| | | |  


بِسْمِ اللهِ الرَّ حْمٰنِ الرَّ حِیْم

کتاب المناسک

حج فرض ہے(۲۰۳)ابن عباسسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے لوگو! الله تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے، جو شخص آمدورفت اور دیگر ضروری مصارف سفر کی استطاعت رکھتا ہو اس پر زندگی میں ایک بار حج کرنا فرض ہے جو اس سے زیادہ کرے وہ نفل ہے۔ (نسائی۔ دارمی)
قران(۲۰۴)ابن مسعودسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ حج اور عمرے کو یکے بعد دیگرے ادا کرو یعنی حج قِران کا احرام باندھو کہ اس میں حج اور عمرہ دونوں ہوتے ہیں۔ (ترمذی۔ نسائی۔ ابن ماجہ)
میقات(۲۰۵)ابن عباسسے روایت ہے رسول الله ﷺنے احرام باندھنے کی جگہ (میقات)مدینہ والوں کےلئے ذوالحلیفہ، شام والوں کے حجفہ۔ نجد والوں کے لئے قرن اور یمن والوں کے لئے یلملم مقرر فرمائی ہے۔ یہ سب مقامات احرام باندھنے کے ہیں، جو لوگ دور درازمقامات سے آئیں وہ جب ان مقامات میں سے کسی مقام میں گزریں احرام باندھ لیں اگر حج و عمرہ کی نیت و اردے سے آئے ہوں۔ اور جو لوگ مذکورہ مقامات کے اندر رہتے ہوں وہ اپنے گھر سے احرام باندھیں مکّہ والے مکّہ سے احرام باندھیں۔ (بخاری و مسلم)
احرام(۲۰۶)حضرت عائشہ صدیقہسے روایت ہےکہ ہم رسول الله ﷺکے آخری حج (حجتہ الوداع)میں رسول الله ﷺکے ساتھ چلے ہم میں سے بعض نے عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا ، اور بعض نے صرف حج کا احرام باندھا، رسول الله ﷺنے نے صرف حج کا احرام باندھا تھا، جس نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا وہ تو حلال ہوگیا اور جس نے صرف حج کا یا حج اورعمرہ دونوں کا احرام باندھا وہ حلال نہ ہوا یہاں تک کہ قربانی کا دن آگیا۔ (مسلم و بخاری)
(محرم اس شخص کو کہتے ہیں جو احرام باندھے ہو حج یا عمرہ کا حلال اس شخص کو جو احرام نہ باندھے ہو۔)
تمتع۔ قِران۔ افراد (حج کےمہینوں میں میقات سے صرف عمرہ کا احرام باندھ کر جانا پھر ایّام حج میں مکّہ سے احرام حج کا باندھ لینا اس کو تمتع کہتے ہیں کیونکہ اس میں فائدہ اٹھاسکتے ہیں عمرہ کا احرام کھول کر۔ اور میقات سے حج و عمرہ دونوں کا احرام ساتھ باندھنا اس کو قران کہتے ہیں، اس میں حاجی عمرہ کر کے احرام باندھے ہوئے مکّہ میں بیٹھا رہتا ہے حج کر کے احرام کھولتا ہے۔ اور میقات سے صرف حج کا احرام باندھنا اس کو افراد کہتے ہیں۔)
ارکان حج(۲۰۷)عبدالرحمٰن بن یعمرسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ حج کا سب سے بڑا رکن ذی الحجہ کی نویں تاریخ کو مقام عرفات میں ٹھہرنا ہے جو شخص فجر کی روشنی سے پہلے میدان عرفات میں پہنچ گیا اس نے حج کو پالیا، اور منیٰ میں ٹھہرنے کے تین دن ہیں جو شخص جلدی کرے اس پر گناہ نہیں اور کو شخص تین دن سے زیادہ قیام کرے اس پر بھی گناہ نہیں۔ (ترمذی۔ ابوداؤد۔ نسائی۔ ابن ماجہ۔ دارمی)
قربانی، ایام تشریق، رمی جمار(۲۰۸)حضرت عائشہ صدیقہسے روایت ہے رسول الله ﷺنے قربانی کے دن دس ذی الحجہ کو آخری وقت میں ظہر کی نماز پڑھ کر فرض طواف کعبہ کیا اس کے بعد منیٰ میں واپس آگئے اور ایام تشریق ۱۳۔۱۲۔۱۱ ذی الحجہ قیام فرمایا۔ ان دنوں میں رسول الله ﷺجمروں پر دن ڈھیلے کنکریاں مارتے تھے، ہر جمرہ پر سات کنکریاں اور ہر کنکری کے ساتھ الله اکبر کہتے تھے۔ پہلے اور دوسرے جمرے پر دیر تک ٹھہرتے اور عجز و زاری کے ساتھ دعا مانگتے۔ تیسرے جمرہ (عقبہ)پر کنکریاں مار کر چلے آتے اس کے قریب ٹھہرتے اور عجز و زاری کے ساتھ دعا مانگتے۔ تیسرے جمرہ (عقبہ)پر کنکریاں مار کر چلے آتے اس کے قریب ٹھہرتے نہیں تھے۔ (ابوداؤد)
سعی صفا مروہ(۲۰۹)حضرت عائشہ صدیقہسے روایت ہے فرمایا یارسول الله ﷺنے کہ رمی جمار یعنی جمروں پر کنکریاں مارنا اور صفاو مروہ کے درمیان سعی کرنا صرف ذکر الٰہی کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ (ترمذی۔ دارمی)
مسئلہ(۲۱۰)جابرسے روایت ہے رسول الله ﷺنے فرمایا کہ عرفات کا سارا میدان اور سارا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ اور سارا منیٰ اور مکّہ کا ہر راستہ اور ہر گلی قربانی کی جگہ ہے۔ (ابوداؤد۔دارمی)
مسئلہ(۲۱۱)ابن عباسسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺنے عمرہ کیا ذی الحجہ میں قبل حج کے تاکہ مشرکین کی مخالفت ہو۔ (بخاری و مسلم)(حج کے دنوں میں عمرہ کرنا ایام جاہلیت میں نہیں تھا)
   (۲۱۲)عبدالله بن عمرسے مروی ہے کہ جس نے عمرہ کیا شوال یا ذیقعدہ یا ذی الحجہ میں پھر مکّہ میں ٹھہرا رہا یہاں تک کہ حج پایا تو وہ متمتع ہے اگر حج کرے تو اس پر قربانی لازم ہوگی میسر ہو تو ورنہ تین روزے حج میں رکھے اور سات روزے جب حج سے لوٹے تب رکھے۔ (موطا)
   (حج کے مہینے ہیں شوال ذیقعدہ ذی الحجہ اگر کوئی شخص مقام میقات سے ان مہینوں میں سے کسی مہینہ میں عمرہ کی نیت سے احرام باندھے تو وہ مکّہ میں پہنچ کر عمرہ ادا کر کے احرام اتار سکتا ہے پھر اگر حج کے دن تک مکّہ میں ٹھہرے اور حج بھی کرے تو اس پر قربانی لازم ہوگی جو میسر ہو خواہ اونٹ یا گائے یا بھیڑ بکری اگر کچھ بھی میسر نہ ہو تو تین روزے مکہ میں رکھے اور سات روزے اپنے اپنے مقام پر لوٹ کر رکھے)
   (عمرہ کے ارکان میں طواف کعبہ اور سعی بین الصفا و المروہ ہے۔ اور حج کے ارکان میں آٹھ ذی الحجہ کو بعد غسل حج کا احرام باندھنا، نوذیالحجہ کو قبل فجر میدان عرفات میں حاضر ہوجانا۔ دسویں شب مزدلفہ میں ٹھہرنا، دسویں ذی الحجہ کو طواف کعبہ اس کے بعد قربانی اور منیٰ میں قیام ایام تشریق۔ جو شخص مقام میقات سے بہ نیت حج شوال یا ذی قعدہ میں احرام باندھے تو وہ جب تک حج سے فارغ نہ ہو احرام نہیں کھول سکتا۔)
احرام سے قبل غسل (۲۱۳)ابن عمراور زید بن ثابتسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺجب حج کے ارادہ سے روانہ ہوئے تو مسجد ذوالحلیفہ کے قریب ٹھہرے، پہلے غسل فرمایا پھر احرام باندھا۔ (بخاری۔ مسلم۔ ترمذی۔ دارمی)
طواف سے قبل وضو(۲۱۴)حضرت عائشہ صدیقہسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺجب مکّہ میں داخل ہوگئے تو پہلے وضو فرمایا پھر کعبہ کا طواف کیا۔ (بخاری و مسلم)
حجر اسود(۲۱۵)ابن عباسسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺنے اونٹ پر کعبہ کا طواف کیا، جب حجر اسود کے سامنے آتے تو اس لکڑی سے جو دست مبارک میں تھی حجر اسود کی طرف اشارہ کرتے اور الله اکبر کہتے۔ (بخاری)
   (حجر اسود کی طرف چھڑی سے اشارہ کر کے الله اکبر کہنے سے یہ مراد تھی کہ یہ پتھر کوئی چیز نہیں بلکہ لائق پرستش اور قابل عبادت صرف الله جل جلالہ کی ذات پاک ہے)
ایام جاہلیت میں حجر اسود بڑی قابل عظمت چیز تھی اور اس کی فضیلت میں طرح طرح کی روایات بیان کی جاتھیں ، کوئی کہتا کہ حجر اسود جنت سے آیا ہے دودھ سے زیادہ سفید تھا لوگوں کے گناہوں نے اس کو سیاہ کردیا، کوئی کہتا کہ قیامت کے دن حجر اسود کی دو آنکھیں ہوں گی اور زبان بھی ہوگی اس شخص کی گواہی دے جس نے اس کو بوسہ دیا ہوگاوغیرہ۔
ایام جاہلیت میں طواف کے وقت حجر اسود کو چومنا بہت بڑی عبادت تھی، آج بھی یہ رسم موجود ہے اور اس کو ارکان حج میں شامل کیا جاتا ہے چندوضعی حدیثیں بھی مروی ہیں جن سے رسول الله ﷺکا حجر اسود کو بوسہ دینا ثابت کیا جاتا ہے۔
مکّہ کی بعض پہاڑیوں میں ایک خاص قسم کا چکنا سنگ سیاہ پایا جاتا ہے۔ جب حضرت ابراہیم نے منہدم شدہ کعبہ کی ازسر نوتعمیر کی تو ایک سنگِ سیاہ بھی جو کہیں قریب پڑا تھا دیوار میں لگادیا۔ آلِ ابراہیم اس پتھر کو ایک یادگار نشانی سمجھ کر چومنے لگے۔
   (رسول الله ﷺکا طواف کے وقت حجر اسود کی طرف اپنی چھڑی سے اشارہ کر کے الله اکبر کہنا لوگوں کی ہدایت کے لئے تھا کہ مروجہ رسمِ بوسہ کوئی چیز نہیں)
   (۲۱۶)عروہ بن زبیراور عابس بن ربیعہسے مروی ہے کہ عمر بن الخطابنے جب وہ طواف کعبہ کر رہے تھے حجر اسود کی طرف متوجہ ہو کر کہا "ایک پتھر ہے نہ کسی کو نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان" (موطا۔ بخاری۔ مسلم)
حجتہ الوداع(۲۱۷)جابر بن عبدالله سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں نو برس رونق افروز رہے۔ اس عرصے میں حج نہیں کیا، دسویں برس حج کا ارادہ فرمایا اور اپنے ارادہ کا عام اعلان کرادیا، لوگ کثرت سےجمع ہوگئے اور مسلمانوں کی ایک لاکھ سے زیادہ جماعت رسول الله ﷺکے ساتھ روانہ ہوئی۔ ذوالحلیفہ پہنچ کر ٹھہر گئے، غسل فرما کر احرام باندھا، سب لوگوں نے بھی احرام باندھا۔ اسی اثناء میں اسماء بنت عمیسکے بطن سے محمد بن ابوبکرتولد ہوئے، اسمنے رسول الله ﷺ کی خدمت میں دریافت کرایا کہ میں کیا کروں؟ حکم دیا کہ غسل کر، لنگوٹ باندھ۔ اور احرام باندھ۔ رسول الله ﷺنے مسجد ذوالحلیفہ میں نماز پڑھی اور اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہوکر مع قافلہ روانہ ہوئے، جب میدان بیداء میں پہنچے تو بلند آواز سے لبیک کہی "لبیک اللھم لبیک لاشریک لک ان الحمد والنعمته لک والملک لاشریک لک" جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئے تو پہلے وضو فرمایا پھر سات طواف کعبہ کئے پھر مقام ابراہیم کی طرف بڑھکر واتخذوامن مقام ابراہیم مصلیٰ پڑھا اور مقام ابراہیم اور کعبہ کے درمیان دو رکعت نماز پڑھی، پھر باب الصفا سے باہر نکلے جب صفا کے قریب پہنچے تو پڑھا "ان الصفا والمروة شعائر الله" پھر صفا پہاڑی پر چڑھے اور کعبہ کی طرف رخ کر کے تکبیر کہی اور پڑھا لآ اٰلہ الا الله وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھوعلیٰ کل شییٴ قدیر لا الٰہ الا وحدہ اَنْجَزَ وَعْدَہ وَنَصَرَ عَبْدَہ وَھَزَمَ الْاَحَزَاَبَ وَحْدَہ۔ اس کے بعد دعا کی اور پہاڑی سے اترے پھر مروہ کی طرف چلے جب دونوں پہاڑوں کی نشیبی وادی میں پہنچے تو کچھ دور دوڑے اور مروہ پہاڑی پر پہنچ گئے اور وہاں بھی تکبیر کہی اور وہی کلمات پڑھے جو صفا پر پڑے تھے، جب آخری بار مروہ پر پہنچے تو مجمع کی طرف جو پہاڑی کے دامن میں تھامخاطب ہو کر فرمایا، اگر پہلے سے مجھ کو وہ بات معلوم ہوتی جو بعد کو معلوم ہوئی تو ہدی یعنی قربانی کے جانور اپنے ساتھ نہ لاتا اور حج کو عمرہ میں منتقل کردیتا، پس تم میں سے جو شخص اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لایا ہووہ حلال ہوجائے اور حج کو عمرہ کردے۔ یہ سن کر سراقہ بن مالکنے عرض کیا یارسول الله ﷺاسی سال ہمارے لئے یہ حکم ہے یا ہمیشہ کے لئے؟ رسول الله ﷺنے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر فرمایا داخل ہوا عمرہ حج میں، دوبارہ یہ الفاظ دہراکرفرمایا یہ حکم صرف اسی سال کے لئے نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہے۔ حضرت علی کرم الله وجہ یمن سے رسول الله ﷺکے لئے قربانی کے جانور لائے تھے۔ اس زمانہ میں حضرت علییمن کے حاکم تھے رسول الله ﷺنے حضرت علیسے پوچھا جب تم نے احرام باندھا تھا تو کیا نیّت کی تھی؟ انہوں نے کہا میں نے اس طرح نیت کی تھی کہ الله میں احرام باندھتا ہوں اس چیز کا جس کا احرام تیرے رسول نے باندھا ہے، رسول الله ﷺنے فرمایا میرے ساتھ تو قربانی کا جانورہے پس تم بھی میری طرح حلال نہ ہو اور جب تک حج سے فارغ نہ ہوجائے احرام باندھے رہو۔ رسول الله ﷺجو جانور ہمراہ لائے تھے اور حضرت علیکے لائے ہوئے جانور سب کی مجموعی تعداد سو تھی، جن لوگوں کے ساتھ قربانی کے جانور نہ تھے وہ سب حسب الحکم عمرہ کر کے احرام سے باہر نکل ائے اور اپنے سر کے بال کٹواڈالے۔ رسول الله ﷺاوروہ لوگ جو ہدی ساتھ لائے تھے احرام میں رہے، پھر جب ذی الحجہ کی آٹھویں تاریخ ہوئی تو منیٰ کی طردف چلنے کی تیار ہوئی ان صحابہ کرام نے جو عمرہ کر کے حلال ہوگئے تھے حج کا احرام باندھا اور قافلہ روانہ ہوا۔ منیٰ میں پہنچ کر مسجد حنیف میں ظہر۔ عصر۔ مغرب۔ عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھیں۔ بعد فجررسول الله ﷺنے حکم دیا کہ وادی نمرہ میں خیمہ نصب کیجائے، قریش کا خیال تھا کہ رسول الله ﷺمشعر الحرام کے قریب حج کے لئے کھڑے ہوں گے جیسا کہ قریش جاہلیت میں کرتے تھے لیکن رسول الله ﷺمزدلفہ سے آگے میدان عرفات میں جہاں خیمہ نصب تھاپہنچ گئے، خیمہ بالوں کا تھا۔ تھوڑی دیر خیمہ میں قیام فرمایا جب سورج ڈھل گیا تو اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہوکر وادیٴ نمرہ میں خطبہ دیا، فرمایا لوگو! تمہارے خون اور تمہارے مال اسی طرح تم پر حرام ہیں جس طرح تم اس دن اور اسی مہینہ میں قتل و غارت گری حرام سمجھتے ہو یعنی جس طرح تمہارے نزدیک عرفہ کے دن ذی الحجہ کے مہینہ اور مکہ کے اندر قتل و غارت گری حرام ہے اسی طرح ہمیشدہ ہمیشہ کے لئے اور ہر جگہ خون کرنا اور مال لینا آپس میں حرام ہے، خبردار ہوجاؤ کہ ایام جاہلیت کی ہر چیز یعنی ہر رسم و طریقہ میرے قدم کے نیچے پڑی ہوئی ہے اب اس کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہے اور وہ پست وپامال ہے، اور جاہلیت کے خون معاف کردئیے گئے اور پہلا خون جو میں اپنے خونوں میں سے معاف کرتا ہوں ابن ربیعہ کا خون ہے، اور جاہلیت کا سود معاف کیا گیا اور سب سے پہلا سود جو معاف کرتا ہوں اپنے سودوں میں سے وہ عباسابن عبدالمطلب کا سود ہے۔ اے لوگو! ڈرو الله تعالیٰ سے عورتوں کے معاملے میں تم نے ان کو الله تعالیٰ کی امان کے ساتھ لیا ہےاور امان میں رکھنے کا عہد کیا ہےاور حلال کیا ہے تم نے ان کو الله تعالےٰ کے حکم سے، عورتوں پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ بستروں پر کسی کو نہ آنے دیں، اور تمہاری اجازت کے بغیر کسی کو جس کا آنا تم کو پسند نہ ہو گھر میں نہ آنے دیں خواہ وہ مردہ ہو یا عورت پھر اگر وہ اس معاملے میں تمہارا کہنا نہ مانیں تو تم ان پر ضروری حد تک سختی کرسکتے ہو اور عورتوں کا حق تم پر یہ ہے کہ ان کو کھانا اور کپڑا دو او اپنے مقدور بھر ان کی جائز ضروریات پوری کرو۔ اے لوگو! میں تمہارے پاس ایسی چیز چھوڑتا ہوں جس کو تم مضبوطی سے تھامے رہوں گے تو میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہوگے۔ اور وہ کتاب الله ہے۔ اے لوگو! تم سے میری بابت پوچھا جائے گا کہ میں نے دین کے احکام تم تک پہنچائے یا نہیں؟ تو کیا جواب دو گے؟ لوگوں نے عرض کیا ہم اس امر کی شہادت دیں گے کہ آپ نے ہم تک سب احکام دین پہنچائے۔ اپنا فرض ادا کردیا اورہماری خیر خواہی کی۔ اس کے بعد رسول الله ﷺنے انگشت شہادت آسمان کی طرف اٹھا کر کہا اے الله تو گواہ ہو۔ اس کے بعد بلالنے اذان دی پھر تکبیر کہی اورظہر کی نماز پڑھی گئی پھر دوسری تکبیر اقامت کہی گئی اور عصر کی نماز ہوئی۔ ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی چیز نہیں پڑھی گئی۔ پھر رسول الله ﷺمیدان عرفات میں بیٹھ گئے۔ قبلہ کی طرف رخ کر کے، جب آفتاب غروب ہوگیا تو رسول الله ﷺاپنی اونٹنی پر تیزی سے چلے اور مزدلفہ میں داخل ہوئے یہاں مغرب و عشاء کی نمازیں ایک اذان اور دو تکبیر اقامت سے پڑھی گئیں اور ان نمازوں کے درمیان بھی کوئی چیز نہیں پڑھی گئی، پھر رسول الله ﷺنے آرام فرمایا یہاں تک کہ صبح ہوئی نماز اس وقت پڑھی گئی جب کہ صبح خوب روشن ہوگئی تھی، پھر رسول الله ﷺاونٹنی پر سوار ہو کر مشعر الحرام پر پہنچے جو مزدلفہ کی ایک پہاڑی ہے قبلہ رخ کھڑے ہو کر دعا مانگی اور تکبیر تہلیل و تحمید میں اس وقت تک مشغول رہے کہ دن خوب روشن ہوگیا پھر یہاں سے روانہ ہوکر وادی محسر میں داخل ہوئے یہاں اپنی سواری کو ذرا تیزی سے چلایا اور جمرہ کے قریب پہنچ کر سات کنکریاں پھینکیں اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہی، پھر قربان گاہ میں تریسٹھ جانور دست مبارک سے قربان فرمائے اور چونتیس جانور کی قربانی کے لئے حضرت علیکو حکم دیا، گوشت کی تقسیم کے بعد تھوڑا ساگوشت خاصہ کے لئے پکایا جس کو رسول الله ﷺاور حضرت علینے تناول فرمایا اس کے بعد کعبہ کی طرف روانہ ہوگئے، مکہ میں داخل ہو کر ظہر کی نماز پڑھی پھر اپنے چچا حضرت عباساور ان کی اولاد کے پاس تشریف لے گئے جو چاہ زمزم پر لوگوں کو پانی پلارہے تھے، انہوں نے ڈول بھر کر پیش کیا جس میں سے رسول الله ﷺنے نوش فرمایا اور کہا اے عبدالمطلب کی اولاد پانی کھینچو اور لوگوں کو پلادو اگر مجھ جو یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ تم پر ٹوٹ پڑیں گے تو میں خود تمہارے ساتھ پانی کھینچتا (مسلم)
رمی جمار(۲۱۷)حضرت عائشہ صدیقہسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺنے قربانی کے دن آخری وقت میں ظہر کی نماز پڑھ کر فرض طواف کیا اس کے بعد منیٰ میں واپس آگئے اور ایام تشریق یعنی ذی الحجہ کی گیارہ، بارہ اور تیرہ تاریخیں وہاں گزاریں۔ ان دنوں میں جمروں پر دن ڈھلے کنکریاں مارے تھے ہر جمرہ پر سات کنکریاں اور ہر کنکری کے ساتھ الله اکبر کہتے تھے پہلے اور دوسرے جمرے پر دیر تک ٹھہرتے اور عجز و انکساری کے ساتھ دعا مانگتے، تیسرے جمرہ پر کنکریاں مار کر چکے آتے اس کے قریب نہ ٹھہرتے۔ (ابوداؤد)
   (۲۱۸)ابن عمرسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺقربانی کے دن مکہ میں تشریف لائے پھر منیٰ واپس چلے گئے۔ (مسلم)
   (۲۱۹)انسسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺنے جمرہٴ عقبہ پر کنکریاں ماریں پھر منیٰ میں اپنی قیام گاہ پر آئے اور قربانی کے بعد سر منڈوایا (بخاری و مسلم)
سرمنڈانا(۲۲۰)ابن عمرسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺنے حجتہ الوداع میں اپنا سر منڈایا اور صحابہمیں سے بھی بعض نے سرمنڈایا بعض نے سرمنڈایا اور بعض نے بال ترشوائے۔ (بخاری و مسلم)
مسئلہ(۲۲۲)ابن عباسسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺکہ سر منڈانا عورتوں کے لئے نہیں بلکہ سر کے باس ترشوانا ان پر واجب ہے۔ (ابوداؤد، ترمذی، دارمی)
احکام حج(۲۲۳)ابن عمرسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺحجتہ الوداع میں ذوالحلیفہ سے احرام باندھ کر اور قربانی کے جانور ساتھ لے کر جانب مکہ روانہ ہوئے ہمراہیوں میں بعض تو اپنے ساتھ قربانی کے جانور لائے تھے اور اکثر کے ساتھ قربانی کے جانور نہ تھے ، رسول الله ﷺجب مکّہ میں پہنچے تو لوگوں سے فرمایا تم میں جو شخص قربانی کا جانور لایا ہو وہ حلال نہ ہو کسی چیز سے جو اس پر حرام ہے جب تک کہ وہ ارکان حج کو پورا نہ کر لے، اور جو شخص قربانی کا جانور نہ لایا وہ طواف کعبہ کرے صفا و مروہ کے درمیان سعی کرئے سر کے بال کٹوالے اور حلال ہوجائے پھر دوبارہ حج کا احرام باندھے عرفات کی حاضری کے بعد قربانی کر ے اگر میسر ہو اور جس کو قربانی میسر نہ ہو وہ تین حج کے ایام میں اور سات دن اپنے گھر پہنچ کرروزے رکھے، پھر رسول الله ﷺنے کعبہ کے سات طواف کئے، مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز پڑھی صفا و مروہ کے درمیان سات پھیرے کئے، پھر کسی چیز سے حلال نہ ہوئے جو احرام نے ان پر حرام کی تھی، یہاں تک کہ حج پورا کیااور قربانی کے دن جانور قربان کئے پھر ہر اس چیز سے حلال ہوگئے جو آپ پر حرام تھی اور جو لوگ اپنے ساتھ قربانی کے جانور لائے تھے انہوں نے بھی وہی کیا جو رسول الله ﷺنے کیا تھا۔ (بخاری و مسلم)
رمی جمار(۲۲۴)ابن عباسسے روایت ہے کہ اسامہ بن زیدعرفات سے مزدلفہ تک رسول الله ﷺکی سواری پر ساتھ رہے پھر مزدلفہ سے منیٰ تک فضل بن عباسسواری پر ساتھ رہے، دونوں کا بیان ہے کہ رسول الله ﷺاس سفر میں برابر لبیک کہتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺنے جمرہٴ عقبہ پر رمی کی۔ (بخاری و مسلم)
   (۲۲۵)ابن عمرسے روایت ہے رسول الله ﷺقیام منیٰ میں پہلے جمرہٴ اولیٰ پر جو مسجد خیف کے قریب واقع ہے سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے بعد الله اکبر کہتے پھر آگے بڑھتے اور نرم زمین پر قبلہ رو دیر تک کھڑے رہتے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے پھر جمرہٴ وسطیٰ پر سات کنکریاں مارتے اورہر کنکری کے الله اکبر کہتے پھر بائیں جانب بڑھتے اور نرم زمین پر قبلہ رخ دیر تک کھڑے رہتے دونوں ہاتھ اٹھاوے اور دعامانگتے، پھر جمرہٴ ذات العقبہ پر نالے میں کھڑے ہو کر سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری پر الله اکبر کہتے اس کے قریب دیر تک نہ ٹھہرتے اور واپس آجاتے۔ (بخاری)
حرمت والے مہینے (۲۲۶)حضرت ابوبکرصدیقسے روایت ہے کہ قربانی کے دن رسول الله ﷺنے خطبہ میں فرمایاچار مہینے باحرمت ہیں تین تو مسلسل ہیں اور چوتھا رجب ہے۔ آج کے دن سے تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری آبرو آپس میں تم پر ہمیشہ کے لئے اسی طرح حرام ہے جس طرح ان مہینوں میں قتل و غارت گری اور آبروریزی حرام ہے اور لوگوں تم عنقریب اپنے پروردگار کے حضور میں حاضر ہوگے تم سے تمہارے اعمال پوچھے جائیں گے۔ خبر دار میرے بعد تم گمراہ نہ ہوجانا کہ قتل و غارت گری اور آبروریزی کرنے لگو، تم میں سے جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ ان لوگوں کو یہ پیغام پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں۔ (بخاری و مسلم)
طواف الوداع (۲۲۷)ابن عباسسے روایت ہے کہ لوگ حج سے فارغ ہو کراپنے اپنے گھروں کو روانہ ہورہے تھے رسول الله ﷺنے فرمایا کوئی شخص اس وقت تک واپس نہ جائے جب تک رخصتی طواف کعبہ نہ کرلے، حائضہ عورتوں کو یہ طواف معاف ہے۔ (بخاری و مسلم)   (رخصتی طواف کو طواف الوداع کہتے ہیں۔)
طواف الزیارة (۲۲۸)عروہ بن الزبیرسے مروی ہے کہ جس شخص نے طواف الافاضہ یعنی طواف الزیارة ادا کیا اس نے اپنا حج پورا کر لیا اب اگر اس کو کوئی امر مانع نہ ہو تو رخصت کے وقت طواف الوداع کرے اگر کوئی مانع یا عارضہ در پیش ہو تو حج پورا ہوچکا۔ (موطا)
   (طواف الافاضہ یا طواف الزیارة وہ طواف ہے جو عرفات کی حاضری کے بعد کیا جاتا ہے اور یہ فرض ہے۔ طواف قدوم وہ طواف ہے جو مکّہ میں پہنچتے ہی کیا جاتا ہے اور یہ سنّت ہے، عرفات کی حاضری سے قبل بھی اگر مہلت ہو تو طواف قدوم مکرر کیا جانا افضل ہے)
مسئلہ(۲۲۹)عبدالله بن عمرسے مروی ہے کہ جو عورت احرام باندھے ہو حج یا عمرہ کا پھر اس کو حیض آجائے تو وہ لبیک کہا کرے جب اس کا جی چاہے اور طواف نہ کرے، سعی بین الصفا والمروہ بھی نہ کرے اور مسجد میں بھی نہ جائے جب تک پاک نہ ہو۔ (موطا)
ممانعت (۲۳۰)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کوئی عورت غیر محرم مرد کے ساتھ سفر نہ کرے۔ (بخاری و مسلم)
   (محرم وہ شخص ہے جس سے ہمیشہ کے لئے نکاح حرام ہو، جن عورتوں کے خاوند نہیں یا کوئی محرم نہیں اور انہوں نے حج نہیں کیا اگر وہ استطاعت رکھتی ہیں تو حج کو جانے والی عورتوں کے ساتھ سفر کریں)
محرم کی موت(۲۳۱)ابن عباسسے روایت ہے ایک شخص احرام کی حالت میں فوت ہوگیا رسول الله ﷺنے فرمایا اس کو غسل دو کفن پہناؤ اور سر مت ڈھانکو اور خوشبو نہ لگاؤ وہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھے گا۔ (بخاری و مسلم)
مسائل(۲۳۲)حضرت علی، ابن عباس، عبدالله بن عمرو بن العاصاور اسامہبن شریک سے روایت ہے کہ حجتہ الوداع میں لوگ رسول الله ﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر مسائل پوچھتے تھے، کوئی کہتا یا رسول الله ﷺمیں نے طواف سے پہلے سعی صفا مروہ کر لی، کوئی کہتا میں نے قربانی سے پہلے سر منڈالیا، کوئی کہتا میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی وغیرہ، رسول الله ﷺسب کے جواب میں فرماتے کوئی گناہ نہیں کچھ حرج نہیں، البتہ جس نے ظلم کیا یا کسی مسلمان بھائی کی آبروریزی کی وہ ہلاک ہوا۔ (بخاری۔ مسلم۔ ابوداؤد۔ ترمذی)
   (۲۳۳)ابوہریرہسے روایت ہے جب حجتہ الوداع کا اعلان ہوا تو ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ میری بہن نے حج کی نذر مانی تھی اور وہ نذر پوری کرنے سے پہلے فوت ہوگئی، فرمایا اگر اس پر کچھ قرض ہوتا تو کیا تو اس کو ادا کرتا؟ اس نے عرض کیا ہاں۔ فرمایا تو پھر الله تعالیٰ کا قرض بھی ادا کرو کہ اس کو ادا کرنا ضروری ہے۔ ایک اور شخص نے عرض کیا یارسول الله ﷺمیرا باپ بہت ضعیف العمر ہے سواری پر چل نہیں سکتا فرمایا تو اپنے باپ کی طرف سے حج و عمرہ کر لے۔ (بخاری۔ مسلم۔ ترمذی۔ ابوداؤد۔ نسائی)
   (۲۳۴)کعب بن عجرہسے روایت ہے کہ وہ رسول الله ﷺکے ساتھ احرام باندھے ہوئے تھے ان کے سر میں جوئیں پڑگئیں، رسول الله ﷺنے حکم دیا کہ سر منڈالے اور تین روزے رکھ یا چھ مسکینوں کو کھاناکھلا یا ایک بکری ذبح کر، ان میں سے جو کرے گا وہ کافی ہے۔ (موطا)
   (احرام کی حالت میں سہواً کوئی قصور ہوجائے یا کسی عارضہ یا مرض کے سبب ممنوعات احرام میں سے کسی امر میں تقصیر واقع ہو تو کفارہ واجب ہوتا ہے، یعنی تین روزے رکھنا یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا یا ایک بکری کی قربانی کرنا)
   (۲۳۵)عبدالله بن مالکسے روایت ہے عقبہ بن عامرنے رسول الله ﷺکی خدمت میں عرض کیا کہ اس کی بہن نے نذر مانی تھی کہ وہ پیدل حج کرے گی لیکن وہ اس کی طاقت نہیں رکھتی فرمایا جب وہ پیدل نہیں چل سکتی تو سواری پر جائے اور ندز کے کفارہ میں تین روزے رکھے۔ (ترمذی۔ ابوداؤد۔ نسائی۔ ابن ماجہ۔ دارمی)
   (کوئی شخص نذر مانے تو اس کو پورا کرنا چاہیے، اگر کسی مجبوری یا معذوری سے نذر پوری نہ کر سکے یا ناجائز نذر ہو تو اس کا کفارہ ادا کرے اسی طرح اگر کوئی شخص کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھائے اور وہ قسم پوری نہ کر سکے یا قسم کو توڑے یا جھوٹی قسم کھائے تو اس کا بھی کفارہ ہوگا، کفارہ کی مقدار استطاعت پر ہے، ایک اونٹ یا ایک گائے یا ایک بھیڑ بکری۔ اور دس یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا، یہ بھی نہ ہوسکے تو کم از کم تین روزے رکھنا)