| | | |  


بِسْمِ اللهِ الرَّ حْمٰنِ الرَّ حِیْم

کتاب النکاح

خطبہٴ نکاح(۴۹۲)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جس نکاح میں خطبہ نہ پڑھاجائے وہ ابتروبے برکت ہے۔ (ابن ماجہ)
اعلان(۴۹۳)حضرت عائشہ صدیقہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے نکاح کا اعلان کیا کرو۔ اور محمد بن حاطبسے مروی ہے کہ رسول اللهﷺنے فرمایا نکاح کا اعلان کرنا حلال و حرام کے درمیان فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ (ابن ماجہ۔ ترمذی۔ نسائی)
اجازت(۴۹۴)ابن عباساور ابوہریرہسے روایت ہے کہ فرمایارسول اللهﷺنے نکاح کے لئے عورت سے اجازت لینا ضروری ہے خواہ وہ کنواری ہو یا بیوہ۔ کنواری کی اجازت و رضامندی اس کی خاموشی ہے اور بیوہ اپنے اظہار رضامندی میں آزاد و مختار ہے۔ (مسلم وبخاری)
   (۴۹۵)خنساء بنت خدامسے مروی ہے کہ وہ بیوہ تھیں ان کا نکاح ان کے باپ نے کسی کے ساتھ کردیا تھا وہ اس نکاح سے خوش نہیں تھیں، انہوں نے رسول اللهﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر اس کے متعلق عرض کیا رسول اللهﷺنے وہ نکاح رد کردیا۔ (بخاری)
   (۴۹۶)ابن عباسسے روایت ہے ایک کنواری لڑکی نے رسول اللهﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اس کے باپ نے اس کا نکاح کردیا ہے اور وہ اس نکاح سے خوش نہیں ہے رسول اللهﷺنے اس کو فسخ نکاح کا اختیار دے دیا۔ (ابوداؤد)
شادی(۴۹۷)عامر بن سعدسے مروی ہے کہ میں ایک تقریب شادی میں گیا وہاں ابو مسعود انصاریبھی تھے چند معصوم لڑکیاں گابجارہی تھیں۔ میں نے کہا اے رسول اللهﷺکے صحابیو اور بدر کی جنگ میں شریک رہنے والو! تمہارے سامنے یہ گانا بجانا ہورہا ہے اور تم سن رہے ہو، انہوں نے کہا بیٹھ جاتیرا بھی جی چاہے تو ہمارے ساتھ تو بھی سن ورنہ واپس چلا جا،رسول اللهﷺنے ہم کو شادی کے موقع پر اس کی اجازت دی ہے۔ (نسائی)
دو گواہ(۴۹۸)ابوموسیٰسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے ولی اور دو گواہوں کے بغیر نکاح درست نہیں۔ (احمد۔ ترمذی۔ ابوداؤد۔ابن ماجہ۔بہیقی۔دارمی)
شِغار(۴۹۹)ابن عمرسے روایت ہے فرمایارسول اللهﷺنے شغار سے منع فرمایا ہے۔ یہ شغار یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح کسی کے ساتھ اس شرط سے کرے کہ وہ اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح اس کے ساتھ کردے اور دونوں کا مہر کچھ نہ ہو۔ (موطا، بخاری۔ مسلم)
مہر(۵۰۰)عقبہ بن عامرسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے نکاح کی بڑی شرط مہر ہے جس سے ازواج حلال ہوتا ہے۔ (بخاری و مسلم)
   (۵۰۱)حضرت عمرسے مروی ہے کہ رسول اللهﷺنے اپنی کسی بیوی اور بیٹی کا مہربارہ اوقیہ یا پانچ سو درہم سے زیادہ نہیں رکھا۔ (احمد۔ ترمذی۔ ابوداؤد۔ نسائی۔ ابن ماجہ۔ دارمی)
   (حضرت نبی کریمﷺنے مہر کی کوئی خاص مقدار مقرر نہیں فرمائی ہے۔ اپنی حیثیت اور استطاعت سے زیادہ مہر مقرر کرنا کوئی پسندیدہ امر نہیں)
ولیمہ(۵۰۲)انسسے مروی ہے کہ رسول اللهﷺنے عبدالرحمٰنبن عوف کے نکاح پر فرمایا کہ عقد مناکحت کے بعد ولیمہ کرنا ضروری ہے۔ (بخاری و مسلم)
   (۵۰۳)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے وہ ولیمہ نامبارک ہے جس میں خوشحال لوگوں کو مدعو کیا جائے اور فقراء و مساکین کو نظر انداز کردیا جائے ۔ (بخاری و مسلم)
ممانعت(۵۰۴)ابن عباسسے روایت ہے رسول اللهﷺنے منع فرمایا ہے ایام حیض میں ہم بستری سے اور غیر وضع فطری بدفعلی سے۔ (ترمذی۔ ابن ماجہ۔ دارمی)
   (۵۰۵)ابوہریرہاور خزیمہ بن ثابتسے روایت ہے فرمایا رسول الله!ﷺنے جو شخص اپنی بیوی سے غیر و ضع فطری بدفعلی کرے وہ ملعون ہے۔ (ترمذی۔ ابن ماجہ۔ دارمی)
   (۵۰۶)اسماءسے روایت ہے رسول اللهﷺنے ایام حمل میں زمانہٴ ولادت کے قریب حاملہ عورت سے ہم بستری کی ممانعت فرمائی ہے۔ (ابوداؤد)
اچھے نام(۵۰۷)سہل بن سعدسے روایت ہے کہ منذر بن ابی اُسید جب پیدا ہوئے تو ان کو رسول اللهﷺکی خدمت میں لایا گیا رسول اللهﷺنے ان کا نام منذر رکھا۔ (بخاری و مسلم)
   (۵۰۸)ابوداؤدسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے قیامت کے دن تم کو تمہارے اور تمہارے باپوں کے نام سے پکارا جائے گا اس لئے تم اپنے اچھے نام رکھو۔ (ابوداؤد)
   (۵۰۹)ابن عمرسے روایت ہے کہ حضرت عمرکی ایک بیٹی کا نام عاصیہ تھا رسول اللهﷺنے اس کا نام بدل کر جمیلہ رکھا۔ (مسلم)
   (۵۱۰)حضرت عائشہسے روایت ہے کہ رسول اللهﷺبرے نام بدل کر اچھے نام رکھ دیا کرتے تھے۔ (ترمذی)
عقیقہ(۵۱۱)حضرت عائشہ صدیقہسے روایت ہے رسول اللهﷺنے عقیقہ میں لڑکے کی طرف سے دو بکری اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کا حکم دیا۔ (ترمذی)
   (عقیقہ کی قربانی واجب نہیں ہے محض مستحب ہے جو چاہے کرے، خواہ ایک بکرا یا بکری کرے لڑکا اورلڑکی کے لئے یا لڑکے کے لئے دو بکری یا بکرا اور لڑکی کے لئے ایک بکری۔ موطاء میں نافعسے روایت ہے کہ عبدالله بن عمراپنی اولاد کی طرف سے خواہ لڑکا ہو یا لڑکی ایک ایک بکری کی قربانی کرتے تھے۔ موطاء میں دوسری روایت ہے کہ عروہ بن زبیراپنی اولاد کی طرف سے خواہ لڑکا ہو یا لڑکی ایک ایک بکری کی قربانی کرتے تھے۔ موطاء میں ایک روایت یہ بھی ہے رسول اللهﷺنے فرمایا کہ جس شخص کے گھر بچہ پیدا ہو اگر وہ اپنے بچہ کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو کرے۔ یعنی قربانی کا صدقہ واجب نہیں ہے محض مستحب ہے جو شخص یہ صدقہ کرنا چاہے وہ کرے اور جو قربانی کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ نہ کرے۔
عقیقہ ساتویں دن کرنا زیادہ بہتر ہے اگر کسی وجہ سے ساتویں دن نہ ہو سکے تو اکیسویں یا چالیسویں دن ضرور وچہ کے سر کے بال اتروائیے جائیں اور بال تول کر ان کے برابر وزن کی چاندی راہ الله میں دے دی جائے موطاء میں امام محمد باقرسے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ رضی الله عنہا نے امام حسن اور امام حسین رضی الله عنہما کے بال بھی عقیقہ کے دن تول کر ان کے برابر چاندی لللّٰه کی راہ میں دی تھی۔
عقیقہ کی قربانی صدقہ ہے جس کے مستحق غرباء فقراء ہیں، قربانی کی کھال بھی خیرات کردینا چاہیے عقیقہ کی قربانی کا گوشت اور کھال بیچنا ناجائز ہے۔)
ہدایت(۵۱۲)ابوہریرہسے روایت ہے رسول اللهﷺسے دریافت کیا گیا کہ کونسی عورت بہتر ہے؟ فرمایا وہ عورت بہتر ہے جب اس کا شوہر اس کی طرف دیکھے تو وہ اس کو خوش کردے، جب شوہر اس کو کوئی حکم دے تو وہ اس کے اطاعت کرے، اپنی شخصیت شوہر کے مال میں کوئی ایسی بات نہ کرے جو اس کی مرضی کے خلاف ہو۔ (نسائی)
   (۵۱۳)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے تم میں وہ مرد بہتر ہے جو اپنی بیوی سے اچھی طرح پیش آئے۔ (ترمذی)
   (۵۱۴)حضرت عائشہ صدیقہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے ایمان میں کامل وہ مسلمان ہے جس کی خلق اچھا ہو اور جواپنے بیوی بچوں اور گھر کے لوگوں پر بہت مہربان ہو۔ (ترمذی)
   (۵۱۵)ام سلمہسے روایت ہے، فرمایا رسول اللهﷺجو عورت اس حال میں وفات پائے کہ اس کا شوہر اس سے راضی اور خوش ہو وہ جنت میں داخل ہوگی۔ (ترمذی)
   (۵۱۶)ابوہریرہسے روایت ہے رسول اللهﷺنے فرمایا کوئی مسلمان کسی مسلمان عورت سے بغض نہ رکھے اس لئے کہ اگر اس عورت کی ایک عادت یا خصلت ناپسندیدہ ہوگی تو دوسری کوئی عادت و خصلت پسندیدہ بھی ہوگی۔ (مسلم)
   (جس طرح بغیر رغبت و رضامندی کے زبردستی کا نکاح ناجائز ہے اسی طرح زبردستی کی طلاق بھی نادرست ہے یعنی کوئی زبردستی کسی کا نکاح کرنے یا کسی کی طلاق دلانے کا مجاز نہیں۔ جس طرح نکاح کے لئے جانبین کی اجازت شرط ہے اسی طرح طلاق میں بھی جانبین کی مرضی شرط ہے۔)
جب رسول اللهﷺنے حضرت سودہ رضی الله تعالیٰ عنہا کو طلاق دینے کا ارادہ فرمایا تو انہوں نے کہا: آپ مجھ کو اپنے نکاح میں رکھیئے تاکہ میں جنت میں آپ کی بیویوں میں شامل رہوں، میں اپنی باری کا دن عائشہکو دیتی ہوں۔)
ممانعت(۵۱۷)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے پھوپھی اور بھتیجی اور خالہ بھانجی نکاح میں جمع نہ رکھیں یعنی جب پھوپھی نکاح میں ہو تو بھتیجی سے نکاح درست نہیں اور خالہ جب نکاح میں ہوتو بھانجی سے نکاح درست نہیں۔ (بخاری و مسلم)
رضاعت(۵۱۸)حضرت عائشہ صدیقہسے روایت فرمایا رسول اللهﷺنے نسب سے جو اشخاص حرام ہیں وہی رضاعت سے حرام ہیں یعنی جن مردوں اور عورتوں سے نسب کے سبب نکاح حرام ہے اسی دودھ کی شرکت سےحرمت ہوجاتی ہے۔ (بخاری)
   (بچہ کی شیر خواری کی مدت دوبرس ہے، زمانہ ٴ شیرخوارگی یعنی دو سالہ عمر میں کسی عورت کا دودھ صرف ایک بار پی لینا بھی رضاعت ہے جس عورت کا دودھ پیا جائے اس کا شودہر دودھ پینے والے کے لئے مثل حقیقی باپ کے ہوگا، اس کے لڑکے لڑکیاں مثل حقیقی بھائی بہن کے ہوں گے جو نسبی رشتہ دار محرم ہیں رضاعی رشتہ دار بھی اسی نسبت سے اسی طرح محرم ہوں گے۔)
ختنہ (جب لڑکا دوبرس کا ہوجائے اور اس کا دودھ چھڑا دیا جائے تو ختنہ کرادینا چاہیے، شیر خواری کے زمانہ میں ختنہ مناسب نہیں، جوان ہوکر قوت مردی مں ضعف پیدا ہوجاتا ہے۔)
رضاعی ماں(۵۱۹)ابوطفیلسے روایت ہے کہ میں رسول اللهﷺکی خدمت میں حاضر تھا۔ ایک عورت آئی، رسول اللهﷺنے اپنی چادر مبارک بچھا دی وہ عورت اس پر بیٹھ گئی، پھر جب وہ چلی گئی تو ان لوگوں کو جو اس احترام سے حیران تھے بتایا گیا کہ حلیمہ دایہ تھیں جنہوں نے رسول اللهﷺکو بچپن میں دودھ پلایا تھا۔ (ابوداؤد)
   (رضاعی ماں کا احترام مثل حقیقی ماں کے واجب ہے۔)
رضاعت(۵۲۰)حضرت علی کرم الله وجہہ سے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جو چیزیں الله تعالیٰ نے نسب سے حرام فرمائی ہیں وہی رضاعت سے حرام قرار دی ہیں یعنی نکاح اور پردہ۔ (مسلم)
   (۵۲۱)حضرت عائشہ صدیقہسے روایت ہے کہ رسول اللهﷺان کے گھر میں تھے ایک مرد کی آواز سنی جو حضرت حفصہکے گھر میں جانے کی اجازت چاہتا ہے، حضرت عائشہنے کہا یارسول اللهﷺیہ کون شخص ہے جو آپ کے گھر میں جانا چاہتا ہے،فرمایا شاید حفصہکا رضاعی چچا ہے، حضرت عائشہنے کہا اگر میرا رضاعی بھائی زندہ ہوتا تو کیا میر ے سامنے آتا؟ فرمایا ہاں، رضاعت حرام کرتی ہے جیسے نسب حرام کرتا ہے یعنی جیسے نسبی باپ یا چچا یا ماموں یا بھائی محرم ہیں ایسے یہی رضاعی باپ یا چچا یا ماموں یابھائی محرم ہیں (موطاء)
   (عبدالله بن عباسسے مروی ہے کہ بچہ دو برس کی عمر کے اندر ایک دفعہ بھی دودھ چوسے تو رضاعت کی حرمت ثابت ہوگی۔ اگرت ایک شخص کی دو بیویاں ہوں ایک بیوی کسی لڑکے کو دودھ پلائے اور دوسری بیوی کسی کی لڑکی کو دودھ پلائے تو لڑکے اور لڑکی کا باہم نکاح درست نہیں کیونکہ دونوں بچوں یعنی لڑکا اور لڑکی کا رضاعی باپ ایک ہی ہے۔)
ممانعت(۵۲۲)ضحاکسے روایت ہے کہ انہوں نے مشرف بااسلام ہونے کے بعد رسول اللهﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یارسول اللهﷺمیں نے اسلام قبول کرلیا اور میں مسلمان ہوگیا ہوں میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں فرمایا دونوں میں ایک کو انتخاب کر لے۔ (ترمذی، ابوداؤد۔ ابن ماجہ)
   (دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنا جائز نہیں ہے)
ابن عباسسے مروی ہے کہ جس طرح نسب کے اعتبار سے چند افراد مرد وزن محرم ہیں اسی طرح نکاح کے ذریعہ جو رشتہ اور قرابت قائم ہو اس سے بھی چند افراد مرد و زن محرم قرار پاتے ہیں۔ مرد کے لئے بیوی کی ماں۔ بیوی کے پہلے شوہر سے بیٹی، بیٹے کی بیوی۔ عورت کے لئے شوہر کا باپ۔ شوہر کا دوسری بیوی سے لڑکا۔ بیٹی کا شوہر۔