| | | |  


بِسْمِ اللهِ الرَّ حْمٰنِ الرَّ حِیْم

کتاب المیراث

تقسیم وارثت(۳۸۴)عبدالله بن عمرسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جو میراث جاہلیت میں تقسیم کی گئی ہے وہ جاہلیت میں ہی ختم ہوگئی۔ اب اس میں تبدیلی نہیں ہوسکتی اور جس میراث نے اسلام کا زمانہ پایا وہ اسلام ہی کے طریقہ پر تقسیم کی جائے گی۔ (ابن ماجہ)
   (۳۸۵)ابن عباسسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے میراث کے حصہ داروں کو دو پھر جو کچھ بچے وہ عصبہ کے لئے ہے۔ (بخاری و مسلم)
مسئلہ(۳۸۶)عبدالله بن عمرسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے کہ دو مختلف مذہب رکھنے والے ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے۔ (ابوداؤد۔ ابن ماجہ۔ ترمذی)
   (۳۸۷)اسامہ بن زیدسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا، اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہوتا ہے۔ (بخاری و مسلم)
   (۳۸۸)عمرو بن سعیبسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے ولدالزنا نہ کسی کا وارث ہوتا ہے نہ کسی کو اس کی میراث ملتی ہے۔ (ترمذی)
   (پہلے میراث کے حقدار ذدی الفروض ہیں یعنی ان کے حصے مقرر ہیں، اگر میت کے ذدی الفروض میں سے کوئی ہو ماں یا باپ اور لڑکے لڑکیاں بھی ہوں تو پہلے ذدی الفروض کا مقررہ حصہ دے کر جو بچے گا وہ اولاد میں تقسیم ہوگا، دوہرا حصہ لڑکے کو اور اکہرا حصہ لڑکی کو ملے گا۔ اگر بیٹے بیٹاں والدین کی حیات میں فوت ہوگئے ہوں اور اولاد چھوڑگئے ہوں تو وہ حصہ پانے کے حقدار ہوں گے، مجوب الارث کا مسئلہ احادیث صحیحہ سے ثابت نہیں۔
ذدی الفروض اور ذدی الارحام کے حصے میراث میں مقرر ہیں اور عصبات کے حصے مقرر نہیں، ذدی الفروض اور ذی الارحام یعنی ماں باپ دادا دادی نانی اور حقیقی بہن بھائی اور اولاد صلبی ذکورواناث اور شوہر و زوجہ کے حصص کی تقسیم کے بعد جو مال بچ رہے اس کے حقدار عصبہ ہیں۔)
دادی، نانی (۳۸۹)بریدسے رویت ہے کہ رسول اللهﷺنے دادی اور نانی کا چھٹا حصہ مقرر فرمایا ہے۔ (ابوداؤد)
   (میت کا باپ نہ ہو تو دادا دادی چھٹے حصہ کے حقدار ہیں اور اگر ماں نہ ہو تو نانا نانی حقدار ہوں گے اگر میت کے ماں باپ نہ ہوں اور دادی نانی دونوں ہوں تو میت کے وراثت میں سے چھٹا حصہ دونوں میں تقسیم ہوگا۔)
مججوب الارث(۳۹۰)ہزیلبن شرجیل سے مروی ہے کہ ایک شخص نے وفات پائی اور اس نے ایک بیٹی ایک بہن ایک پوتی وارث چھوڑے، ابوموسیٰسے پوچھا گیا مال کس طرح تقسیم کیا جائے؟ انہوں نے کہا بیٹی کو آدھا اور بہن کو آدھا اور پوتی کو کچھ نہیں، پھر ابو موسیٰنے کہا ابن مسعودسے بھی پوچھ لو وہ مجھ سے اتفاق کریں گے چناچہ ابن مسعودسے یہ مسئلہ پوچھا گیا اور ابوموسیٰنے جو فیصلہ کیا تھا اس سے بھی انھیں آگاہ کیا گیا۔ ابن مسعودنے کہا میں گمراہ سمجھا جاؤں گا اور اپنے آپ کو راہ ہدایت پر نہ پاؤں گا اگر میں نے اس فتوے سے موافقت کروں، میں تو وہ فیصلہ دوں گا جو رسول اللهﷺنے دیا ہے بیٹی کو آدھا اور پوتی کو چھٹا حصہ دوے کر جس قدر بچے گا وہ بہن کا ہے۔ (بخاری)
تشریح(محض ابوموسیٰکے فیصلے سے استدلال کر کے جس میں انہوں نے بیٹی اور بہن کو آدھا آدھا مال تقسیم کر کے پوتی کو محروم قرار دیا۔ مججوب الارث کا مسئلہ کھڑا کر لیا گیا حاکانکہ ابن مسعودنے اس فیصلے کو غلط اور گمراہی قرار دیا ہے۔)
ابن مسعودکے مسنون فیصلہ کی یہ صورت ہوئی:۔
میت نے تین وارث چھوڑے ایک بیٹی ایک پوتی اور ایک بہن۔ ابن مسعودنے مال کو تین حصوں پر تقسیم کر کے ایک تہائی میت کی بیٹی کو دیا اور دو تہائی میت کے مرحوم بیٹے کو حصہ قرار دے کر اس میں سے چھٹا حصہ مرحوم بیٹے کی بیٹی یعنی میت کی پوتی کو دیا اور باقی جو بچا وہ میت کی بہن کو دیا۔
اگر میت کی صرف لڑکیاں ہوں دو یا دو سے زیادہ تو وہ ثلث ترکے کے ان کو ملیں گے اگر ایک ہی لڑکی ہے اس کو آدھا ترکہ ملے گا۔ اگر میت کے ذدی الفروض ہیں سے بھی کوئی ہو اور لڑکے لڑکیاں بھی ہوں تو پہلے ذدی الفروض کا حصہ دے کر جو بچ رہے گا اس میں سے دوہرا حصہ لڑکے کو اور اکہرا حصہ لڑکی کو ملے گا، مثلاً میت نے ایک باپ ایک لڑکا اور تین لڑکیاں چھوڑے تو پہلےباپ کا چھٹا حصہ دے کر جو بچے گا اس میں سے دوہرا حصہ لڑکے کو اور اکہرا حصہ لڑکیوں کو دیں گیں۔ اور جب بیٹے بیٹیاں نہ ہوں تو پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں ان کے مثل ہوں گے جیسے وہ وارث ہوتے ہیں یہ بھی وارث ہوں گے۔)
حضرت علی کرم الله وجہہ کے تقسیم میراث کے فیصلے حضرت علی کرم الله وجہہ کو مسئلہ میراث اور ترکہ کی تقسیم پر بہت عبور تھا، ہر فیصلہ قرآن حکیم اور سنت بنویﷺکے مطابق ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ برسر منبر سوال ہوا کہ ایک شخص فوت ہوا اور ایک بیوی اور ماں باپ اور دوبیٹاں چھوڑے تو مال کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ فرمایا کل مال کے ۲۷ حصے ہوں گے تین حصے بیوی کے چار حصے باپ کے سولہ حصے دوبیٹیوں کے۔
اگر میت کے ماں باپ نہ ہوں صرف بیوی اور اولاد چھوڑے تو ترکہ اس طرح تقسیم ہوگا:۔
مثلاً میت نے ایک بیوی دوبیٹیاں دوپوتیاں ایک پڑپوتا ایک پڑپوتی چھوڑے تو کل مال چوبیس حصوں میں منقسم ہوگا تین حصے بیوی کے سولہ حصے دوبیٹیوں کے دوحصے دو پوتیوں کے، ایک حصہ پڑپوتی کا، دوحصے پڑپوتے کے،
اگر میت کا باپ نہ ہو دادایادادی ہو تو چھٹے حصہ کے حقدار ہوں گے، اگر میت کی ماں نہ ہوتو نانا یا نانی چھٹے حصے کے حقدار ہوں گے۔ دادا یا دادی میت کے باپ کی موجودگی میں حقدار نہیں ،اسی طرح میت کی ماں کی موجودگی میں نانا یا نانی حقدار نہیں۔
میت کے بیٹوں کی موجودگی میں پوتے اور پوتیاں حقدار نہیں اسی طرح میت کی بیٹیوں کی موجودگی میں نواسے اورنواسیاں حقدار نہیں، میت کے بیٹے اور بیٹیاں نہ ہوں پوتے پوتیاں اور اوور نواسےنواسیاں ہوں یا ان کی اولاد ہوتو وہ حقدار ہوں گے۔
میت کے ماں باپ نہ ہوں تو سگے بہن بھائی حقدار ہوں گے اگرسگے بہن بھائی نہ ہوں تو سوتیلے بہن بھائی حقدار ہوں گے خواہ علاتی ہوں یا اخیافی۔
توضیح: ایک ماں باپ سے سگے بہن بھائی عینی کہلاتے ہیں، سوتیلے بہن بھائی ایک باپ دو ماں سے علاتی کہلاتے ہیں۔ مادری بہن بھائی ایک ماں دو باپ سے اخیافی کہلاتے ہیں۔
اگر میت بیٹا یا پوتا چھوڑے تو میت کے باپ کو چھٹا حصہ ملے گا اگر میت کا بیٹا یا پوتا نہ ہو تو جتنے ذوی الفروض ہوں جن سب کا حصہ دے کر جو بچےگا چاہے وہ چھٹے حصہ سے زیادہ ہو باپ کو ملے گا۔
میت کی ماں کو جب میت کی اولاد یا سگے بھائی بہن ہوں تو چھٹا حصہ ملے گا، ورنہ تہائی حصہ ملے گا۔ جب میت کی اولاد نہ ہوں اس کی بیٹے کی اولاد ہو اور بھائی بہن بھی نہ ہوں اور میت نے بیوی اور ماں باپ چھوڑے ہوں تو بیوی کو چوتھائی حصہ ملے گا۔ باقی ماں باپ کو ملے گا۔ اگر میت صرف خاوند اور ماں باپ چھوڑے کوئی اولاد اور بھائی بہن نہ ہوں تو شوہر کو نصف مال ملے گا اور نصف ماں باپ کو ملے گا۔
میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا ترکہ میں سے اگر اولاد بھی ہو اور بھائی بہن بھی ہوں اگر اولاد نہ ماں باپ وارث ہوں تو ماں کو تہائی ملے گا اگر میت کے بھائی ہوں یا بہنیں ہوں تو ماں کو چھٹا حصہ ملے گا۔
میت کے اخیانی بھائی بہنیں جب کہ میت کی اولاد موجود ہو بیٹے بیٹیاں یا پوتے پوتیاں یانواسے نواسیاں یا ماں باپ موجود ہوں یا دادی دادی نانی تو حقدار نہ ہوں گے ہاں اگر مذکورہ وارثوں میں سے کوئی نہ ہو تو پھر میت کے ترکہ میں اخیانی بھائی بہن کا حصہ ہوگا۔
میت کا اگر ایک اخیانی بھائی اور ایک اخیانی بہن ہو تو ہر ایک کوچھٹا حصہ ملے گا اگر دو سے زیادہ ہوں تو تہائی مال میں سب شریک ہوں گے۔
اگر میت کے سگے بھائی بہن نہ ہوں تو سوتیلے بھائی بہن ان کے مثل ہوں گے۔ اگر میت کا صرف ایک سوتیلا بھائی ہو کل مال کا حقدار ہوگا اگر صرف ایک سوتیلی بہن ہو تو نصف مال کی حقدار ہوگی اگر دو یا تین یا زیادہ سوتیلی بہنیں ہوں تو دو تہائی حصہ کی حقدار ہوں گی۔ اگر سگی بہنیں اورسوتیلی بہنیں جمع ہوں اور سگی بہنوں کے ساتھ سگے بھائی بھی ہوں تو سوتیلی بہنیں حقدار نہ ہوں گی اگر میت کا سگا بھائی نہ ہو ایک سگی بہن ہو اور باقی سوتیلی بہنیں توسگی بہن کو نصف مال ملے گا اور سوتیلی بہنوں کو دوتہائی حصہ تقسیم ہوگا اگر سوتیلی بہنوں کے ساتھ سوتیلا بھائی بھی ہو تو باقی کا حقدار ہوگا۔
میت کے ماں باپ نہ ہوں اور اولاد بھی نہ ہو تو بھائی بہن حقدار ہوں گے اگر ایک بہن تو تو اس کو آدھا متروکہ ملے گا اگر دو بہنیں ہوں تو ان کو دوتھائی ملیں گے ایک بھائی اور ایک بہن تو بھائی کو دوہرا حصہ اور بہن کو اکہرا حصہ ملے گا۔
عصبہ وہ رشتہ دار ہیں جن کا کوئی خاص حصہ مقرر نہیں ہے، جب میت کا مال ذوی الفروض پر تقسیم ہو کر کچھ بچ رہے تو عصبات میں سے جو میت سے قریبی رشتہ رکھتا ہو حصہ پائے گا۔
وارثت زن و شوہر: خاونداور بیوی کی میراث کے لئے ترکہ کی تقسیم اس طرح ہوگی۔
شوہر کے لئے آدھا ترکہ ہے اس کی بیویوں کے مال میں سے اگر ان کی اولاد نہ ہو، اور اگر ان کی اولاد ہو تو مرد کو چوتھائی حصہ ملے گا بعد وصیت اور قرض ادا کرنے کے۔
اور بیویوں کو شوہر کے ترکہ سے چوتھائی ملے گا اگر اس کی اولاد نہ ہو۔ اور اگر اولاد ہو تو آٹھواں حصہ ملے گا بعد وصیت اور قرض ادا کرنے کے۔
میت کے حقیقی وارث ماں باپ اولاد ذکورواناث اور سگے بھائی بہن نہیں ماں باپ نہ ہوں تو دادا نانا دادی نانی حقدار ہیں۔ بیٹا بیٹی نہ ہوں تو پوتا پوتی نواسہ نواسی حقدارہیں سگے بہن بھائی نہ ہوں تو اخیانی اور علاتی بہن بھائی حقدار ہیں۔ چچا ماموں اور پھوپھی خالہ کا حصہ احادیث صحیحہ سے ثابت نہیں، ان رشتہ داروں کے حق میں وصیت کی جاسکتی ہے یا جب میت کا ذوی الفروض میں سے کوئی بھی وارث نہ ہو عصبات میں چچا ماموں پھوپھی خالہ کو ترجیح دی جائے گی۔
وصیت میں ذدی الفروض کے حقوق کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کسی حقدار کی حق تلفی مواخذہٴ آخرت کا باعث ہوگی۔ اگر میت نے کوئی وصیت کی ہو یا میت کے ذمہ قرض واجب الادا ہو تو ترکہ کی تقسیم سے قبل وصیت کو پورا کرنا اور قرض کو ادا کرنا واجب ہے۔
وصیت(۳۹۱)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے مرد اور عورت آخر عمر تک الله تعالیٰ کی طاعت و عبادت کرتے ہیں اور جب ان کی موت کا وقت آتا ہے تو وصیت کر کے جائز وارثوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ان کا مقررہ حق ان کو نہیں پہنچنے دیتے بلکہ کسی غیر حقدار کے لئے وصیت کر کے حق تلفی کرتے ہیں اور اپنے لئے دوزخ کو واجب کرتے ہیں۔ (احمد۔ ترمذی۔ ابوداؤد۔ ابن ماجہ)
   (۳۹۲)سعد بن ابی وقاصسے روایت ہے کہ رسول اللهﷺمیری عیادت کو تشریف لائے حجتہ الوداع کے سال میں اور میرا مرض شدید تھا میں نے عرض کیا یارسول اللهﷺمیری بیماری کا حال تو آپ دیکھتے ہیں اور میں مالدار ہوں میری وارث صرف ایک بیٹی ہے کیا میں دوثلث مال فی سبیل الله خیرات کرنے کی وصیت کردوں؟ فرمایا نہیں میں نے عرض کیا نصف مال کی وصیت کردوں؟ فرمایا نہیں پھر خود فرمایا کہ تہائی مال کی وصیت کردے اور یہ بھی بہت ہے تجھ کو اس کا ثواب ملے گا اگر تو اپنے وارثوں کو مال دار چھوڑ جائے تو اس سے بہتر ہے کہ ان کو نادار چھوڑے اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں۔ (موطا)
   (۳۹۳)انسسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جو شخص اپنے وارث کی میراث کاٹے گا، قیامت کے دن الله تعالیٰ اس کی میراث کاٹ لے گا۔ (ابن ماجہ۔ بیہقی)
   (میراث میں ثلث سے زیادہ کی وصیت جائز نہیں، وصیت کسی رشتہ دار یا کسی غیر کے لئے ہو یا کسی غیر جاریہ کے لیے ہو مال کے تہائی حصہ میں ہونی چاہیے)
   (۳۹۴)عبدالله بن عمرسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے کوئی مسلمان کسی جائز اور ضروری وصیت کا ارادہ رکھتا ہو تو انتظار نہ کرے ممکن ہے اچانک موت آجائے اور وصیت کا موقع نہ ملے۔ (موطا)
تلقین(۳۹۵)ابوسعیداور ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے مرنے والے کے سامنے لاالہٰ الاالله پڑھا کرو۔ (مسلم)
   (۳۹۶)معاذ بن جبلسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے کہ لا الہٰ الا الله جس شخص کا آخری کلام ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (ابوداؤد)
غسل میت(۳۹۷)ام عطیہ انصاریہسے روایت ہے کہ جب رسول اللهﷺکی صاحبزادی حضرت زینبنے وفات پائی تو آئے ہمارے پاس رسول اللهﷺاور فرمایا غسل دو اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے تین بار یا پانچ مرتبہ یا اس سے زیادہ اگر تم اس کی ضرورت سمجھو اور اخیر میں کافور بھی ڈالو اور جب تم غسل دینے سے فارغ ہوجاؤ تو مجھے اطلاع دو پس ہم جب غسل سے فارغ ہوئے تو رسول اللهﷺکو خبر دی، رسول اللهﷺنے اپنا تہبند ہم کو دیا اور فرمایا کہ اس تہبند کو اس کے بدن پھر لپیٹ دو۔ (موطا۔ بخاری۔ مسلم)
   (غسل کے وقت میت کے کپڑے اتاردیئے جائیں اور ستر کسی کپڑے سے ڈھانپ دیا جائے)