| | | |  


بِسْمِ اللهِ الرَّ حْمٰنِ الرَّ حِیْم

کتاب المعاش

اکل حلال(۴۶۸)حضرت عائشہ صدیقہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جو چیز تم کھاتے ہو اس میں سب سے بہتر وہ ہے جو تم اپنے ہاتھوں سے کمائی کر کے کھاؤ۔ (ترمذی۔ نسائی۔ ابن ماجہ۔ اوداؤد۔ دارمی)
   (۴۶۹)عبدالله بن مسعودسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے ان فرائض کے بعد جو الله تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں، پاک اور حلال کمائی بھی فرض ہے۔ (بیہقی)
ممانعت(۴۷۰)زبیر بن العوامسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے تم میں سے جو شخص جنگل سے لکڑیوں کا ایک گھٹا پشت پر لاد کر لائے اور ان کو بیچے اور الله تعالیٰ معاش کے اس ذریعہ سے اس کی عزت و آبرو کو برقرار رکھے تو یہ بہتر ہے اس سے کہ لوگوں سے بھیک مانگی جائے۔ (بخاری)
ہدایت(۴۷۱)عبدالله بن عمرسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جو شخص ہمیشہ لوگوں سے بھیک مانگتا رہے گا قیامت کے دن وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کے منہ پر گوشت نہ ہوگا۔ (بخاری ،مسلم)
   (۴۷۲)سمرہ بن جندبسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے سوال کرنا ایک زخم ہے جس سے زخمی کرتا ہے سائل اپنے چہرہ کو یعنی بھیک مانگنے سے اپنی عزت ب آبرو کو زخمی کرتا ہے۔ (ابوداؤد، ترمذی، نسائی)
   (۴۷۳)ابن مسعودسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جس شخص کو فاقہ یا کوئی سخت حاجت ہو اور وہ اس کو لوگوں پر بطور شکایت ظاہر کر کے امداد کا خواہش مند ہو تو اس کی حاجت کوئی پوری نہیں کرتا اور جس نے اپنی حاجت کو الله تعالیٰ سے عرض کیا تو الله تعالیٰ اس کی حاجت بقدر کفایت پوری کرے گا۔ (ابوداؤد۔ ترمذی۔ نسائی)
   (۴۷۴)عبدالله بن مسعودسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے ناجائز معاش اور حرام روزی میں برکت نہیں ہوتی اور نہ صدقات قبول ہوتے۔ (احمد)
   (۴۷۵)عطیہ سعدیسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے بندہ اس وقت تک پرہیزگاروں کے درجے کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ ان چیزوں کو نہ چھوڑ دے جن میں کچھ برائی ہے۔ (ترمذی۔ ابن ماجہ)
کفارہ(۴۷۶)قیس بن ابی غرزہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے معاشی معاملات اور کاروبار میں فضول اور بے فائدہ باتیں بھی پیش آتی ہیں، پس تم لوگ صدقہ اور خیرات کرتے رہا کرو تا کہ لغویات کا کفارہ ہوتا رہے۔ (ابوداؤد۔ ترمذی۔ نسائی۔ ابن ماجہ)
حسن سلوک(۴۷۷)عمرو بن شعیبروایت کرتے ہیں۔ ایک شخص نے رسول اللهﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میرے پاس مال ہے اور میرا باپ میرے مال کا محتاج ہے فرمایا تو اور تیرا مال دونوں تیرے باپ کے لئے ہیں اس لئے کہ اولاد والدین کی بہترین حلال اور جائز کمائی ہے پس اولاد کی کمائی کے سب سے زیادہ مستحق والدین ہی ہیں۔ (ابوداؤد۔ نسائی۔ ابن ماجہ)
   (۴۷۸)انسسے روایت ہے کہ مدینہ کے انصار میں کھجوروں کے اعتبار سے ابوطلحہبہت مالدار تھے اور سب سے زیادہ مرغوب و محبوب ان کو وہ باغ تھا جس کا نام "بیر حاء" اور یہ باغ مسجد نبویﷺکے مقابل تھا۔ رسول اللهﷺاس باغ میں تشریف لے جاتے اور اس کا شریں پانی نوش فرماتے تھے۔ جب یہ آیتہ کریمہ نازل ہوئی۔ " لَنْ تَنَالُوالْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْامِمَّاتُحِبُّوْنَ" تو ابو طلحہرسول اللهﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللهﷺخداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تک تم اپنی محبوب ملکیت میں سے راہ حق میں ایثار نہ کروگے نیکی نہ پاؤگے پس میں اپنا باغ "بیرحاء" جو مجھے اپنی جائیداد میں سب سے زیادہ محبوب ہے فی سبیل الله پیش کرتا ہوں، رسول اللهﷺنے اظہارخوشنودی کے ساتھ فرمایا کہ تو اس باغ کو اپنے محتاج قرابت داروں میں تقسیم کردے تاکہ خیرات کا ثواب بھی ہو اور صلہٴ رحمی کا بھی۔ ابوطلحہنے حسب الارشاد اس باغ کو اپنے قرابتداروں ار چچا کے بیٹوں میں تقسیم کردیا۔ (مسلم وبخاری)
   (۴۷۹)سلیمان بن عامرسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے مسکین کو خیرات دینے کا ایک ثواب ہے اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا دوہرا ثواب ہے۔ (احمد۔ ترمذی۔ نسائی۔ ابن ماجہ۔ دارمی)
ہدایت(۴۸۰)ابی امامہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے قابل رشک وہ مومن ہے جو دنیا کے فضول مال و خیال سے سبک ہو اپنے پروردگار کی عبادت دل جمعی اور خوبی کے ساتھ کرتا ہو، اس کی روزی اور معاش بقدر کفایت ہو اور وہ اس پر صابر و قانع ہو۔ (ترمذی۔ ابن ماجہ)