| | | |  


بِسْمِ اللهِ الرَّ حْمٰنِ الرَّ حِیْم

کتاب الزکوٰة

زکوٰة کی تاکید اور متعلقہ مسائل (۲۳۶)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے جس شخص کو الله تعالیٰ نے مال عطا فرمایا اور اس نے زکوٰة ادا نہیں کی تو اس کا مال سانپ بن کر اس کے گلے کا طوق ہوگااور اس کو ڈسے گا۔ (بخاری)
   (موتی، جواہرات، گھوڑا، خچر، گدھا، سبزترکاریاں، خود رو قدرتی جڑی بوٹیاں، ادویہ، مشک، عنبر اور خانگی ضروریات کی چیزوں برتن بستر پارچہ جات پوشیدنی اور مکان رہاشی پر زکوٰة نہیں ہے اگر یہی چیزیں تجارتی اغراض کے لئے ہوں تو ان پر زکوٰة واجب ہوگی، اس کے سوا بھی ہر اس چیز پر زکوٰة ہے جس سے مالی منفعت حاصل ہو۔)
   (۲۳۷)حضرت علی کرم الله وجہ سے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے ترکاریوں اور سبزیوں پر زکوٰة واجب نہیں، نہ ان درختوں میں جو کسی مستعار دے دیئے جائیں، دیگر پیداوار اجناس میں بھی تیس من سے کم کی مقدار پر زکوٰةنہیں، کام کے جانوروں پر بھی زکوٰة نہیں جیسے کھیتی باڑی کے بیل اور بودے سواری کے گھوڑے، باربرداری کے خچر گدھے۔ (دارقطنی)
   (۲۳۸)سمرہ ابن جندبسے روایت ہے رسول الله ﷺنے ہم کو حکم دیا ہے کہ جس چیز کو ہم تجارت کے لئے تیار کریں اس کی زکوٰة نکالا کریں۔ (ابوداؤد)
   (۲۳۹)ابوسعید خدریسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ غلّہ اور کھجوریں جب تک ان کی مقدار تیس من نہ ہو زکوٰة نہیں۔ (نسائی)
   (۲۴۰)عبدالله بن عمرسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ جس چیز کو آسمان نے سیراب کیا ہو یا قدرتی چشموں نے، یا خود زمین سرسبز و شاداب ہو اس میں دسواں حصہ زکوٰة واجب ہے اور جس چیز کو کنویں یا نہر سے پانی دیا گیا ہو اس میں پیداوار کا بیسواں حصّہ واجب ہے۔ (بخاری)
   (۲۴۱)حضرت علی کرم الله وجہ سے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے ان گھوڑوں خچروں اور گدھوں پر زکوٰة نہیں جو تجارت کے لئے نہ ہوں اور ادا کرو تم زکوٰة چاندی کی پر چالیس درہم پر ایک درہم اگر وہ دو سو درہم ہوں، یعنی دوسو درہم پر پانچ درہم ، دوسو درہم سے کم پر زکوٰة نہیں، دوسو درہم سے جس قدر زیادہ ہوںپر چالیس پر ایک درہم واجب ہے، اور بھیڑ بکریوں میں پر چالیس پر ایک بھیڑ یا بکری اور گایوں بھینسوں میں ہر تیس پر ایک برس کا بچھڑا یا پاڑا۔ اور چالیس گایوں، بھینسوں میں ایک گائے یا بھینس دو برس عمر کی۔ اور کام کے جانوں میں زکوٰة واجب نہیں۔ (ابوداؤد، ترمذی)
   (۲۴۲)معاذسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ گایوں میں تیس پر ایک برس کا بچھڑا یا بچھیا اور چالیس پر دوبرس کا بیل یا گائے زکوٰة واجب ہے۔ (مشکوٰة)
   (۲۴۳)عبدالله بن عمرسے مروی ہے کہ کسی مال میں زکوٰة واجب نہیں ہوتی جب تک اس پر پورا سال نہ گزر جائے۔ (موطا)
   (۲۴۴)ابوسعید خدری سے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰة نہیں اور پانچ اوقیوں سے کم چاندی میں زکوٰة نہیں اور پانچ وسق سے کم اجناس غلّہ و کھجور میں زکوٰة نہیں۔ (موطا۔ بخاری۔ مسلم)
تشریح (ایک اوقیہ چالیس درہم کا، ہوتا ہے پانچ اوقیہ کے دو سو درہم ہوئے جس کی ساڑھے باون تولہ چاندی ہوتی ہے ۔ جو شخص ساڑھے باون تو لہ چاندی کا مالک ہو اس پر زکوٰة ادا کرنا فرض ہے زر نقد میں چالیسواں حصّہ زکوٰة واجب ہے، زر نقد میں چاندی سونا سکہ رائج الوقت شامل ہیں ہر ملک اور ہر عہد میں زر نقد کا نرخ بدلتا رہتا ہے اس لئے چاندی کو اصل اصول قرار دے کر زر نقد کی زکوٰة ادا کی جائے۔
ساڑھے باون تولہ چاندی کی حاضر الوقت قیمت کا چالیسواں حصّہ زکوٰة ہوگی اور اسی قیمت کا سونا یا رائج الوقت سکہ جس کی ملکیت ہو چالیس حصّہ زکوٰة ادا کرے۔)
(تجارتی مال پر سال پورا ہونے پر قیمت کا اندازہ کر کے چالیس حصّہ زکوٰة ادا کرے۔ اور پیداوار ارضی میں پانچ وسق اور اس سے زائد پر زکوٰة واجب ہے۔ ایک وسق ۶ من کا ہوتا ہے۔ اجناس غلّہ میں دالیں، چاول اور تیل والی چیزیں شامل ہیں۔ پیداوار ارضی میں میں جو اجناس بارانی ہیں ان کا دسواں حصّہ اور جو آبپاشی سے پیدا ہوتی ہیں، ان کا بیسواں حصّہ یا اس کی حاضر الوقت زکوٰة میں ادا کرے۔)
   (جانوروں میں چالیس بھیڑ بکری پر ایک مینڈھا یا بکرا۔ چالیس گائے اور بھینس پر ایک بچھڑا یا پاڑا یا بچھیا یا پاڑی ۔ پانچ اونٹ پر ایک بکرا۔ تجارتی گھوڑوں ، خچروں اور گدھوں پر ان کی حاضر الوقت قیمت کا اندازہ کر کے چالیسواں حصّہ نقد رقم زکوٰة ادا کرے۔)
   (پیداوار ارضی میں معدنیات بھی ہیں جن میں حجریات و فلزات کے علاوہ سیّال اور منجمد اشیاء شامل ہیں۔ پیداوار اراضی کی زرعی اقسام میں دسواں حصّہ زکوٰة ہے اور غیر زرعی اقسام میں چالیسواں حصّہ زکوٰة ہے، غیر زرعی پیداوار یعنی معدنی اشاء کی قیمت پر زکوٰة اس وقت واجب ہے جن ان کی مالیت بیس دینار یا دو سو درہم ہو۔)
   (۲۴۵)ابوہریرہسے روایت ہے رسول الله ﷺنے فرمایا کہ رکاز میں پانچواں حصّہ ہے (موطا)
   (رکاز وہ مدفونہ مال ہے جو بے مشقت حاصل ہو، پانچواں حصّہ خیرات واجب ہے۔ زکوٰة اور خیرات میں فرق ہے، زکوٰة وہ صدقہ ہے جو سال پورا ہونے پر ادا ہوتا ہے اور خیرات وہ صدقہ ہے جس پر ایک برس کی میعاد گزرنا ضروری نہیں۔ حاصل شدہ مال کا پانچواں حصّہ خیرات کرنے کے بعد اس مال کو جمع رکھا جائے یا کاروبار میں لگایا جائے بہرحال سال پورا ہونے پر چالیسواں حصّہ زکوٰة واجب ہوگی۔)
   (وہ اونٹ اور بیل اور پیاڑے جو پانی کھینچنے یا ہل چلانے میں کام آتے ہیں ان پر زکوٰة نہیں بالتو جانوروں میں زکوٰة ہے، اونٹوں میں خواہ نر ہو یا مادہ ہر پانچ پر ایک بکرا یا بکری زکوٰة ہے، چالیس اونٹ پر ایک اونٹ۔ چالیس گایوں بھینسوں پر ایک گائے یا بھینس۔ چالیس بکری میں ایک بھیڑ یا بکری۔ جو جانور زکوٰة میں دیا جائے وہ نہ تو شیرخواہ بچہ ہو، نہ بہت عمر رسیدہ، درمیانی عمر کا تندرست جانور زکوٰة میں نکالا جائے خواہ نر یا مادہ۔)
زکوٰة لینا سادات کے لئے جائز نہیں(۲۴۶)عبدالمطلب بن ربیعہسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ زکوٰة لینا محمد ﷺاور آلِ محمد کے لئے جائز نہیں۔ (مسلم)
   (۲۴۷)ابوہریرہسے روایت ہے حضرت حسننے بچپن میں زکوٰة کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھالی رسول الله ﷺنے منع فرمایا اور کہا زکوٰة کھانا ہمارے لئے نہیں۔ (بخاری و مسلم)
   (۲۴۸)حضرت عائشہسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺنے کے حضور میں کوئی چیز پیش کی جاتی تو دریافت فرماتے کہ یہ ہدیہ ہے یا صدقہ؟ جب معلوم ہوتا کہ ہدیہ ہے تو قبول فرماتے اور اس کا بدلہ دیا کرتے۔ (بخاری)
غیر مستحق کو بھی زکوٰة لینا جائز نہیں (۲۴۹)عبدالله بن عمرسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ زکوٰة کے حقدار نادار غربا اور مساکین ہیں، مالدار کے لئے اور اس شخص کے لئے جب تندرست ہو اور کسب کرنے کی قوت رکھتا ہو زکوٰة لینا جائز نہیں۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ، نسائی، دارمی)
مسکین کی تعریف(۲۵۰)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ مسکین وہ شخص نہیں ہے جو لوگوں سے مانگتا پھرتا ہے، بلکہ مسکین وہ شخص ہے جو اس قدرمال نہ رکھتا ہو کہ جس سے اس کی جائز ضروریات زندگی پوری ہوسکیں اور وہ اپنا محتاج ہونا کسی پر سوال کرنے کی غرض سے ظاہر نہ کرتا ہو (بخاری۔ مسلم)
صدقہ(۲۵۱)ابو موسیٰ اشعریسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ ہر مسلمان پر صدقہ واجب ہے، صحابہ نے عرض کیا رسول الله ﷺکسی کے پاس صدقہ دینے کو کچھ نہ ہو، فرمایا غمگین حاجتمند کی ہر ممکن مدد کرنا، درد مند خواہ کے ساتھ ہمدردی کرنا، دو شخصوں کے درمیان انصاف کرنا اور راستے میں سے کسی موزی چیز کا دور کرنا بھی صدقہ ہے۔ (بخاری و مسلم)
   (۲۵۲)جابراور حذیفہسے روایت ہے کہ فرمایا رسول الله ﷺنے ہر نیکی صدقہ ہے اور یہ امر بھی نیکی میں داخل ہے کہ اپنے چہرے کو بشاش بناکرتو اپنے بھائی سے ملاقات کرے ا ور اپنے ڈول سے اپنے مسلمان بھائی کے برتن میں پانی بھر دے۔، (بخاری و مسلم)