| | | |  


بِسْمِ اللهِ الرَّ حْمٰنِ الرَّ حِیْم

کتاب الصیام

رویت ہلال(۱۵۸)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے روزہ رکھو چاند دیکھ کر اور ختم کرو چاند دیکھ کر، اگر ابر ہو تو شعبان کے تیس دن پورے کرو اسی طرح اگر ابر ہو تو پورے تیس روزے رکھو۔ (بخاری و مسلم)
   (۱۵۹)حضرت عائشہسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺشعبان کے دنوں کا شمار رکھتے تھے بڑی احتیاط کے ساتھ، پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھتے تھے، اگر ابر ہوتا اور انتیس کا چند نظر نہ آتا تو پورے تیس دن کے روزے رکھتے۔(ابوداؤد )
   (۱۶۰)ابن عباسسے روایت ہے ایک اعرابی نے رسول الله ﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں نے آج رمضان کا چاند دیکھا ہے، رسول الله ﷺنے پوچھا کیا تو اقرار کرتا ہے کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں، اس نے کہا ہاں، پھر فرمایا کیا تو اس کا اقرار کرتا ہے کہ محمد ﷺالله کے رسول ہیں اس نے کہا ہاں، اس کے بعد بلالکو حکم دیا کہ لوگوں کو آگاہ کردو کہ کل سے روزہ رکھیں۔ (ابوداؤد، نسائی، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی)
ممانعت (۱۶۱)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ تم میں سے کوئی شخص رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھے مگر وہ شخص روزہ رکھ سکتا ہے جو ہمیشہ روزہ رکھنے کا عادی ہو۔ (بخاری و مسلم)
   (۱۶۲)ابوہریرہسے روایت ہے رسول الله ﷺصوم الوصال یعنی روزہ طے رکھنے سے منع فرماتے تھے، ایک شخص نے عرض کیا یارسول الله ﷺآپ خود توروزہ پر روزہ رکھتے ہیں، فرمایا میرا رب مجھے کھلاتاپلاتاہے۔ (بخاری و مسلم)
افطار(۱۶۳)حضرت عمرسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے جب مشرق میں سیاہی آجائے اور آفتاب مغرب میں غروب ہوجائے تو روزہ افطار کرو۔ (بخاری و مسلم)
   (۱۶۴)سلمان بن عامرسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کھجور سے روزہ افطار کرو کہ برکت کا سبب ہے، اگر کھجور نہ ملے تو پانی سے افطار کرو کہ پاک کرنے والا ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد، احمد، ابن ماجہ، دارمی)
سحری (۱۶۵)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ مومن کا بہترین سحر کا کھانا کھجور ہے۔ (ابوداؤد)
ہدایت(۱۶۶)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے جو شخص روزہ میں جھوٹ بولے اور برے اعمال و افعال نہ چھوڑے اس کا روزہ قبول نہیں ہوتا۔ (بخاری)
   (۱۶۷)حضرت عائشہحضرت حفصہاور عبدالله بن عمرسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ جب تک نیت نہ کرے قبل صبح صادق کے روزہ درست نہیں ہوتا۔ (موطا)
افطار(۱۶۸)حمید بن عبدالرحمٰن سے مروی ہے کہ حضرت عمراور حضرت عثمانرمضان میں پہلے مغرب کی نماز پڑھتے تھے جب سیاہی ہوتی تھی مشرق کی طرف پھر بعد نماز مغرب کے روزہ افطار کرتے تھے۔ (موطا)
مسواک(۱۶۹)عامر بن ربیعہسے مروی ہے کہ میں نے رسول الله ﷺکو اتنی مرتبہ روزہ میں مسواک کرتے دیکھا ہے کہ شمار نہیں کرسکتا۔ (ترمذی۔ ابوداؤد)
سفرمیں روزہ(۱۷۰)حضرت عائشہ صدیقہسے روایت ہے حمزہ بن عمرونے رسول الله ﷺسے دریافت کیا کہ کیا میں سفر میں روزہ رکھوں، فرمایا جی چاہے رکھ، جی نہ چاہے تو نہ رکھ حمزہ کثرت سے روزہ رکھا کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم)
   (۱۷۱)انس بن مالکسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ بیمار، معزور، مسافر رمضان میں روزہ قضا کرسکتے ہیں، تندرست و توانا اشخاص کو روزہ رکھنا ہی چاہیے خواہ سفر میں ہوں یا حضر میں۔ (ابوداؤد۔ ترمذی۔ نسائی۔ ابن ماجہ)
قضا روزے(۱۷۲)حضرت عائشہاور ابن عمرسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کوئی شخص فوت ہوجائے اور اس کے ذمہ قضا روزے ہوں تو ورثاٴ کو چاہیے کہ ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائیں۔ (ترمذی۔ بخاری۔ مسلم)
عید کے دن روزہ منع ہے(۱۷۳)ابوسعید خدریسے روایت ہے رسول الله ﷺنے فرمایا عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن روزہ رکھنا جائز نہیں۔ (بخاری و مسلم)
معمولات نبوی ﷺ(۱۷۴)ابن عباسسے روایت ہے رسول الله ﷺہر ماہ کی تیرہ، چودہ، پندرہ کے روزے کبھی نہ چھوڑتے تھے خواہ سفر میں ہوں یا حضر میں۔ (نسائی)
   (۱۷۵)حضرت عائشہ صدیقہسے روایت ہے رسول الله ﷺرمضان کے آخری عشرہ میں غیر معمولی طور سے عبادات میں مشغول ہوتے تھے۔ (مسلم)
   (۱۷۶)انسسے روایت ہے رسول الله ﷺرمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ ایک سال اعتکاف نہیں کیا تھا جب دوسرا سال آیا تو بیس دن کا اعتکاف فرمایا۔ (ترمذی۔ ابوداؤد۔ ابن ماجہ)
اعتکاف (۱۷۷)نافعسے مروی ہے کہ اعتکاف بغیر روزے کے درست نہیں کیونکہ الله جل جلالہ نے اپنے پاک کلام میں اعتکاف کاذکر روزوں کے ساتھ فرمایا ہے، کھاؤ پیو اس وقت تک کہ سفید خط نمایاں ہوفجر کے سیاہ خط سے پھر پورا کروں روزوں کو رات تک اور نہ مباشرت کرو اپنی عورتوں سے جب تم معتکف ہو مسجدوں میں۔ (موطا)
   (۱۷۸)ابن عباسسے روایت ہے کہ فرمایا رسول الله ﷺنے جو لوگ اعتکاف کرتے ہیں وہ گناہوں سے باز رہتے ہیں اور ان کے لئے نیکیاں جاری کی جاتی ہے۔ (ابن ماجہ)
صدقہٴ فطر (۱۷۹)ابن عباسسے روایت ہے کہ فرمایا رسول الله ﷺنے ہر مسلمان مرد و عورت پر صدقہٴ فطر واجب ہے۔ (ابوداؤد)
   (۱۸۰)ابن عمرسے روایت ہے فرمایا رسولالله ﷺنے کہ صدقہٴ فطر نماز عید سے پہلے مساکین کو دے دیا جائے۔ (ابوداؤد)
   (۱۸۱)ابن عباسسے مروی ہے کہ صدقہٴ فطر کی مقدار ہر ایک کی طرف سے کھجور اور دیگر اجناس جو وغیرہ میں ایک صاع (تقریباً چار سیر)اور گندم میں نصف صاع (تقریباً دو سیر)مقرر ہے۔ (ابوداؤد۔ نسائی)
   (۱۸۲)عمرو بن شعیباور ثعلبہ بن عبدالله سے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ صدقہٴ فطر دو شخصوں کی طرف سے ایک صاع گندم ہے اور ایک شخص کی طرف سے گندم نصف صاع (تقریباً دو سیر)اور دوسری اجناس فی کس ایک صاع (تقریباً چار سیر)ہے۔ (ترمذی۔ ابوداؤد)
   (ہر ملک کے اوزان اور پیمانے مختلف ہیں، اجناس کے نرخ بھی بدلتے رہتے ہیں، اور پیداوار بھی اطراف ارض کی جداگانہ ہیں اس لئے اگر مقررہ اندازہ سے کچھ زیادہ ہی نکالا جائے تو بہتر ہے کیونکہ صدقہ کی غرض و غایت اپنا تزکیہ اور مساکین کی امداد ہے۔)
رمضان کی فضلیت(۱۸۳)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ جب شروع ہوتا ہے رمضان کا مہینہ تو رحمت کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ (بخاری و مسلم)
تلاوت قرآن(۱۸۴)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے جس شخص نے عقیدت و ایمان کے ساتھ روزے رکھے اور ثواب کی نیت سے تراویح پڑھیں اورتلاوت قرآن کی اس کے پہلے گناہ بخشے جائیں گے۔ (بخاری و مسلم)
   (۱۸۵)ابن عباسسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے وہ شخص جس کے دل میں قرآن میں سے کچھ نہ ہو ویران گھر کی مانند ہے۔ (ترمذی۔ دارمی)
سورہ فاتحہ کی فضلیت (۱۸۶)ابوہریرہسے روایت ہے رسول الله ﷺنے ابی بن کعب سے پوچھا تم نماز میں کیا پڑھتے ہو۔ ابی بن کعب نے سورہ فاتحہ پڑھ کر سنائی، فرمایا ایسی کوئی سورة نہ کتاب توریت میں ہے اور نہ زبور میں نہ انجیل میں، اس سورة مبارکہ میں سات آیتیں ہیں جو بار بار نماز میں پڑھی جاتی ہیں اور یہ سورة قرآن عظیم ہے جو مجھ کو دیا گیا ہے۔ (ترمذی)
   (۱۸۷)عبدالملک بن عمیرسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے فاتحتہ الکتاب یعنی سورہٴ الحمد شفا ہے پر ظاہری اور باطنی بیماری سے۔ (دارمی۔ بیہقی)
تلاوت(۱۸۸)جندب بن عبداللهسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے قرآن مجید کو اس وقت تک پڑھو جب تک اس میں دل لگارہے، جب طبعیت گھبرا جائے تو اٹھ کھڑے ہو۔ (بخاری و مسلم)
   (۱۸۹)حضرت علی کرم الله وجہ سے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ جس نے قرآن پڑھا اور یاد کیا پھر اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھا وہ جنت میں داخل ہوگا اور اس کی سفارش اس کے دس گنہگار گھر والوں کے لئے قبول ہوگی۔ (احمد۔ ترمذی۔ ابن ماجہ۔ دارمی)
خوش الحانی(۱۹۰)براء بن عاذبسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے زینت دو قرآن کو اپنی خوش الحانی سے اور ترتیل و تجوید سے قرآن کو پڑھو یعنی ٹھر ٹھر کر صحیح تلفظ کے ساتھ۔(احمد، ابوداؤد۔ ابن ماجہ۔ دارمی)
ترتیل و تجوید(۱۹۱)حذیفہسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے قرآن کو عربی لہجہ میں پڑھو ترتیل و تجوید اور خوش الحانی کے ساتھ اور بچاؤ اپنے آپ کو عشقیہ نغموں اور اہل کتاب کے طریقوں سے قرآن پڑھنے میں۔ میرے بعد ایک قوم آئے گی جو قرآن کواس طرح سے ترنم سے پڑھے گی جس طرح راگ راگنیاں گائی جاتی ہیں اور نوحے پڑھے جاتے ہیں، حالت یہ ہوگی کہ قرآن ان کے حلقوم سے آگے نہ جائے گا یعنی دل پر اس کا کوئی اثر نہ ہوگا ان لوگوں کے دل فتنہ میں پڑے ہوں گے اور ان لوگوں کے دل بھی جو اس طرح پڑھنے کو سن کر خوش ہوں گے۔ (ابوداؤد۔ بیہقی)
عاقبت(۱۹۲)بریدہسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے جو شخص قرآن کو دنیا حاصل کرنے کا ذریعہ بنائے وہ قیامت کے دن اس صورت میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت نہ ہوگا۔ (بیہقی)
قرآن قولِ فیصل ہے(۱۹۳)حضرت علی کرم الله وجہ سے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ جس متکبر نے قرآن کو چھوڑا ہلاک ہوگا اور جس نے قرآن کے سوا کسی دوسری چیز میں ہدایت کی راہ تلاش کی گمراہ ہوگا۔ قرآن حکیم حق و باطل کے درمیان قول فیصل ہے، قرآن کی فصاحت و بلاغت کو کوئی کلام نہیں پہنچتا، قرآن مجید فرقان حمید ایسا کلام ہے کہ جب اس کو جنوں نے سنا تو حیرت زدہ ہو کر کہنے لگے ہم نے قرآن عجیب سنا جو ہدایت کی راہ دکھاتا ہے پس ہم ایمان لائے۔ (ترمذی۔ دارمی)
مسئلہ (۱۹۴)ابوسعیدسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے تین چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا بھول کی حالت میں کچھ کھالینا یا پی لینا، خود بخود قے ہونا۔ احتلام۔ (ترمذی)
   (۱۹۵)انسسے روایت ہے ایک شخص نے رسول الله ﷺسے عرض کیا میری آنکھوں میں تکلیف ہے کیا روزہ کی حالت میں سرمہ لگا لوں۔ فرمایا ہاں لگے لے۔ (ترمذی)
   (۱۹۶)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے جو شخص روزے میں بھول کر کچھ کھا پی لے اور وہ اپنے روزے کو پورا کرے۔ (بخاری و مسلم)
افطار کی دعا(۱۹۷)معاذ بن زیدسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺروزہ افطار کرتے وقت پڑھتے۔ اللَّھَم لکَ صَمْتُ وَعَلٰی رِزقِکَ اَفْطَرْتُ (ابوداؤد)
مسئلہ(۱۹۸)ابوہریرہاور ابن عباسسے مروی ہے کہ جس شخص کے روزے رمضان کے کسی شرعی عذر سے قضا ہوئے ہوں تو جتنے روزے قضا ہوئے ان کو خواہ مسلسل لگاتار رکھے یا متفرق دونوں میں رکھے جائز ہے۔ (موطا)
ممانعت(۱۹۹)عبدالله بن عمرسے مروی ہے کہ روزہ دار کو اپنی بی بی سے بوس و کنار منع ہے۔ (موطا)
مسئلہ(۲۰۰)ابوہریرہ، ابن عباس، ابن عمرسے مروی ہے کہ کوئی شخص شب میں محتلم ہو یا اپنی بی بی سے ہم بستری کرے اور علی الصبح غسل نہ کر سکے تو بحالت جنب روزہ رکھ سکتا ہے۔ (بیہقی)
کفارہ (۲۰۱)ابوہریرہسے روایت ہے کہ اگر کوئی شخص جماع سے یا کسی دوسرے ممنوع امر سے روزہ توڑ ڈالے تو اس پر کفارہ لازم ہے لگاتار ساٹھ روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے (موطا)
قضا(۲۰۲)انس بن مالکسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے مسافر اور بیمار کو رخصت ہے روزہ قضا کرنے کی (حائضہ اور حاملہ بھی بیمار کی ذیل میں ہے)اور دودھ پلانے والی عورت کو اجازت اگر چاہے تو روزہ رکھے اور اگر نہ رکھ سکے تو فدیہ دے یا پھر قضا کرے۔ (ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
   (کبیر سن مرد وعورت جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں ان پر روزہ معاف ہے اگر صاحب استطاعت ہوں تو پورے رمضان روزانہ ایک مسکین کو کھانادیں۔)