| | | |  


بِسْمِ اللهِ الرَّ حْمٰنِ الرَّ حِیْم

کتاب الجنائز

کفن(۳۹۸)عمرو بن العاصسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے کہ مردہ کو قمیض پہنایا جائے اور تہبند پہنایا جائے پھر تیسرے کپڑے میں لپیٹ دیا جائے اگر ایک ہی کپڑا ہو تو اسی میں کفن دیا جائے۔ (موطا)
   (۳۹۹)جابرسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے تم میں سے جب کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھا کفن دے۔ (مسلم)
   (۴۰۰)ابن عباسسے روایت ہے فرمایا رسولﷺنے تم سفید کپڑے پہنا کرو اور سفید ہی کپڑے میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو۔ (ابوداؤد۔ ترمذی۔ ابن ماجہ)
جنازہ (۴۰۱)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جلدی کرو جنازہ کے لے جانے میں اس لئے کہ اگر وہ نیک آدمی کا جنازہ ہے تو اس کو نیکی کی طرف جلد پہنچانا چاہیے اور اگر وہ بدکار کا جنازہ ہے تو جلد اس کو اپنی گردونوں سے اتار کر رکھ دو۔ (بخاری و مسلم)
   (۴۰۲)ابوسعید خدریسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جب تم جنازہ کو دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ اور جو شخص جنازے کے ساتھ وہ اس وقت تک نہ بیٹھےجب تک کہ جنازہ کو نہ رکھ دیا جائے (بخاری)
قبر(۴۰۳)عروہ بن زبیرسے مروی ہے کہ مدینہ میں دو گورکن تھے ایک ان میں سے لحد یعنی بغلی کھودتا تھا اور دوسرا شق یعنی صندوقی کھودتا تھا، رسول اللهﷺکی وفات کے بعد صحابہ کی یہ رائے ہوئی کہ ان میں سے جو پہلے آجائے وہی اپنا کام کرے چناچہ لحد کھودنے والا پہلے آیا پس قبر شریف بغلی بنائی گئی۔ (موطا)
   (۴۰۴)قاسم بن محمدسے مروی ہے کہ میں نے حضرت عائشہکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا۔ اے میری ماں! کھول دو میرے لئے قبر رسول اللهﷺاور ان کی دونوں دوستوں ابوبکرو عمرکی حضرت عائشہنے دروازہ حجرے کا کھول دیا میں نے تینوں کی قبروں کو دیکھا جو نہ بہت اونچی تھیں اور نہ بالکل زمین سے ملی ہوئیں اور ان پر اطراف مدینہ کے سرخ کنکریاں بچھی ہوئی تھیں۔
ممانعت(۴۰۵)جابرسے روایت ہے رسول اللهﷺنے منع فرمایا ہے قبروں کو پختہ کرنے اور قبروں پر عمارت بنانے سے۔ (مسلم۔ ترمذی)
   (۴۰۶)عبدالله بن عمرسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جب تم میں سے کوئی مرجائے تواسے بند نہ رکھو بلکہ اس کو قبر کی طرف لے جلد لے جاؤ اور چاہیے کہ دفن کے بعد اس کے سرہانے پڑھاجائے اول سورہٴ بقر تا مفلحون اور پائنتی پڑھا جائے آخر سورہٴ بقرہ۔ (بیہقی)
برزخ (۴۰۷)عبدالله بن عمرسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جب تم میں سے کوئی مرجاتا ہے تو صبح اور شام اس کو مقام اس کا بتایا جاتا ہے اگر جنتی ہے تو جنت کا اور دوزخی ہے تو دوزخ کا پھر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ ہے تیرا ٹھکانا ہےجب تجھے اٹھائے گا الله تعالیٰ دن قیامت کے۔ (موطا)
بیماری بھی کفارہ ہے(۴۰۸)یحییٰ بن سعیدسے روایت ہے رسول اللهﷺکے سامنے ایک شخص نے کسی کے مرنے کی خبر سن کر کہا مبارک ہوا اس کا مرنا جو بغیر کسی تکلیف اور بیماری کے مرگیا۔ رسول اللهﷺنے فرمایا افسوس ہے تجھ پر تو کیا جانتا ہے اگر الله تعالیٰ اس کی بیماری میں مبتلا کرتا تو یہ بیماری اس کے گناہوں کا کفارہ ہوتی۔ (موطا)
   (۴۰۹)انسسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جب الله تعالیٰ اپنے کسی بندہ کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے گناہوں کی سزا دنیا ہی میں دے دیتا ہے اور جب کسی بندہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے گناہوں کی سزاؤں کو روک لیتا ہے یہاں تک قیامت کے دن اس کے گناہوں کی پوری سزا اس کو دے گا۔ (ترمذی)
ممانعت(۴۱۰)ابوہریرہسے روایت ہے کہ رسول اللهﷺنے عورتوں کو قبروں پر جانے کی ممانعت فرمائی ہے اور جو عورتیں قبروں کی زیارت کرتی ہیں ان پر لعنت فرمائی ہے۔ (ترمذی۔ ابن ماجہ)
   (۴۱۱)حضرت عائشہ صدیقہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے مُردوں کو برائی سے یاد نہ کرو یعنی ان کو برا نہ کہو اور ان کی برائیاں نہ بیان کرو، اس لئے کہ جو کچھ انہوں نے کیا وہ اس کے نتیجے اور انجام کو پہنچ چکے۔ (بخاری)