| | | |  


بِسْمِ اللهِ الرَّ حْمٰنِ الرَّ حِیْم

کتاب التعزیرات

تعزیرات (اخلاقی گناہوں کے لئے تازیانہ کی سزا بطور حد مقرر ہے تین ضرب سے سو ضرب تک اور جرائم کی تعزیر کے لئے جرمانہ، قید، قطع دست و پا، ضبھی جائیداد، جلاوطنی، قصاص اور جرمانہ کی سزائیں ہیں۔ جن کی کوئی خاص مقدار و معیار نہیں، جرم کی نوعیت، مجرم کی حالت اور دوسرے تمام واقعات و قرائن کی پیش نظر دی جاتی ہیں جن کو قاضی یا حاکم وقت مطابق حکم شریعت تجویز کرتا ہے۔)
ہدایت(۵۵۷)معاذ بن جبلسے روایت ہے جب ان و رسول اللهﷺنے یمن روانہ فرمایا تو دریافت کیا کہ کوئی معاملہ تیرے سامنے آئے تو کس طرح فیصلہ کرے گا؟ عرض کیا کتاب الله کے موافق فیصلہ کروں گا، فرمایا اگر کتاب الله میں اس بات کو نہ پائے۔ عرض کیا رسول اللهﷺکی سنت کے موافق فیصلہ کروں گا۔ فرمایا سنت رسول میں بھی وہ بات نہ ملے۔ عرض کیا اپنی رائے سے اجتہاد کروںگا اور اجتہاد میں کوتاہی نہ کروں گا۔ (ترمذی۔ ابوداؤد۔ دارمی)
   (۵۵۸)عبدالله بن عمراور ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جب حاکم کسی معاملہ میں فیصلہ کرے یا حکم لگائے تو معاملہ پر خوب غور وخوض کرے اور کتاب و سنت پر نظر رکھے اگر اس کا فیصلہ حق بجانب اور اس کا حکم درست ہوگا تو دو اجرملیں گے۔ اگر فیصلے یا حکم میں اجتہادی غلطی ہو گی تو ایک اجر ملےگا۔ (بخاری و مسلم)
   (قاضی یا حکم وقت کے لئے یہ امر لازمی ہے کہ وہ کسی کا معاملہ میں فیصلہ کرنے یا کسی کو سزا دینے سے قبل پوری تحقیق و تصدیق کرے اور معتبر گواہوں کے بیانات کے بعد حکم جاری کرے)
کسی پاک دامن عورت پر زنا کی تہمت لگانے والے کو چار گواہ پیش کرنے ہوں گے اور دوسرے واقعات و حادثات کے ثبوت میں دو معتبر گواہ کافی ہوتے ہیں کبھی بعض سنگین جرائم کے ثبوت کے لئے زیادہ گواہوں کے بیانات اور اطلاعات و معلومات کی ضروت بھی پیش آتی ہے، کبھی معمولی جھگڑوں اور خانگی قضیوں کے ثبوت میں ایک معتبر گواہ کا حلفیہ بیان بھی کافی ہوتا ہے۔
گواہی(۵۵۹)امام محمد باقرسے روایت ہے رسول اللهﷺنے ایک قسم اور ایک گواہ کے بیان پر فیصلہ صادر فرمایا۔ (موطاء)
   (جب کسی معاملہ یا قضیہ میں ایک ہی گواہ ہو تو قاضی یا حاکم وقت مدعی سے قسم لے کر اور ایک گواہ پر فیصلہ کرے گا۔مدعی کی قسم ایک گواہ کی قائم مقام متصور ہوگی۔ صرف بعض اخلاقی گناہوں اور خفیف جرائم میں ایک قسم اور گواہ پر حکم جاری ہوگا، اہم معاملات اور شدید جرائم میں ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کرنا درست نہیں ہوگا۔)
جرمانہ اور حرجانہ (عموماً خفیف جرائم میں جرمانہ کی سزا دی جاتی ہے، جرمانہ اور حرجانہ میں فرق ہے جرمانہ کی رقوم سرکاری تحویل میں جمع ہوکر انسداد جرائم کی ضروریات میں صرف ہوتی ہیں اورحرجانہ کی مضرت رسیدہ شخص یا اس کے وارثوں یا اس کے وارثوں کو دلایا جاتا ہے۔)
سزائیں (قاضی یا حاکم وقت مجاز ہے چاہے تو جرم کی نوعیت کے لحاظ سے مجرم کے لئے ایک ساتھ دونوں سزائیں تجویز کرے۔ شدید جرائم میں جرمانہ اور قید یا محض قید یا قید سخت یا حبس دوام کی سزادی جاتی ہے۔ قطع یدیاجلاوطنی کی سزا عادی مجرموں اور مفسد لوگوں کے لئے ہے۔ قتل و غارتگری، بغاوت، بلوہ، اور ارثداد میں حبس دوام یا جلاوطنی یا سزائے موت دی جاتی ہے۔)
شریعت میں جو سزائیں بطور حد یا تعزیر مقرر و متعین ہیں ان سے کوئی امیر و غریب اور خاص و عام مستشنےٰ نہیں۔ اگر کوئی گناہ یا جرم لاعلمی میں یا اتفاقیہ یا کسی شدید مجبوری میں سرزد ہوجائے جس میں مجرمانہ نیت قطعاً نہ ہو تو بعد ثبوت شرعی قابل معافی ہے۔
جرائم (جرائم کی ذیل میں نقصان رسانی، سرقہ، قتل، بغاوت، بلوہ اور نقص امن عامہ کے علاوہ فتنہ ارتداد بھی قابل تعزیر ہے۔
نقصان رسانی میں مارپیٹ، بلوہ، آتش زدگی یا کسی طرح کا گزند ضرر جس سے مالی یا جسمانی نقصان واقع ہو شامل ہے۔ اغوا، تغلب، غضب، جعلسازی اور دھوکہ دہی بھی بڑے جرائم ہیں۔ سرقہ میں چوری ڈکیتی اور نقب زنی کے علاوہ خیانت بھی شامل ہے۔ قبل اسلام اخلاقی گناہوں اور مدنی جرائم کے لئے رجم قطع ید، صلیب اور سوختنی کی سزائیںمقرر تھیں، یہود و نصاریٰ کے مذہبی قوانین میں بھی رجم صلیب اور قید کی سزائیں تھیں۔ اسلام میں رجم یعنی سنگساری اور سوختنی یعنی زندہ جلاڈالنا ممنوع ہوا۔ عادی چور کے لئے آخری سزا ہاتھ پاؤں کاٹنا اور کسی شدید جرم کی آخری سزا سولی دیا جانا قائم رہا ہے۔ جرمانہ، قید، حرجانہ، تازیانہ، قطع ید، قرقی، حبس دوام، جلاوطنی اور موت کی سزائیں ہر ملک میں اور ہر زمانہ میں جاری رہیں اور آج بھی تھوڑے رد وبدل کے ساتھ جاری ہیں۔ اسلام کے شرعی قانون اور متمدن ممالک کی مروجہ قوانین میں کچھ زیادہ اور شدید اختلاف نہیں ہے اگر اختلافی دفعات پر سنجیدگی سے نظر ثانی کی جائے تو آسانی سے شرعی قانون مدوّن ہوسکتا ہے۔ فقیہوں اور مجتہدوں کے نزاعی اور اختلافی مسائل قرآن حکیم اور احادیث صحیحہ کی مطابقت اور سنت نبویﷺکی اتباع میں حل ہوسکتے ہیں۔
بدترین لوگ(۵۶۰)ابوسعید خدریاور انس بن مالکسے روایت ہے رسو لاللهﷺنے فرمایا میری امت میں اختلاف و افتراق پیدا ہوگا ان میں سے ایک فرقہ ایسا ہوگاجو بظاہر تو بات اچھی کہے گا۔ لیکن بباطن اس کا عمل برا ہوگا۔ وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا، لوگوں کو قرآن کی طرف بلائیں گے اور سنت رسول ترک کرنے کی ترغیب دیں گے۔ یہ لوگ مذہب اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ یہ لوگ بدتین مخلوقات میں سے ہوں گے۔ (ابوداؤد)
   (یہ حدیث شریف تارکین سنت اور منکرین حدیث کے حق میں ہے)