہی اور احکاماتِ ربانی کو قولی تفسیر اورعملی تشریح ہیں اور جن کی تائید وتصدیق قرآن حکیم سےہوتی ہے، بےشک و شبہ معنوی تواتر حاصل ہے۔
        جملہ احادیث نبوی ﷺکو دوحصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، صحیح اور غیر صحیح۔ احادیث صحیح تو وہ ہیں جن کی معنوی موافقت و مطابقت قرآن مجید سے ہوتی ہے اور غیر صحیح احادیث وہ ہیں جن میں تناقص الفاظ و معانی کے علاوہ ابہام و اہمال کی کوئی حد نہیں، اختلافات و اضداد کا ایک پریشان کن مجموعہ ہیں۔
کتب احادیث
 حدیث کی بہت کتابیں موجود ہیں جن میں بارہ کتابیں زیادہ مستند اور معتبر سمجھی گئی ہیں۔ موطاء امام مالک، سنن امام شافعی، جامع بخاری، مسند امام احمد بن حنبل، مسند رومی، سنن ابوداؤد، صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، نسائی، دار قطنی، بیہقی۔
      امام شافعی کا بیان ہے روئے زمین پر کتاب الله کے بعد امام مالک کی کتاب موطاء سے زیادہ صحیح کوئی کتاب نہیں۔ مگربعدکےمحدثین نے دو کتابوں کو زیادہ مستند و معتبر قرار دیا، جامع بخاری اورصحیح مسلم۔ لیکن دار قطنی نے صحیحین (بخاری و مسلم)کی حدیثوں کی تنقید کی اور دوسو دس حدیث کو مجروح بتایا۔ بعض محدثین کے نزدیک بخاری کے اَسّی(80)راوی ضعیف ہیں۔
      اس میں شک نہیں کہ جامعین حدیث نے احادیث صحیحہ کے انتخاب میں تحقیق کا کوئی بھی دقیقہ فرد و گزاشت نہیں کیا مگر پھر بھی باوجود کامل احتیاط کے باکثرت ضعیف و مشتبہ اور وضعی حدیثیں مذکورہ دوازدہ کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔
وضعی احادیث
 بعض کتب احادیث ایسی بھی لکھی گئیں جن کی سب حدیثیں وضعی تھیں۔ منافقینِ اسلام نے محض رخنہ فی الدین کی نیت سے بے شمار حدیثیں وضع کیں۔
وضع حدیث کے وجوہ بہت ہیں۔ حضرت عثمان کے عہدِ خلافت میں ہی جزوی اور فروعی اختلاف شروع ہو کر بعض مسائل سے متعلق مشتبہ اور متضاد حدثیں بیان ہونے لگی تھی۔ جنگ صفین کے بعددو فریق ہوگئے اور مخالف حدیثوں کے انبار لگ گئے۔ مناقب اہل بیت اور طعن صحابہ کے علاوہ عقائد و عبادات اور معاملات ملکی و خانگی کی حدیثیں گھر گھر بیان ہونے لگیں۔ نو مسلم یہودی، نصرانی، مجوسی اپنے موروثی و آبائی طور  وطریق کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے لگے اور حدیثیں اپنی موافقت میں وضع کیں۔ ایران و ہندوستان کے نو مسلم صوفیوں نے اپنے موضوعہ معتقدات و معمولات کو صحیح اور مسنون ثابت کرنے کے لئے بہت سی حدیثیں وضع کیں۔ واعظین و مبلغین اور عراق کے میلا د خوانوں نے سامعین کی دلچسپی کی حدیثیں وضع کیں اور ہر واضع نے سلسلہٴ روایت جلیل القدر صحابہ اور واجب الاحترام صحابیات تک پہنچادیا۔
      خلفائے عظام سے تو چند احادیث شریفہ ہی مرّوی ہیں۔ یہ لاکھوں حدیثیں کہاں سے آگئیں؟ امام بخاری نے کہا مجھے ایک لاکھ صحیح اور دو لاکھ غیر صحیح حدیث یاد ہیں مگر میں نے بہت سی صحیح حدیثوں کو طوالت کے خوف سے اپنی جامع بخاری میں شامل نہیں کیا۔ (ابن الصلاح)
      ابو عبدالرحمٰن نسائی نے اُن بعض راویوں کو ضعیف بتایا ہے جن سے بخاری یا مسلم نے مشترکاً یا منفرداً روایت کیا۔ (فتح الباری)
      پس احادیث نبوی ﷺکی مذکورہ دوازدہ کتب صحاح پر صحت کا اطلاق اغّلبی و اکثری ہے نہ کہ قطعی و کلّی۔ کسی حدیث کا مذکورہ کتب صحاح میں پایا جانا اس امر کی دلیل نہیں کہ وہ صحیح ہے۔ محض کسی حدیث کو صحیح کہہ کر اس کا سلسلہٴ اسناد و روایت عن فلاں و عن فلاں رسول الله ﷺتک پہنچا دینا ہی اس کی صحت کے نفس الامر میں یقینی ہونے کے لئے کافی نہیں جب تک کہ اس کی موافقت و مطابقت قرآن حکیم سے نہ ہوتی ہو۔
      ابو جعفر سے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے میرے بعد کثرت سے حدیثیں بیان کی جائیں گی جو قرآن کے موافق ہو وہ میری حدیث ہے اور جو قرآن کے مخالف ہو وہ میری حدیث نہیں۔ (بیہقی)
معیار صحت
 جب احادیث صحیحہ میں مشتبہ اور ضعیف حدیثیں مخلوط ہوئیں اور نزاعی و اختلافی حدیثیں کثرت سے وضع ہوکر متضاد و مختلف اعمال و عقائد کا باعث بنیں تو محقق علماء نے صحیح اور غیر صحیح کے امتیاز کے لئے چند اصول مقرر کئے جن کو پیش نظر رکھ کر احادیث کو جانچا پرکھا جاتا ہے۔ علامہ ابن جوزی کہتے ہیں:
      ہر ایسی حدیث جو عقل کے مخالف یا اصولِ مسلّمہ کے متناقض ہو تو جاننا چاہیے کہ وہ موضوعی ہے۔ پھر یہ معلوم کرنے کی ضرورت نہیں کہ راوی ثقہ ہیں یا غیر معتبر، اسی طرح وہ حدیث جس میں ذرا سی بات پر سخت عذاب کی دھمکی ہو یا معمولی کام پھر بہت بڑے ثواب کا وعدہ ہو یا وہ حدیث جس میں لغویت پائی جائے یا جو محسوسات و مشاہدے اور نص قرآنی و سنتِ متواترہ کے خلاف ہو قطعاً قابلّ اعتبار نہیں، ایسی مشتبہ اور وضعی حدیث کی نہ جرح و تعدیل ضروری ہے نہ سلسلہٴ اسناد کی تحقیق و تصدیق، ایسی حدیث کی کوئی تاویل بھی قابلِ قبول نہیں۔ (فتح المغیث)
      مُلاّ علی قاری کہتے ہیں:۔
      جو حدیث قرآن کے خلاف اور مشاہدہ کے خلاف ہو، یا جس حدیث میں فضول باتیں یا رکیک مضمون و الفاظ ہوں اعتبار کے قابل نہیں۔ (موضوعات)
      کسی حدیث کی صحت یا عدم صحت کی جانچ پڑتال کا معیار راویوں کی ثقاہت نہیں بلکہ روایت کے نفس مضمون پر غور کرنا ہے کہ نصِّ قرآنی اور سنت متواترہ یا عقل و مشاہدے کے مخالف اور اصول مسلّمہ کے متناقض تو نہیں، اگر خلاف ہے تو بے شک وضعی ہے۔ جیسے یہ روایت "خلق اٰدم علی صورته" (آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا)قرآن کی آیتہ کریمہ "لیس کمثله شیٴ" (اس کی مثل کوئی چیز نہیں)کے مخالف ہے یا یہ روایت کے حضرت آدم کا قد ساٹھ گز (ہاتھ)کا تھا اور جسم کا عرض سات گز (ہاتھ)کا تھا، مشاہدہ کے خلاف ہے اور ایسی حدیثیں بھی مشتبہ ہیں جن میں کسی ایک ہی مسئلہ کی متعدد روایتیں ایک دوسری کی مخالف ہوں، جب ایک ہی بات کومتردّو(متعدد)عبارتوں میں بیان کیا جائے تو ان میں ایک صحیح اور دوسری غلط ہوں گی یا پھرسب ہی غلط ہوں گی۔ ایسی سب حدیثیں منافقین اسلام نے محض زخنہ فی الدین اور افتراق بین المسلمین کی نیت سے وضع کر کے مشہور کیں اور اسناد کا سلسلہ رسول الله ﷺتک پہنچادیا۔ پس نزاعی اور اختلافی حدیثیں ساقط الاعتبار اور ناقابل قبول ہیں۔ سلسلہٴ اسناد میں ثقہ اور معتبر راویوں اور جلیل القدر صحابہ و صحابیات کے ناموں سے جامعین حدیث کو دھوکا ہوا اور ایسی مشتبہ وضعیف اور لغو ومہمل روایتیں بے شمارتعداد میں احادیث صحیحہ میں مخلوط و شامل ہو کر کتب صحاح میں جمع ہوگئیں۔
      اگر کوئی شخص ایک حدیث وضع کرے اور غیر منقطع سلسلہٴ روایت میں تمام ثقہ اور معتبر راویوں کے نام لے آئے تو صدق و کذب کی جانچ کے لیے اسماٴ الرجال کی ورق گردانی کیا رہنمائی کرسکتی ہے؟ دوازدہ کتب صحاح میں دو کتابیں بخاری ومسلم ممتاز مانی گئیں، صحیحین کے جامع خود ایک دوسرے کے اکثر راویوں کو معتبر نہیں سمجھتے، چناچہ بقول علامہ سخاوی جامع بخاری کے ۴۳۵ راویوں سے مسلم نے روایت نہیں کی اور بقول حاکم نیشاپوری صحیح مسلم کے ۶۲۵ راویوں سے بخاری نے روایت نہیں۔ امام ابن ہمام حنفی مصنف فتح القدیر صحیحین کو دوسری کتب صحاح سے زیادہ صحیح اور مقدم نہیں مانتے۔
      علامہٴ ذہبی کہتے ہیں کسی حدیث کو حسن صحیح کہہ دینے پر دھوکا نہیں کھانا چاہیے اگر حدیث قرآن کے مطابق ہے تو درست ہے ورنہ نہیں۔
(میزان الاعتدال)
احادیث صحیحہ
 محدثین نے احادیث شریفہ کو بلحاظ روایت اور باعتبار روای چند اقسام میں تقسیم کیا ہے جن کی تفصیل اصولِ حدیث کی کتابوں میں بیان کی گئی ہے۔ اگر ان تفاصیل و مباحث کو نظرانداز کر کے صرف قرآنی آیات سے احادیث نبوی ﷺکی تصحیح کر لی جاتی تو امت مسلمہ افتراق بین المسلمین کے فتنہ میں مبتلا نہ ہوتی۔ جب حضرت رسول الله ﷺکا ارشاد مبارک باسناد صحیح موجود ہے کہ جو حدیث قرآن کے مطابق ہو وہ صحیح ہے اور جو مخالف ہو وہ میری حدیث نہیں تو پھر لاکھوں راویوں اور روایتوں کی اقسام مقرر کرنا اور چند اصول وضع کر کے لایعنی اورطولانی مباحث میں طالب علم کا وقت ضائع کرنا کہاں تک جائز ہوسکتا ہے؟
      ۱۳۵۴ھ میں بزمانہٴ حج صحن کعبہ میں جب دنیائے اسلام کے علماء امت کا اجتماع تھا یہ اہم ترین مسئلہ پیش کیا گیا تھا کہ مسلمانانِ عالم بہت فرقوں میں متفرق ہوگئے ہیں اور اس تفریق کا باعث صرف اختلافی ونزاعی احادیث ہیں جو یقیناً غیر صحیح اور وضعی ہیں،چونکہ یہ مشتبہ احادیث صحیحہ میں مخلوط ہو کر صحاح میں جمع ہوگئی ہیں اگر ان سب موضوعات کو خارج کر کے احادیث صحیحہ کو منتخب کرلیا جائے تو فرقِ اسلامیہ کے اختلاف اگر ختم نہ ہوسکے تو کم ضرور ہوجائیں گے۔ سب نے اس امر کو تسلیم کیا مگر اس مشکل مرحلہ کو طے کر نے پر آمادگی کسی نے ظاہر نہ کی کیوں کہ احادیث کی صحت کا معیار قرآنِ حکیم سے تصحیح کرنا قراد دیا جائے تو پھر بے شمار ثقہ اور معتبر راوی نظر انداز کرنا پڑیں گے۔
      الله تبارک و تعالیٰ کی تائید و توفیق پر بھروسہ کر کے باوجود بے بضاعتی و نااہلی خود ہی احادیث صحیحہ کا انتخاب شروع کر دیا اور ہر اس حدیث کو ساقط الاعتبار سمجھ کر نظر انداز کر دیا جس کا مضمون قرآن حکیم کی کسی آیت کے خلاف نظر آیا اور جس کے معنی قرآنی آیت کے مفہوم سے مختلف معلوم ہوئے۔
      الحمدلله کہ صحیح ترین احادیث شریفہ کا مجموعہ مرتب ہوگیا جس کی یہ پہلی جلد ہے جہاں تک انسانی تدّبر تفکر کا تعلق ہے نہایت غور و تحقیق کے ساتھ احادیث شریفہ منتخب کی گئی ہیں۔ اس مجموعہ احادیث صحیحہ میں بعض وہ مشہور حدیثیں پر متفرق فرقوں کی مروّجہ عبادات مبنی ہیں اور اکثر وہ حدیثیں جو باہمی نزاع و افتراق کا باعث ہیں، نہ ملیں گی۔
      حیات انسانی کا کوئی بھی مسئلہ ایسا نہیں جس کے متعلق منافقینِ اسلام نے رخنہ فی الدین اور افتراق بین المسلمین کی  غرض سے حدیث وضع کر کے باسناد ِ قوی شامل صحاح نہ کردی ہو۔ مسلمانوں کے سب فرقے ان ہی مخلوط موضوعات سے جن کا سلسلہٴ اسناد ثقہ اور معتبر راویوں کے نام کے ساتھ حضرت رسول الله ﷺتک پہنچایا گیا ہے اپنی پسند کی وہ حدیثیں جن سے خود ساختہ عقائد اور اختراعی اعمال کی تائید ہوتی ہو اخذ کر کے اپنے مذہب کی بنیاد رکھتے ہیں۔ بعض لوگ تو ان اختلافی حدیثوں  سے حاصل شدہ نزاعی مسئلوں کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔
مقدمہ کےشروع میں کہا گیا تھا کہ مروجہ مذہب اسلام کے ماخذ چار ہیں۔ قرآن، حدیث، تفاسیر، فقہ۔
تعریفات(۱)قرآن آسمانی صحیفہ ہے جس میں دین و شریعت سے متعلق احکام و ہدایات ہیں۔ جو شروع زمانہ سے آج تک بغیر نسخ و بدل کے محفوظ ہے۔
        (۲)حضرت رسول الله ﷺکے اقوال و افعال کو حدیث کہتے ہیں اور صحابہ کرام کے اقوال وافعال کو جب کتاب و سنت سے ماخوذ ہوں اثر کہتے ہیں۔
        (۳)قرآن حکیم کی آیات کے ان کے مطالب و معانی کے بیان کو جو قرآن ہی سے ماخوذ مستنبط ہوں تفسیر کہتے ہیں۔
      (تفسیر بالرائے محض ذہنی موشگافیوں کا مجموعہ ہیں جن میں مجوسی، یہودی، نصرانی۔ اور فلسفی نظریات و تصورات کے علاوہ بعید از عقل و قیاس توہمات و تخیلات شامل ہیں۔)
        (۴)حدیث اور تفسیر کے تطابق و توافق کے ماتحت اعمال کو سنت کہتے ہیں اور امور دینی و مسائل شرعی میں اہل سنّت محدثین و مفسرین کی اجتہادی تاویلات کو فقہ کہتے ہیں۔
       حدیث اور کتب احادیث کا بیان اوپر گزر چکا۔
      تفسیر میں صحابہ کرام نے کتاب الله کے مطالب و معارف آنحضرت ﷺسے جس طرح سنے اسی طرح بغیر کسی آمیزش و اضافہ کے تابعین تک پہنچے۔ مفسرین میں جلیل القدر صحابہ کے بعد مجاہد بہت بلند پایہ مفسر ہیں۔ مجاہد کے بعد سفیان بن عینیہ، عبدالرزاق، ابوبکر بن شیبہ وغیرہ صحابہ کرام اور تابعین کے اقوال کے جامع ہیں۔
      ابن جریر کی تفسیر اقوال کے جامع ہے جس میں محدثین کی روایات بھی شامل ہیں یہ تفسیر سب سے بڑا ماخذ تفسیری اقوال کا ہے۔ اس کے بعد کی تفاسیر میں اسرائیلی روایات و قصص اور بعض ایسی بے سند چیزیں بھی داخل ہوگئیں جن کا دین و شریعت سے دور کا بھی تعلق نہیں۔
      فقہ میں قرآن و حدیث، آثار صحابہ، اور اجماع و قیاس سے استنباط کر کے مسائل حل کئے جاتے ہیں۔
فقہا میں مجتہدانہ مقام امام مالک، امام ابو حنیفہ، امام شافعی، اور امام حنبل کو حاصل ہے۔ ان کے بعد بہت فقہا گزرے ہیں۔
      فقہ میں بعض مرتبہ کسی مسئلہ میں قرآن حکیم کی صریح آیت یا آنحضرت ﷺکی صحیح حدیث یا اثر صحابی کے مقابل فقہ کے مجتہدانہ  قول کو ترجیح دی جاتی ہے اور آیت قرآنی، حدیث نبویﷺ، اور اثر صحابی کی تاویل کی جاتی ہے، ان ہی تاویلات و قیاسات اور مجہتدانہ راویوں نے جداگانہ طریقے اور مختلف راہیں نکال کر امت مسلمہ کی وحتِ ملی میں تفرقہ ڈال دیا، بعض جامد مقلدین فقہ نے سلاطین و ملوک کی خوشامد میں یتیم پوتے کو محرم الارث قراردے کر قرآنِ حکیم کے معنی میں صریح تحریف کی اور اسی طرح فرضی تفسیروں، وضعی حدیثوں، قیاسی تاویلوں، اور اجتہادی رایوں سے بے شمار احکام و مسائل کی صورت ایسی مسخ کردی کہ اصل کا سراغ لگانا مشکل ہوگیا۔
جزوی اور فروعی مسائل سے لے کر محکمات تک کوئی ایک بھی مسئلہ ایسا نہیں جس میں سب اسلامی فرقے متفق ہوں۔
      اس مجموعہٴ احادیث صحیحہ میں عقائد و عبادات، اخلاق و معاملات، معاشرت و معیشت اور تعزیرات و سیاست کی احادیث شریفہ ہیں۔
      الله تبارک و تعالےٰ مسلمانوں کو کتاب و سنّت پر عمل کی توفیق عطافرمائے۔ اور سب مسلمان
"اعتصمو ابحبل الله جمیعا ولا تفرقوا" کی تعمیل کر کے "انماالمومنون اخرة" کا مصداق بنیں۔

 وما علینا الاالبلاغ

اسد الرحمٰن قدسی