| | | |  


بِسْمِ اللهِ الرَّ حْمٰنِ الرَّ حِیْم

کتاب المعاملات
حضرت داؤد کا فیصلہ(۳۴۰) ابوہریرہسے روایت ہے رسول اللهﷺنے حضرت داؤد کے زمانہ کا ایک واقعہ ارشاد فرمایا کہ ایک شخص نے ایک سے زمین خرید کی، خریدنے کے بعد زمین سے ایک گھڑا سونے کا نکلا، خریدنے والا بیچنے والے کے پاس گیا اور کہا یہ سونا تم لے لو میں نے تم سے صرف زمین خرید کی تھی سونا خرید نہیں کیا تھا، بیچنے والے نے کہا میں نے تم کو زمین ا ور جو کچھ زمین کے اندر ہے فروخت کیا تھا، یہ سونا تمہارا ہی ہے۔ آخر دونوں نے فیصلہ کی غرض سے اپنا معاملہ حضرت داؤد کے حضور میں پیش کیا، حضرت داؤد نے پوچھا کیا تمہارے اولاد ہے، ایک نے کہا میرے ایک لڑکا ہے دوسرے نے کہا میری ایک لڑکی ہے، حضرت داؤد نے فیصلہ کیا کہ لڑکے کا نکاح لڑکی سے کردو اور اس سونے کو ان پر خرچ کرو اور ساتھ ہی خیرات بھی کرو۔ (بخاری و مسلم)
حق و باطل(۳۴۱) سیدنا امام حسنسے روایت ہے میں نے رسول اللهﷺکی یہ بات یاد رکھی ہے کہ جو چیز تجھ کو شک میں ڈالے اس کو چھوڑ دے اور اس چیز کی جانب توجہ کر جو تجھ کو شک میں نہ ڈالے اس لئے کہ حق اور سچائی دل کے لئے اطمینان بخش چیز ہے اور باطل موجب ہے شک اور تردد کا۔ (ترمذی، نسائی۔ احمد)
نیکی(۳۴۲) وابصہ بن سعیدسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے نیکی وہ ہے جس سے نفس کو اطمینان اور دل کو سکون حاصل ہو اور گناہ وہ ہے جو نفس میں خلش پیدا کرے اور دل میں تردّد کا موجب ہو اگر لوگ اس کے جواز کا فتویٰ دیں۔ (دارمی)
ہدایت (۳۴۳) ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ مال میں جو چیز آدمی کو ملے گی وہ اس کی پرواہ نہ کرے گا کہ یہ حلال ہے یا حرام (بخاری)
   (۳۴۴) ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے ایک شخص اپنے دونوں ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھاتا اور کہتا ہے اے پروردگار! مجھ کو یہ چیز دے اور وہ چیز دے حالانکہ کھانا اس کا حرام، لباس اس کا حرام اور حرام ہی میں پرورش کیا گیا پھر کیونکر اس شخص کی دعا قبول کی جائے۔ (مسلم)
   (۲۴۵) جابرسے روایت ہے رسول اللهﷺنے وہ گوشت جس نے حرام سے پرورش پائی ہے جنت میں داخل نہ ہوگا جس گوشت نے حرام مال سے نشونما حاصل کی وہ دوزخ ہی کے لائق ہے (دارمی، بیہقی)
   (۳۴۶) حذیفہسے روایت ہے رسول اللهﷺنے فرمایا کہ تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جب موت کا فرشتہ اس کے پاس اس کی روح نکالنے آیاتو فرشتہ نے اس سے پوچھا کیا تو نے کوئی نیک کام کیا ہے اس نے کہا مجھ کو یاد نہیں پڑتا کہ میں نے کوئی نیک کام ہو فرشتہ نے کہا یاد کرو اور سوچ اس نے کہا کوئی بات یاد نہیں آتی مگر ہاں جب میں لوگوں سے خرید و فروخت کا معاملہ کرتا تو لوگوں پر تقاضہ کے وقت احسان کرتا تھا یعنی خوش حال کو مہلت دے دیتا تھا اور تنگ دست کو معاف کردیتا تھا۔ اس کے اس بیان پر حق تعالیٰ نے اس کی مغفرت فرمائی۔ (بخاری و مسلم)
صفائی معاملات(۳۴۷) عبید بن رفاعہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے تاجر لوگوں کا حشر دورغ گو فاجروں کے ساتھ ہوگا مگر وہ تاجر مستشنٰی ہوں گے جنہوں نے پرہیزگاری معاملات کی صفائی اور سچائی اختیار کی۔ (ترمذی۔ ابن ماجہ۔ دارمی۔ بیہقی)
دیانت (۳۴۸) رافع بن خدیجسے روایت ہے رسول اللهﷺسے پوچھا گیا کون سا پیشہ بہتر ہے؟ فرمایا خواہ صنعت و حرفت ہو یا تجارت و زراعت، بہترین کسب وہ ہے جو بددیانتی اور مکروفریب سے پاک ہو۔ (مسند احمد)
قسم کھانا(۲۴۹) ابوقتادہاور ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے خریدو فروخت کے معاملات میں قسمیں کھانا برکت کو زائل کردیتا ہے۔(مسلم و بخاری)
برکت(۳۵۰) حکیم بن خرامسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے اگر خریدنے والا اور بیچنے والا دونوں سچ بولیں اور چیز کی حقیقت بیان کردیں تو ایسی بیع میں برکت دی جاتی ہے اور اگر جھوٹ بولیں اور چھپائیں تو برکت زائل ہوجاتی ہے۔ (بخاری و مسلم)
سود(۳۵۱) ابوسعیدسے روایت ہے بلالعمدہ قسم کی کھجوریں لے کر رسول اللهﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے، رسول اللهﷺنے پوچھا یہ کہاں سے لایا۔ بلالنے عرض کیا میرے پاس خراب کھجور تھیں میں نے ان میں سے دو صاع دے کر ایک صاع یہ کھجوریں لے لیں، رسول اللهﷺنے فرمایا آہ یہ تو قطعی سود ہے ایسا نہ کر اگر تجھ کو ضرورت ہو تو پہلے اپنی کھجوریں بیچ ڈال پھر ان کی قیمت سے دوسری کھجوریں خرید لے۔ (بخاری و مسلم)
   (۳۵۲) ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے ایک ایسا زمانہ لوگوں پر آئے گا کہ سوائے سود کھانے والوں کے کوئی باقی نہ رہے گا اگر کوئی شخص ہوگا بھی تو اس کو سود ا غبار پہنچے گا (ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ)
   (۳۵۳) ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے معراج کی رات میں میرا گزر ایک قوم پر ہوا جن کے پیٹ بڑے بڑے گھڑوں کی مانند تھے اور ان پیٹوں میں سانپ بھرے ہوئے تھے جو پیٹوں کے باہر سے نظر آرہے تھے ، میں نے جبرئیل سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ جبرئیل نے کہا یہ سود خور ہیں۔ (احمد۔ ابن ماجہ)
   (۳۵۴) انسسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے تم میں سے جو شخص کسی کو قرض دے پھر قرض لینے والا اس کے پاس کوئی ہدیہ یا تحفہ بھیجے یا سواری کے لئے کوئی سواری پیش کرے تو وہ نہ سواری پر سواری ہو اور نہ اس کا ہدیہ قبول کرے مگر ہاں اس صورت میں قبول کرسکتا ہے جب کہ قرض دینے سے پہلے اس قسم کا معاملہ جاری ہو۔ (ابن ماجہ)
ممانعت(۳۵۵) ابن عباسسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے کسی چیز کو قبضہ میں لانے سے پہلے فروخت نہ کیا جائے۔ (بخاری و مسلم)
   (۳۵۶) ابن عمرسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جب کوئی شخص فروخت کی غرض سے کوئی چیز خرید کرے تو جب تک اس کی پوری خرید شدہ مقدار پر قبضہ کر کے اس جگہ سے جہاں سے وہ چیز خریدی ہے دوسری جگہ منتقل نہ کردے فروخت نہ کرے۔ (ابوداؤد، بخاری ، مسلم)
   (۳۵۷) ابن عمرسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے تم تجارتی سامان لانے والوں سے باہر جار نہ ملو اور اس وقت تک مال نہ خریدو جب تک وہ اپنے مال کو بازار میں نہ لائیں۔ (بخاری و مسلم)
   (۳۵۸) ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کے مقابلے میں کسی چیز کے دام نہ لگائے جب کہ وہ سود کرچکا ہو۔ (مسلم)
تشریح(غلّہ یا دیگر سامان تجارت لانے والوں سے شہر سے باہر جا کر راستہ ہی میں معاملہ طے کرلینا منع ہے۔ اگر کوئی شخص اس طرح بالا بالا معاملہ طے کر بھی لے تو مالک کو اختیار ہے کہ بازار کا نرخ معلوم کر کے پہلے بیع کو قائم رکھے یا فسخ کردے۔
دوشخصوں کے درمیان خریدوفروخت کا معاملہ طے ہوجانے پر تیسرا شخص معاملہ نہ کرے یعنی نہ تو زیادہ دام لگا کر طے شدہ چیز کو خرید کرے اور نہ اپنا مال اس کے مقابلہ میں کم داموں میں فروخت کرے۔
کسی کے مال میں عیب نکال کر بازاری نرخ سے کم قیمت پر خریدنا بھی مکروہ اور ممنوع ہے۔ ایسے سودے بازی کی بھی ممانعت ہے جس سے خریدنے والے یا بیچنے والے کو نقصان پہنچانا مقصود ہو۔
مال کا جھوٹی تعریف کر کے کسی کو خرید پر آمادہ کرنا۔ فریب دے کر دام زیادہ وصول کر یا جو چیز اپنے پاس موجود نہ ہو اس کے بارے میں قبل از وقت سودے بازی کا معاملہ کرنا یہ سب ناجائز ہیں۔
اجناس غلّہ یا دیگر غذائی اشیاء کو اس امید پر روکے رکھنا کہ جب نرخ گراں ہوگا تو فروخت کریں گے، بدترین خود غرضی ہے۔
دوشخصوں کے درمیان خرید و فروخت کا معاملہ ہورہا ہو تیسرا شخص محض معاملہ کو خراب کرنے کی نیت سے مال میں نقص نکالے یا زیادہ دام لگائے اور حقیقت میں خود خریداری مقصود نہ ہو تو یہ فعل بدترین اعمال میں شمار ہوگا۔
دودھ والے جانوروں کو دو تین وقت کا دودھ تھنوں میں رکھکر فروخت کرنا بہت بڑا دھوکا ہے)
ہدایت(۳۵۹) حضرت علی کرم الله وجہ سے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے کسی ضرورت مند کو اس کا مال سستے داموں فروخت کرنے پر مجبور نہ کرو بلکہ ممکن ہو تو اس کی مدد کرو۔ (ابوداؤد)
ممانعت(۳۶۰) ابن عمرسے روایت ہے کہ رسول اللهﷺنے منع فرمایا ہے نر کا مادہ پر چھوڑنے کی اجرت سے۔ (بخاری)
   (۳۶۱) عبدالله بن عمراور انسسے روایت ہے رسول اللهﷺنے کھیتی کے خوشوں کو اور پھلوں اور پھل دار درختوں کو بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ ان کی پختگی ظاہر نہ ہوجائے۔ (بخاری و مسلم)
   (۳۶۲) ابوہریرہسے روایت ہے کہ رسول اللهﷺغلّہ کے ایک ڈھیر کے قریب سے گزرے اور اس ڈھیر میں ہاتھ ڈالا تو کچھ تری محسوس ہوئی، فرمایا کہ اے غلّہ کے مالک یہ کیا ہے؟ اس نے عرض کیا یارسول اللهﷺاس پر مینہ برس گیا تھا۔ فرمایا تو نے ترغلّہ کو اوپر کیوں نہیں رکھا تا کہ لوگ دیکھ لیتے پھر فرمایا جس نے فریب کیا وہ میرے طریقہ پر نہیں ہے۔ (مسلم)
ہدایت (۳۶۳) واثلہ بن اسقعسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جو شخص عیب دار چیز کو بیچے اور اس کے عیب کو ظاہر نہ کرے وہ ہمیشہ غضب الٰہی میں مبتلا رہتا ہے اور فرشتے ہمیشہ اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔ (ابن ماجہ)
   (۳۶۴) ابن عباسسے روایت ہے رسول اللهﷺنے فرمایا کہ تم سے پہلی قومیں ناپنے اور تولنے میں کمی کرنے کے سبب ہلاک ہوئیں پس جو شخص ناپ تول میں کمی کرے گا ہلاکت میں پڑے گا۔ (ترمذی)
   (۳۶۵) حضرت عمرسے روایت ہے رسول اللهﷺنے فرمایا غلّہ کو گرانی کی توقع پر روکنے اور بند رکھنے والا تاجر معلون ہے۔ (ابن ماجہ۔ دارمی)
   (۳۶۶) حضرت عمرسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جو شخص غلّہ روک کر مسلمانوں کے ہاتھ گراں قیمت پر فروخت کرتا ہے الله تعالیٰ اس کو جذام اور افلاس میں مبتلا کردیتا ہے۔ (ابن ماجہ۔ بیہقی)
   (۳۶۷) ابوہریرہسے روایت ہے رسول اللهﷺنے ایک واقعہ ارشاد فرمایا کہ ایک شخص لین دین کرتا تھا اور اپنے کارندوں سے کہہ رکھا تھا کہ جب تم کسی تنگ دست کے پاس قرض وصول کرنے جاؤ تو اس سے درگزر کرو شاید الله تعالیٰ ہم سے در گزر فرمائے، چند جب وہ مرگیاتو الله تعالیٰ نے اس سے درگزر کی اور اس کے گناہوں کا معاف فرمادیا۔ (بخاری و مسلم)
رہن کا معاملہ(۳۶۸) سعید بن مسیبسے روایت فرمایا رسول اللهﷺنے کہ چیز کو رہن کر دینے سے رہن کرنے والے کی ملکیت ختم نہیں ہوجاتی، راہن اس کے منافع کا حق دار ہے اگر چیز ضائع ہوجائے تو رہن رکھنے والا تاوان کا ذمہ دار ہے۔ (شافعی)
مقروض سے نرمی اور مہلت (۳۶۹) ابوقتادہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جو شخص اپنا قرض وصول کرنے میں مفلس کو مہلت دے یا اپنے قرض میں سے جس قدر ممکن ہو معاف کردے تو الله تعالیٰ اس کو قیامت کی سختیوں سے بچائے گا۔ (مسلم)
قرض حسنہ(۳۷۰) ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جو شخص کسی سے قرض لے اور ادا کرنے کا دلی ارادہ رکھے تو الله تعالیٰ ادائے قرض کی سبیل پیدا کردیتا ہے اور جو شخص اس نیت سے قرض لے کہ ادا نہ کرے گا تو حق تعالیٰ اس کے مال کو تلف اور ضائع کردیتا ہے۔ (بخاری)
قرض معاف نہیں ہوگا (۳۷۱) عبدالله بن عمرسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے شہید کے سب گناہ بخش دیئے جائیں گے مگر قرض معاف نہیں کیا جائے گا۔ (مسلم)
ہدایت(۳۷۲) ثوبانسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جو شخص وفات پائے اور غرور، تکبر، خیانت اور قرض سے پاک ہو الله تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ (ترمذی۔ ابن ماجہ۔ دارمی)
   (۳۷۳) ابوموسیٰ سے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے خداوندتعالیٰ کے نزدیک کبیرہ گناہوں کے بعد جن سے حق تعالیٰ نے منع فرمایا ہے سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ بندہ اس حال میں مرے کہ اس پر قرض ہو اور اس نے اتنا مال نہ چھوڑا ہو جس سے اس کا قرض ادا ہوجائے۔ (ابوداؤد)
قبضہ ناجائز(۳۷۴) لیلیٰ بن مرہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جو شخص ناحق کسی کی زمین پر قبضہ کرے قیامت کے دن اس کو حکم دیا جائے گا کہ اس زمین کی مٹی اپنے سر پر اٹھائے۔ (احمد)
شفعہ(۳۷۵) جابرسے روایت ہے رسول اللهﷺنے ہر مشترک زمین میں جو تقسیم نہ کی گئی ہو شفعہ کا حکم دیا ہے خواہ گھر ہو یا باغ اور فرمایا ہے کہ دونوں شریکوں میں سے کسی شریک کو اپنا حصہ بیچنے کا حق حاصل نہیں ہے جب تک اپنے دوسرے شریک سے اجازت حاصل نہ کرلے۔ دوسرا شریک خواہ خود خرید لے خواہ دوسرے کے ہاتھ بیچنے کی اجازت دیدے۔ اگر کسی شریک نے دوسرے شریک کی اجازت کے بغیر اپنا حصہ بیچ ڈالا تو اس کا شریک ہی اس کے خریدنے کا حقدار ہے۔ (مسلم)
   (۳۷۶) ابورافعسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے ہمسایہ بھی قریب ہونے کے سبب شفعہ کا حق رکھتا ہے۔ (بخاری)
رہن(۳۷۷) سُعَیْد بن المُسیَّب سے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے شے مرہونہ روکی نہ جائے یعنی رہن کا روکنا جائز نہیں۔ (موطا)
   (کوئی شخص اپنا مال از قسم زمین یا مکان یا زیور یا ظروف یا جانور یا کوئی اور شے کسی کے پاس رہن رکھے اور میعاد مقرر کرے کہ اگر اپنی مدت میں نہ چھڑاؤں تو یہ چیز تیری ہوجائے گی ناجائز ہےجب بھی حاصل شدہ رقم پوری ادا ہوگئی شے مرہونہ واپس ہوگی اور میعاد مقررہ کی شرط لغو قرار پائے گی۔)
غصب(۳۷۸) ابوامامسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جو شخص کسی کا حق غصب کرے تو اس پر مواخذہ ہوگا اور سخت بازپرس ہوگی۔ صحابہ نے عرض کیا یارسول اللهﷺاگر وہ حق تھوڑا سا ہو تب بھی قابل مواخذہ ہوگا؟ فرمایا ہاں اگرچہ پیلو کی ایک شاخ ہی ہو۔(موطا)
   (قلیل کثیر میں فرق نہیں حقوق العباد تھوڑے ہوں یا بہت ان کی معافی نہ ہوگی۔ اس لئے اگر کسی کی حق تلفی ہوجائے تو وہ پہلے حق ادا کرے پھر معافی مانگے اور استغفار کرے۔)
آبادکاری (۲۷۹) سعیدبن زید سے روایت ہے رسول اللهﷺنے فرمایا کہ جو شخص بنجر غیر آباد زمین کو آباد کرے اور قابل کاشت بنائے وہ اس کا حق دار ہے۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد)
مزدوری(۳۸۰) عبدالله بن عمروسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے مزدور کو اس کا پسینہ شک ہونے سے پہلے مزدوری دیدو۔ (ابن ماجہ)
آبادکاری(۳۸۱) حضرت عائشہ صدیقہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے کہ جو شخص کسی ایسی غیر آباد زمین کو آباد کرے جو کسی کی ملکیت نہ ہو وہ اس زمین کا حقدار ہے۔ (بخاری)
   (حضرت عمرنے اپنے عہد خلافت میں اسی حدیث کے مطابق احکام جاری فرمائے تھے)
ہبہ (۳۸۲) جابرسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے کوئی شخص کسی کو بطور عطیہ کوئی چیز ہبہ کرے تو وہ اس کی ملکیت ہوگی زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی اور اس کے ورثا اس کے مالک ہونگے (مسلم)
   (۳۸۳) ابن عباسسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے ہبہ کر کے واپس لینا ایسا ہے جیسے کوئی کتا قے کر کے چاٹ لے۔ (بخاری)