| | | |  


بِسْمِ اللهِ الرَّ حْمٰنِ الرَّ حِیْم

کتاب الصلوٰة

ہدایت(۴۲)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے جب تکبر ہو نماز کی تو دوڑتے ہوئے نہ آؤ بلکہ آہستہ چلو اور آسانی سے جتنی نماز تم کو ملے پڑھ لو اور جو رہ جائے اس کو پورا کرلو کیوں کہ جب کوئی نماز کا قصد کرتا ہے تو وہ نماز میں ہی شمار ہوتا ہے۔ (موطا)
موسمی رعایت(۴۳)نافعسے روایت ہے کہ عبدالله بن عمرنے اذان دی نماز کی رات کو جس میں سردی اور ہوا بہت تھی پھر کہا کہ نماز پڑھ لو اپنے اپنے ڈیروں میں پھر کہا ابن عمرنے کہ رسول الله ﷺحکم کرتے تھے مؤذن کو جب رات ٹھنڈی ہوتی تھی یا پانی برستا تھا یہ پکارے کہ نماز پڑھ لو اپنے اپنے ڈیروں میں۔ (موطا)
   (۴۴)جابر بن عبداللهسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے جس شخص نہ پائے دو کپڑے تو ایک ہی کپڑا لپیٹ کر نماز پڑھے اگرکپڑا چھوٹا ہو تو اس کی تہ بند کرلے۔ (موطا)
   (۴۵)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے جب نماز پڑھائے تم میں سے کوئی شخص تو چاہیے کہ تخفیف کرے کیونکہ جماعت میں بیمار اور ضعیف اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں اور جب تنہاپڑھے تو جتنا چاہے طول کرے۔ (موطا)
نماز کی فضلیت(۴۶)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ اگر کسی کے دروازہ پر نہر ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو کیا اس کے جسم پر کچھ میل باقی رہے گا، صحابہ نے عرض کیا ایسی حالت میں کچھ بدن پر میل کچیل باقی نہ رہے گا۔ فرمایا بس یہی کیفیت ہے پانچوں نماز کی، معاف کرتا ہے الله تعالیٰ ان کے سبب سے صغیرہ گناہوں کو۔ (بخاری و مسلم)
بہترین عمل(۴۷)ابن مسعودسے روایت ہے میں نے پوچھا رسول الله ﷺسے کہ الله کے نزدیک کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ فرمایا وقت پر نماز پڑھنا۔ پھر میں نے پوچھا کون سا عمل بہتر ہے؟ فرمایا ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنا، پھر میں نے پوچھا اس کے بعد کون سا کام اچھا ہے، فرمایا جہاد کرنا۔ (بخاری و مسلم)
ترک نماز کفر ہے(۴۸)جابرسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ مسلمان اور کفر کے درمیان صرف نماز کی دیوار حائل ہے اور ترکِ نماز اس فرق کو دور کردیتا ہے۔ (مسلم)
اذان و تکبیر(۴۹)جابرسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے بلالسے کہ جب تو اذان کہے تو ٹھہر ٹھہر کر کہہ اور جب تکبیر کہے تو جلدی جلدی کہہ، اذان اور تکبیر کے درمیان اتنا فاصلہ رکھ کہ فارغ ہوجائے کھانے والا اپنے کھانے اور قضائے حاجت کرنے والا اپنی حاجت رفع کرنے سے (ترمذی)
اذان و امامت(۵۰)مالک بن خویرثسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ تم لوگ اسی طرح نماز پڑھا کرو جس طرح تم نے مجھ کو نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ جب نماز کا وقت ہو تو تم میں سے ایک شخص اذان کہے اور جو تم میں سب سے بزرگ ہو وہ تمہاری امامت کرے۔ (بخاری و مسلم)
قبلہ(۵۱)ابن عباسسے روایت ہے فتح مکّہ کے دن جب رسول الله ﷺکعبہ میں داخل ہوئے تو اس کے ہر گوشہ میں دعا مانگی اور باہر نکل آئے پھر باہر آکر کعبہ کے سامنے دو رکعت نماز پڑھی اور فرمایا یہ ہے قبلہ(بخاری و مسلم)
نبی کریم ﷺکی نماز(۵۲)حضرت عائشہسے روایت ہے رسول الله ﷺنماز کو شروع کرتے تکبر سے اور شروع کرتے قراة کو الحمد سے اور جب رکوع کرتے تو سر کو نہ اونچا رکھتے نہ پست بلکہ درمیانی حالت میں رکھتے اور بیٹھنے کی حالت میں اپنے بائیں پاؤں کو بچھا لیتے اور داہنے پاؤں کو کھڑا رکھتے اور منع فرماتے دونوں پاؤں پر بیٹھنے سے اور دونوں ہاتھوں کو سجدہ میں اس طرح زمین پر پھیلانے سے بھی منع فرماتے جس طرح درندے بچھا لیتے ہیں اور نماز کو سلام پر ختم فرماتے۔ (مسلم)
   (۵۳)ابوہریرہسے روایت ہے کہ جس وقت رسول الله ﷺنماز کو کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے یعنی الله اکبر پھر رکوع میں جاتے ہوئے تکبیر کہتے پھر رکوع سے اٹھتے ہوئے سمع الله لمن حمدہ کہتے پھر جب پوری طرح کھڑے ہوجاتے ربنا لک الحمد کہتے پھر سجدہ میں جاتے ہوئے تکبر کہتے پھر سجدہ سے سر اٹھاتے ہوئے تکبیر کہتے اسی طرح ساری نماز میں کرتے یہاں تک کہ نماز پوری کرلیتے۔ (بخاری و مسلم)
   (۵۴)رفاعہ بن رافعسے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول الله ﷺمجھ کو بتائیے کہ نماز کسی طرح پڑھوں؟ فرمایا جب تو متوجہ ہو قبلہ کی طرف تو الله اکبر کہہ پھر سورہٴ فاتحہ پڑھ کر قرآن میں سے کچھ اور پڑھ جب تو رکوع کرے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے زانوؤں پر رکھ اور پشت کو ہموار رکھ پھر جب تو سر کو اٹھائے تو اپنی پشت کو سیدھا رکھ اور سر کو اٹھا کر سیدھا کھڑا ہوجا کہ کمر کی ہڈیاں اپنی جگہ پر آجائیں پھر جب سجدہ کرے تو اطمینان سے سجدہ کر پھر جب سجدہ سے سر کو اٹھائے تو اپنے بائیں پہلو پر بیٹھ اسی طرح ہر ایک رکن کو اطمینان سے ادا کر۔ (مشکوٰة)
رفع ید ین(۵۵)وائل بن حجرسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺجس وقت نماز کو کھڑے ہوئے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو دونوں شانوں تک اٹھایا اور ہاتھ کے انگوٹھوں کو کانوں کی لو کے برابر رکھا پھر الله اکبر کہا۔ (ابوداؤد)
   (۵۶)علقمہسے روایت ہے کہ ابن مسعودنے ہم سے کہا کیا میں تم کو رسول الله ﷺکی سی نماز پڑھاؤں چنانچہ انہوں نے نماز پڑھائی اور صرف ایک مرتبہ ہاتھ اٹھائے تکبیر تحریمہ کے ساتھ۔ (ترمذی۔ ابوداؤد۔ نسائی)
   (۵۷)ابوحمید ساعدیسے روایت ہے جب رسول الله ﷺنماز کو کھڑے ہوتے تو قبلہ کی جانب متوجہ ہوتے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے اور الله اکبر کہتے۔ (ابن ماجہ)
قراٴت فاتحہ(۵۸)انسسے روایت ہے کہ رسول اللهﷺ۔ ابوبکراور عمرنماز کو الحمد الله رب العالمین سے شروع کرتے تھے۔ (مسلم)
   (۵۹)ابوقتادہسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے تھے یعنی ہر رکعت میں الحمد اور ایک سورہ اور آخری دو رکعتوں میں صرف الحمد پڑھتے تھے اور اسی طرح عصر اور عشاء کی نماز میں کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم)
رکوع و سجود(۶۰)ابن مسعودسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو رکوع میں کہے سبحان ربی العظیم تین بار پس اس کا رکوع پورا ہوا ور جب سجدہ کرے تو سجدہ میں کہے سبحان ربی الاعلیٰ تین بار پس سجدہ پورا ہوگیا تین تین بار کہنا ادنیٰ درجہ ہے۔ (ترمذی۔ ابو داؤد۔ ابن ماجہ)
   (۶۱)ابو قتادہ سے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ چوری کرنے کے اعتبار سے بہت بڑا چور وہ ہے جو اپنی نماز میں چوری کرے، صحابہنے عرض کیا یارسول الله ﷺنماز میں سے وہ کیوں کر چراتا ہے۔ فرمایا نماز میں چوری یہ ہے کہ رکوع و سجود کو پوری طرح نہ کرے۔ (مسند احمد)
سجدہ(۶۲)براء بن عازبسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ جب تو سجدہ کرے تو رکھ زمین پر اپنی ہتھیلیاں اور اونچا رکھ کہنیوں کو(مسلم)
   (۶۳)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ بندہ اپنے سجدے میں الله سے قریب تر ہوتا ہے اس لئے سجدہ میں زیادہ دعا کیا کرو(مسلم)
   (۶۴)ابن عباسسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺدونوں سجدہ کے درمیان رب اغفرلی و ارحمنی کہتے تھے۔ (ابوداؤد)
قراٴت خلف الامام(۶۵)ابوہریرہسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺایک مرتبہ جہری نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کیا تم میں سے کسی نے نماز میں میرے ساتھ ساتھ قراٴت کی تھی ایک شخص نے کہا ہاں یارسول الله ﷺمیں ساتھ ساتھ پڑھتا تھا، فرمایا جب ہی میں دل سے محسوس کرتا تھا کہ مجھ سے چھینا جاتا ہے قرآن۔ لوگوں نے ارشاد مبارک سننے کے بعد موقوف کردیا قراٴت کرنا جہری نماز میں امام کے پیچھے (موطا)
سجدہ سہو(۶۶)عطا بن یسارسے روایت ہے کہ فرمایا رسول الله ﷺنے جب شک ہو کسی کو تین رکعت پڑھی یا چار تو چاہیے ایک رکعت اور پڑھ لے اور سلام سے قبل دو سجدےکرلے۔ (موطا)
   (۶۷)ابوہریرہسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺنے فرمایا بے شک تم میں سے جب کوئی شخص کھڑا ہوتا ہے نماز کو آتا ہے شیطان اس کے پاس اور بھلا دیتا ہے کہ کتنی رکعتیں پڑھیں پس جب تم میں سے کسی کو ایسا اتفاق ہو تو دوسجدے کرو بیٹھے ہوئے۔ (موطا)
   (۶۸)مغیرہ بن شعبہسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ جب امام دو رکعت پڑھ کر بغیر قعدہ میں بیٹھے ہوئے کھڑا ہوجائے اس سے پہلے کہ پوری طرح سیدھا کھڑا ہو اس کو یاد آجائے تو بیٹھ جائے اور اگر سیدھا کھڑا ہوگیا ہے تو نہ بیٹھے اور دوسجدے سہو کے کر لے (ابوداؤد۔ ابن ماجہ)
جماعت(۶۹)ابوسعیدسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ جب تین آدمی ہوں تونماز کے لئےایک امام بن جائے جو زیادہ تعلیم یافتہ نہ ہو۔ (مسلم)
دوبارہ نماز(۷۰)جابرسے روایت ہے کہ معاذ بن جبلرسول الله ﷺکے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے اور پھر اپنی قوم میں جاکر نماز پڑھایا کرتے تھے (بخاری و مسلم)
   (۷۱)یزیدبن اسودسے روایت ہے کہ میں رسول الله ﷺکے ساتھ حج میں تھا، صبح کی نماز میں نے رسول الله ﷺکے ساتھ پڑھی، بعد نماز دو شخصوں کو دیکھا جو علیحدہ بیٹھے تھے اور جماعت میں شامل نہ ہوئے رسول الله ﷺنے ان سے پوچھا کہ تم کو کسی چیز نے ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا۔ انہوں نے کہا یا رسول الله ہم نماز پڑھ کر آئے تھے، فرمایا جب تم اپنے مقام پر نماز پڑھ لو اور مسجد میں ایسے وقت آؤ کہ جماعت ہوتی ہو تو نماز میں شامل ہوجاؤ یہ نماز تمہارے لئے نفل ہوگی۔ (ترمذی، نسائی)
سنت فجر(۷۲)حضرت عائشہسے روایت ہے کہ فرمایا رسول الله ﷺنے نوافل میں سب سے زیادہ حفاظت صبح کی دو سنتوں کی فرماتے تھے یعنی ہمیشہ پڑھتے۔ (بخاری و مسلم)
سنت ظہر(۷۳)حضرت عائشہسے روایت ہے کہ فرمایا یارسول الله ﷺنے ظہر کے بعد کی دو رکعتیں کبھی ترک نہیں فرمائیں۔ (بخاری و مسلم)
نماز جمعہ(۷۴)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ جو شخص تم میں سے جمعہ کی نماز پڑھے اس کو چاہیے کہ بعد نماز جمعہ چار رکعتیں (ظہر کی)پڑھے (مسلم)
سنت عصر(۷۵)حضرت علیسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺعصر کی نماز میں فرض سے قبل دو رکعتیں پڑھتے تھے (ابوداؤد)
مغرب و عشاء(۷۶)ابن عباسسے روایت ہے کہ فرمایا رسول الله ﷺنے ادبار النجوم سے مراد نماز فجر سے قبل کی دو رکعتیں اور ادبارالسجود سے مراد مغرب و عشاء کے بعد کی دو رکعتیں ہیں۔ (ترمذی)
نوافل مسنونہ(۷۷)عبدالله بن شفیقسے روایت ہے کہ میں نے رسول الله ﷺکی نفل نمازوں کی تعداد رکعت کے بارے میں ام المومنین حضرت عائشہسے دریافت کیا، انہوں نے کہا رسول الله ﷺظہر کے فرض مسجد میں پڑھا کرگھر میں تشریف لاتے اور دو رکعتیں پڑھتے، مغرب کی نماز پڑھا کر گھر میں آتے اور دو رکعتیں پڑھتے۔ پھر عشاء کی نماز پڑھا کر گھر میں آتے اور دو رکعتیں پڑھتے، آخر شب میں تہجد پڑھتے، کبھی آٹھ رکعتیں اور اکثر بارہ رکعتیں اور اس کے بعد ایک رکعت وتر پڑھتے اور جب صبح ہوتی تو دو رکعت فجر کے فرض سے قبل پڑھتے اور مسجد تشریف لے جا کر صبح کی نماز پڑھاتے اور عصر سے قبل گھر میں دو رکعتیں پڑھتے پھر مسجد میں جا کر نماز پڑھاتے تھے۔ (ابوداؤد۔ مسلم)
   (۷۸)اّم جبیبہسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے جو شخص ہر فرض نماز کے ساتھ دو رکعتیں لازم کر لے (فجر و عصر میں فرض سے قبل اور ظہر و مغرب و عشاء میں بعد فرض)اس کا مقام جنت میں ہوگا۔ (ترمذی و مسلم)
   (۷۹)حذیفہسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ ہر فرض نماز کے ساتھ کی دو رکعتوں کو فرض سے متصل یعنی کسی سے کلام کئے بغیر جلد پڑھ لو۔ (بیہقی)
   (۸۰)مسروقسے روایت ہے کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہسے رسول الله ﷺکی نماز شب کی بابت دریافت کیا، فرمایا اکثر تیرہ رکعتیں اور کبھی نو رکعتیں پڑھتے تھے جن میں وتر بھی شامل ہے(بخاری و مسلم)
   (۸۱)سمر بن جندبسے روایت کیا ہے کہ رسول الله ﷺدو سکوت فرماتے تھے نماز میں، ایک سکوت تکبیر تحریمہ کے وقت دوسرا سکوت الحمد کے ختم پر۔ (ابوداؤد۔ ترمذی۔ ابن ماجہ۔ دارمی)
   (۸۲)فضالہ بن عبیدسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ جب تو نماز پڑھے تو آخر میں بیٹھ اور الله کی ایسی تعریف کر جو اس کی عظمت کے مناسب ہو مجھ پر درود پڑھ اور مانگ الله سے جو چاہے (ترمذی۔ ابوداؤد)
درود و سلام(۸۳)ابن مسعودسے روایت ہے فرمایا رسول ﷺنے کہ قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ وہ شخص میرے قریب ہوگا جو مجھ پر کثرت سے درود پڑھے گا۔ (ترمذی)
   (۸۴)ابن مسعودسے روایت ہے کہ فرمایا رسول الله ﷺنے الله کے بہت سے فرشتے زمین پر سیاحت کرنے والے ہیں جو میری امت کا سلام میرے پاس پہنچاتے ہیں۔ (نسائی۔ دارمی)
   (۸۵)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے تمہارا درود سلام مجھ تک پہنچا ہے تم خواہ کہیں بھی ہو۔ (نسائی)
معمولات نبوی(۸۶)ابن عمرسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺبعد ظہر کی دو رکعتیں اور بعد مغرب کی دو رکعتیں اور بعد عشاء کی دو رکعتیں گھر میں پڑھتے تھے۔ (موطا)
   (۸۷)ام المومنین حضرت عائشہسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺاکثر تہجد کی تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے جب صبح کی اذان سنتے تو فجر کی ہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھ لیتے۔ (موطا)
   (۸۸)عبدالله بن عمرسے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول الله ﷺسے رات کی نماز کے لئے پوچھا، فرمایا رات کی نماز دو رکعتیں ہیں، جب ڈر ہو صبح ہونے کا تو ایک رکعت اور پڑھ لے جو طاق کردےنماز کی رکعتوںکو(موطا)
   (۸۹)ام المومنین حضرت حفصہسے روایت ہے کہ جب صبح کی اذان ہو چکتی تو رسول الله ﷺدو رکعتیں گھر میں ہلکی پھلکی پڑھتے تھے جماعت کھڑی ہونے سے پہلے۔ (موطا)
   (۹۰)ام المومنین حضرت حفصہسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺکو میں نے کبھی نفل نماز بیٹھ کر پڑھتے نہیں دیکھا۔ مگر وفات سے ایک سال قبل بیٹھ کر نفل نماز پڑھتے تھے اور سورت کو اس قدر خوبی سے ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ وہ بڑی سے بڑی ہوجاتی تھی۔ (موطا)
   (۹۱)شداد بن اوسسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺنماز کے قاعدہ میں شکر نعمت اور طلب رضا و صلاح و دعاء توبہ و سلامتی کرتے تھے(مسند احمد)
قصر نماز(۹۲)امیہ بن عبداللهنے پوچھا عبدالله بن عمرسے کہ قرآن میں خوف کے وقت کی نماز اور حضر کی نماز کے احکام تو ہم پاتے ہیں مگر سفر کی نماز کا کوئی حکم قرآن میں نہیں پاتے۔ عبدالله بن عمرنے جواب میں کہا کہ اے میرے بھتیجے الله جل جلالہ نے ہماری طرف محمدرسول الله ﷺکو بھیجا جب کہ ہم کچھ جانتے نہ تھے پس کرتے ہم ہیں ہم جس طرح رسول الله ﷺکو دیکھا۔ (موطا)
   (۹۳)ام المومنین حضرت عائشہسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺنے سفر میں پوری نمازپڑھی ہے اور کبھی (بحالت خوف)قصر بھی کیا ہے۔ (مشکوٰة)
   (۹۴)زہرینے عروہسے کہا کہ حضرت عائشہسفر میں پوری نماز پڑھتی ہیں حضرت عثمانکی طرح۔ (بخاری و مسلم)
   (۹۵)ابن عمرسے روایت ہے کہ حضرت عثماننے جب کہ خوف نہ ہو سفریں پوری نماز پڑھی (قصر نہیں کیا)۔ (بخاری و مسلم)
ممانعت(۹۶)عمر بن شعیبسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺنے مسجد میں اشعار پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور خرید و فروخت بھی مسجد میں ممنوع فرمائی ہے اور جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقہ باندھ کر بیٹھنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ (ابوداؤد۔ ترمذی)
   (۹۷)حکیم بن خرامسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺنے مسجد میں قصاص لینے۔ اور اشعار پڑھنے اور حدود قائم کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (ابوداؤد)
   (۹۸)حضرت حسنسے روایت ہے رسول الله ﷺنے فرمایا کہ ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ لوگ دنیا کی باتیں مسجدوں کے اندر کریں گے پس اس وقت تم ان لوگوں میں نہ بیٹھنا، الله کو ایسے لوگ ناپسند ہیں (بیہقی)
   (۹۹)ابو سعیدسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ ساری زمین مسجد ہے مگر مقبرہ حمام میں نماز درست نہیں۔ (ترمذی۔ درامی)
   (۱۰۰)ابن عمرسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺنے ایسی جگہ نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے جہاں ناپاک اور گندی چیزیں ڈالی جاتی ہیں۔ جانوروں کے ذبح کرنے کی جگہ، راستوں کے درمیان، مویشی باندھنے کی جگہ، حمام، مقابر اور خانہٴ کعبہ کی چھت پر بھی نماز پڑھنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ (ترمذی۔ ابن ماجہ)
   (۱۰۱)ابن عباسسے روایت ہے کہ رسول اللهﷺنے مقبروں کو مسجد بنالینے والوں اور قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر قبور پر چراغ جلانے والوں پر لعنت فرمائی ہے (ابوداؤد۔ ترمذی، نسائی)
   (۱۰۲)جندبسے روایت ہے کہ فرمایا رسول الله ﷺنے خبردار ہو کر پہلے لوگوں نے اپنے بزرگوں کے مقبروں کو عبادت گاہ بنالیا تھا، خبردار تم لوگ مقبروں کو عبادت گاہیں نہ بنانا میں تم کو منع کرتا ہوں۔ (بخاری و مسلم)
سترپوشی(۱۰۳)حضرت عائشہ صدیقہسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ ہر بالغ مرد وعورت کو بغیر پوری سترپوشی کے نماز جائز نہیں۔ (ابوداؤد۔ ترمذی)
ممانعت(۱۰۴)شداد بن اوسسے روایت ہے کہ فرمایا رسول الله ﷺنے مخالفت کرو تم یہود کی نماز سے وہ جوتوں اور موزوں کو پہنے پہنے نماز پڑھ لیتے ہیں، تم جوتوں اور موزوں میں نماز نہ پڑھو۔ (ابوداؤد)
   (۱۰۵)انسسے روایت ہے کہ حضرت عائشہنے مکان کے ایک گوشہ میں منقش پردہ ڈال رکھا تھا۔ رسول الله ﷺنے فرمایا اس پردہ جو ہٹادو اس کی تصویریں نماز میں نظر کے سامنے رہتی ہیں۔ (بخاری)
سترہ(۱۰۶)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے جب تم میں کوئی نماز پڑھے میدان میں یا کسی کھلی جگہ تو وہ اپنے سامنے کوئی چیز رکھ لے اور کوئی چیزموجود نہ ہو تو اپنی لاٹھی کھڑی کر لے وہ بھی نہ تو ایک خط کھینچ لے پھر کسی کا سامنے سے گزرنا برا نہیں۔ (ابوداؤد۔ ابن ماجہ)
قراٴت فاتحہ(۱۰۷)انسسے روایت ہے کہ رسول اللهﷺ۔ ابوبکراور عمرنماز کو الحمدالله رب العالمین سے شروع کرتے تھے۔ (مسلم)
   (۱۰۸)ابن عباسسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺنماز میں بسم الله الرحمٰن الرحیم سے شروع کرتے تھے۔ یعنی سورہ فاتحہ سے شروع کرتے تھے اور فاتحہ سے قبل بسم الله پڑھتے تھے۔ (جہری نماز میں تکبیر کے بعد سکوت فرماتے تھے اور بسم الله بالسّر پڑھ کر قراٴت فاتحہ باجہر فرماتے اور بعد فاتحہ سکوت فرماکرسورہ سے قبل بسم الله بالسّر پڑھ کرقراٴت فاتحہ بالجہرفرماتےاور بعدفاتحہ سکوت فرما کر سورہ سے قبل بسم الله بالسّرپڑھ کرپھر کسی سورت کی قراٴت فرماتے)۔ (ترمذی))
   (۱۰۹)عبادہ بن صامتسے روایت ہےفرمایا رسول الله ﷺنے کہ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو الحمد اور اس کے بعد قرآن میں سے کچھ اور نہ پڑھے۔ (بخاری ومسلم)
قعدہ(۱۱۰)معاذ بن جبلسے روایت ہےفرمایا رسول الله ﷺنے کہ ہر نماز کے آخر (قعدہ میں)رَبِّ أَوۡزِعۡنِىٓ أَنۡ أَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ ٱلَّتِىٓ أَنۡعَمۡتَ عَلَىَّ وَعَلَىٰ وَٲلِدَىَّ وَأَنۡ أَعۡمَلَ صَـٰلِحً۬ا تَرۡضَٮٰهُ وَأَصۡلِحۡ لِى فِى ذُرِّيَّتِىٓ‌ۖ إِنِّى تُبۡتُ إِلَيۡكَ وَإِنِّى مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ(مسند احمدﷺ)
آیت الکرسی(۱۱۱)حضرت علیسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ جو شخص ہر نماز کے بعد اور سوتے وقت آیت الکرسی پڑا کرے زندگی میں اور بعد موت اس کے لئے امن ہے (نسائی۔ دارمی۔ مسند احمد)
نیت (۱۱۲)حضرت علیسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺجب نماز کو کھڑے ہوتے تو پڑھتے۔ إِنِّى وَجَّهۡتُ وَجۡهِىَ لِلَّذِى فَطَرَ ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَٱلۡأَرۡضَ حَنِيفً۬ا‌ۖ وَمَآ أَنَا۟ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ (مسلم)
ممانعت (۱۱۳)عقبہبن عامر سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺتین وقتوں میں نمازنہ پڑھتے اور مردہ دفن کرنے کو منع فرماتے تھے، طلوع آفتاب، نصف النہار، غروب آفتاب۔ (مسلم)
(۱۱۴)حضرت عائشہ صدیقہسے روایت ہے کہ فرمایا رسول الله ﷺنے کہ کھانا سامنے ہونے پر اور بول و براز کے دباؤ کے وقت نماز کامل نہیں ہوتی۔ (مسلم)
(۱۱۵)ابوہریرہسے روایت ہے کہ فرمایا رسول الله ﷺنے کہ اس عورت کی نماز قبول نہیں ہوتی جو خوشبو لگا کر مسجد میں آئے۔ (ابوداؤد۔ احمد۔ نسائی)
(۱۱۶)ابو موسیٰسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ ہر وہ آنکھ زانی ہے جو شہوت سے غیر عورت کی طرف دیکھے اور جو عورت خوشبولگا کر مردوں کی مجلس سے گزرے وہ بھی زانیہ ہے۔ (ترمذی۔ ابوداؤد۔ نسائی)
(۱۱۷)زینب زوجہ عبدالله بن مسعودسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ تم میں سے جوعورت مسجد میں جائے تو خوشبو نہ لگائے۔ (مسلم)
تسبیح اعظم (۱۱۸)ربیعہ ابن کعب اسلمیسے روایت ہے کہ میں رسول الله ﷺکے حجرہ کے قریب ہی رات بسر کرتا تھا جب رسول الله ﷺرات کو اٹھتے تو میں آواز سنتا دیر تک سبحان الله رب العٰلمین پڑھتے رہتے تھے۔ (نسائی۔ ترمذی)
نبی کریم کی نمازِ شب (۱۱۹)مغیرہسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺرات کی نماز میں اس قدر طویل قیام فرماتے تھے کہ پاؤں متورم ہوجاتے تھے، صحابہنے عرض کیا کہ یارسول الله ﷺآپ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ آپ کے تو اگلے پچھلے سب گناہ بخشے گئے ہیں، فرمایا کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ (بخاری و مسلم)
وظیفہ(۱۲۰)عبدالله بن ابیسے روایت ہے کہ ایک شخص رسول الله ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا کہ میں طاقت نہیں رکھتا قرآن میں سے کچھ یاد کرلینے کی اس لئے مجھے کوئی ایسی چیز بتادیجئے جو میرے لئے کافی ہو، فرمایا تو پڑھاکر سبحان الله والحمدلله ولاالہ الاالله والله اکبر ولاحول ولاقوة الا بالله العلی العظیم۔ (ابوداؤد۔ نسائی)
تسبیح بیداری (۱۲۱)حضرت عائشہ صدیقہسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺجب رات کو بیدار ہوتے تو کہتے اللھم ربنا سبحٰنک وبحمدک لاالہ الا انت وحدک لاشریک َلَک (ابوداؤد)
نماز تہجد (۱۲۲)ابو امامہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے کہ لازم کر لو تم اپنے لئے رات کا قیام جو قرب الٰہی کا باعث اور گناہوں سے روکنے والا ہے۔ (ترمذی)
مقامات عالیہ (۱۲۳)ابو مالک اشعریسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے جو لوگ نرمی سےبات کرتے ہیں۔ مسکینوں کو کھانا کھلاتے ہیں، پے در پے روزے رکھتے ہیں اور رات کو اس وقت عبادت کرتے ہیں جب کہ لوگ سو رہے ہوں۔ ان کے لئے ایسے مقامات ہیں جہاں سے دور کی چیزیں نظرآتی ہیں۔ (بیہقی)
رعایت(۱۲۴)حضرت عائشہسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ تم میں سے جب کوئی شخص اونگھنے لگے اس کو چاہیے کہ سو رہے یہاں تک کہ اس کی نیند پوری ہوجائے اس لئے کہ وہ اونگھتے ہوئے نماز پڑھنے کی حالت میں نہیں جان سکتا کہ کیا کہہ رہا ہے ممکن ہے اس کی زبان سے نامناسب الفاظ نکل جائیں۔ (بخاری و مسلم)
   (۱۲۵)حضرت عمرسے روایت ہے فرمایا ررسول الله ﷺنے جو شخص اپنا وظیفہ پورا کئے بغیر سو رہا اور صبح تک نہ جاگ سکا تو وہ اپنا بقیہ وظیفہ بعد نماز کے فجر پورا کر لے اس کا شمار رات ہی کی عبادت میں ہوگا۔ (مسلم)
مداومت (۱۲۶)حضرت عائشہسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے الله جل جلالہ کے نزدیک وہ عبادت بہتر ہے جو ہمیشہ کی جائے اگرچہ وہ تھوڑی ہو۔ (بخاری و مسلم)
   (۱۲۷)عمران بن حصینسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ اگر کھڑا ہونے کی قوت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھ اور اگر بیٹھنے کی طاقت نہ تو پہلو پر لیٹ کر پڑھ (بخاری)
وتر (۱۲۸)جابرسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے جس شخص کو یہ اندیشہ ہو کہ وہ آخر رات میں نہ اٹھ سکے گا اس کو چاہیے کہ عشاء کی نماز کے بعد ہی وتر پڑھ لے۔ (مسلم)
   (۱۲۹)خارجہ بن حذافہسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ الله جل جلالہ نے پانچ وقت کی فرض نمازوں کے علاوہ ایک مزید نماز تم کو عطا فرمائی جو تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے وہ نمازوتر واجب ہے جس کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے قبل فجر تک مقرر ہے۔ (ترمذی۔ ابوداؤد)
   (۱۳۰)زید بن اسلمسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے جو شخص وتر سے غافل ہو کر سو جائے اس کو چاہیے کہ صبح کے وقت پڑھ لے۔ (ترمذی)
قنوت (۱۳۱)انس بن مالکسے روایت ہے رسول الله ﷺنے رکوع کے بعد قومہ میں قنوت پڑھی ہے۔ (ابن ماجہ)
نماز جمعہ(۱۳۲)جابرسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے جو شخص الله پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھا ہے اس پر جمعہ کے دن نماز جمعہ واجب ہے مگر مریض، مسافر، عورت، غلام اور نابالغ بچے مستثنیٰ ہیں ان پر نماز جمعہ فرض نہیں (دارقطنی)
منافق (۱۳۳)ابن عباسسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ جس شخص نے بے وجہ محض لہو ولعب یا شغل تجارت و کاروبار کے سبب نماز جمعہ کو ترک کیا اس کا نام منافقین کی فہرست میں لکھا جاتا ہے جس کی تحریر نہ مٹائی جاسکتی ہے نہ تبدیل ہوسکتی ہے۔ (شافعی)
ممانعت (۱۳۴)معاذ بن انسسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺنے مسجد میں گھٹنوں کو پیٹ سے ملا کر بیٹھنے کی ممانعت فرمائی ہے اس وقت جب کہ جمعہ کے دن امام خطبہ پڑھتا ہو۔ (ترمذی۔ ابوداؤد)
   (۱۳۵)ابن عباسسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺنے جمعہ کے دن جبکہ امام خطبہ پڑھ رہا لوگوں کو آپس میں ہر قسم کی بات کرنے کی ممانعت سخت فرمائی ہے۔ (احمد)
عیدین (۱۳۶)ابن عمرسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺعیدین کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھتے تھے ،۔ (بخاری ومسلم)
   (۱۳۷)ابن عباسسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺنے عیدالفطر کے دن دو رکعت نماز پڑھی۔ (بخاری و مسلم)
   (۱۳۸)جابر بن سمرسے روایت ہے کہ میں نے رسول الله ﷺکے ساتھ عیدین کی نمازیں پڑھی ہیں، ان نمازوں میں نہ تو اذان کہی جاتی ہے نہ تکبیر اقامت کہی جاتی ہے۔ (مسلم)
   (۱۳۹)بریدہسے روایت ہے کہ عیدالفطر کے دن جب تک رسول الله ﷺچند کھجوریں نہ کھا لیتے عید گاہ نہ جاتے تھے اور عید قربان کے دن جب تک دو گانہ عید نہ پڑھ لیں کچھ نہیں کھاتے تھے۔ (ابن ماجہ۔ ترمذی۔ دارمی)
قربانی(۱۴۰)جندبسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے جس شخص نے عید قربان کے دن نماز سے پہلے قربانی کر لی اس کی قربانی نہیں ہوئی اور جس نے دوگانہ عید ادا کرنے کے بعد قربانی کی اس نے ہماری سنت پرعمل کیا اس کی قربانی درست ہوئی۔ (بخاری ومسلم)
   (۱۴۱)حضرت علی کرم الله وجہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺنے منع فرمایا ہے اس جانور کی قربانی سے جس کی سینگ ٹوٹے اور کان کٹے ہوں۔ (ابن ماجہ)
   (۱۴۲)براء بن عاذبسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ چار جانور قربانی کے لائق نہیں ایک لنگڑا جس کا لنگ ظاہر ہو اور چل نہ سکے۔ دوسرا کا ناجس کا کاناپن ظاہر ہو۔ تیسسرا بیمار جس کی بیماری ظاہر ہو، چوتھا لاغر جو اتنا دبلا ہو کہ ہڈی کے سوا گوشت کا نام نہ ہو۔ (موطا۔ احمد۔ ترمذی۔ نسائی۔ ابن ماجہ۔ دارمی)
   (۱۴۳)ابن عمرسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ دسویں ذی الجہ کے بعد دو دن تک قربانی جائز ہے۔ (موطا)
   (۱۴۴)ابوایوب انصاریسے مروی ہے کہ ہم قربانی کرتے تھے ایک بکری اپنے سب گھر والوں کی طرف سے پھر بطور فخر کے ہر ایک کی طرف سے ایک ایک قربانی کرنے لگے۔ (موطا)
   (۱۴۵)ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺنے کبھی اپنے اہل بیت کی طرف سے ایک اونٹ یا ایک گائے سے زیادہ قربانی نہیں کیا۔ (موطا)
   (۱۴۶)امام مالک نے کہا قربانی کے مسئلہ میں جو مستند روایات مجھے ملیں وہ یہ ہیں کہ ہر شخص اپنے سب گھر والوں کی طرف سے ایک اونٹ یا ایک گائے یا ایک دنبہ یا بکری قربانی کرے جس کا وہ مالک ہو یا جو اپنی مقدرت کے مطابق میسر ہوں۔ یہ صورت کہ ایک اونٹ یا ایک گائے خرید کر کئی حصہ دار شریک کرے اور ہر ایک سے حصہ رسد قیمت لے اور اس کی موافق گوشت تقسیم کرے مکروہ ہے۔ قربانی میں شریک میں شرکت نہیں ہوسکتی۔ گھر سے باہر کے لوگوں کو حصہ دار بنا کر قربانی کرنا اورقیمت حصہ لے کر گوشت دینا جائز نہیں صرف اپنے اہل و عیال اور سب گھر والوں کی طرف سے اپنا مملوکہ ایک جانور قربانی کیا جاسکتا ہے ثواب میں سب شریک ہوں گے۔ (موطا)
تکبیرات عیدین(۱۴۷)سعید بن عاصسے روایت ہے کہ میں نے ابو موسیٰ اور حذیفہ سے دریافت کیا رسول الله ﷺعید فطر اورعید قربان کی نمازوں میں کتنی تکبیریں کہتے تھے ابو موسیٰ نے کہا چار تکبیریں کہتے تھے جس طرح جنازہ کی نماز میں کہی جاتی ہیں ابو حذیفہ نے اس کی تصدیق کی۔ (ابوداؤد)
نماز جنازہ (۱۴۸)ابن عباسسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺنے جنازہ پر سورة فاتحہ پڑھی۔ (ترمذی۔ ابوداؤد۔ ابن ماجہ)
   (۱۴۹)طلحہبن عبدالله بن عوف سے روایت ہے میں نے ابن عباسکے پیچھے ایک جنازہ کی نماز پڑھی انہوں نے پہلی تکبیر کے بعد سورة فاتحہ پڑھی اور پھر کہا یہ سنت ہے۔ (بخاری)
   (۱۵۰)ابوہریرہسے روایت ہے رسول الله ﷺنے لوگوں کو نجاشی شاہ حبش کے مرنے کی اطلاع دی اسی روز کہ جس روز کہ اس کا انتقال ہوا تھا اور پھر صحابہ کو ساتھ لے کر عیدگاہ تشریف لے گئے پھر صف باندھی اور چار تکبیریں کہہ کر غائبانہ نماز جنازہ پڑھی۔ (بخاری و مسلم)
تراویح (۱۵۱)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول الله! ﷺنے کہ جس نے رمضان میں تراویح پڑھی اس کو حق سمجھ کر خالص الله کے لئے اس کے اگلے گناہ بخشے جائیں گے۔ رسول الله ﷺکی وفات کے بعد کوئی اپنے گھر میں تراویح پڑھتا کوئی مسجد میں متفرق، حضرت ابوبکرکی خلافت میں اسی طرح متفرق پڑھتے رہے۔ حضرت عمرکے ابتدائی عہد خلافت میں بھی کوئی گھر میں پڑھتا کوئی مسجد میں پڑھتا۔ (موطا۔ مسلم)
   (۱۵۲)عبدالرحمٰن بن قاریسے روایت ہے کہ میں ایک رات رمضان میں عمر بن الخطابکے ساتھ مسجد میں گیا دیکھا کہ لوگ علٰحیدہ علٰحیدہ نماز تراویح پڑھ رہے تھے کوئی تنہا پڑھ رہا تھا کوئی اپنے قبیلہ کے ساتھ پڑھتا تھا۔ یہ دیکھ کر حضرت عمرنے فرمایا اگر میں ان سب لوگوں کو ایک قاری کی امامت میں جمع کردوں تو بہتر ہوگا۔ چنانچہ ابی بن کعب کو امام بنادیا پھر نماز تراویح باجماعت ہونے لگی۔ (موطا۔ مسلم)
نماز جنازہ (۱۵۳)ابوہریرہسے مروی ہے کہ نماز جنازہ میت کے لئے دعائے مغفرت ہے، پہلے تکبیر کے بعدالحمد دوسری تکبیر کے بعد دعائے مغفرت (ربنا وسعت کل شیٴ رحمتہ الاٰیہ)تیسری تکبیر کے بعد نبی کریم ﷺپر دردو چوتھی تکبیر کے بعد سلام۔ (موطا)
   (۱۵۴)عبدالله بن عمرسے مروی ہے کہ جنازہ کے نماز بغیر وضو ناجائز ہے۔ (موطا)
تراویح (۱۵۵)ابن حباننے بہ اسناد صحیح روایت کیا جابرسے کہ رسول الله ﷺنے چند روز رمضان میں بعد عشاء آٹھ رکعت تراویح پڑھیں۔ (موطا)
   (۱۵۶)ابوہریرہسے مروی ہے کہ رسول الله ﷺلوگوں کو تراویح پڑھنے کی رغبت دلاتے تھے۔ رسول الله ﷺکی وفات کے بعد متفرق طور سے تراویح پڑھتے رہے، کوئی اپنے گھر میں پڑھتا کوئی مسجد میں پڑھتا، عموماً سورة بقر آٹھ رکعتوں میں پڑھتے تھے متفرق طور پر۔ پھر حضرت عمرنے ایک امام کے پیچھے نماز تراویح باجماعت پڑھنے کے لئے حافظ قرآن قاری کو مقرر فرمایا اور تہجد کی بارہ رکعتوں کو بھی تراویح کی ۸ رکعت میں شامل فرمادیا اس طرح بیس رکعت پڑھتی جانے لگیں اور بعد تراوبح ایک رکعت وتر واجب میں دو رکعت نفل مل کر تین رکعت و تر باجماعت پڑھنے لگے۔ (بیہقی)
   (۱۵۷)یزید بن رومانسے مروی ہے کہ حضرت عمرکے زمانہٴ خلافت میں لو گ تراویح کی ۲۳ رکعتیں رمضان میں بعد عشاء پڑھتے تھے۔ ۲۰ رکعت تراویح اور ۳ رکعت وتر۔ (موطا)