| | | |  


بِسْمِ اللهِ الرَّ حْمٰنِ الرَّ حِیْم

کتاب الجہاد

جہاد (جب کسی علاقہ میں کفار، مسلمانوں کے ساتھ آمادہٴ جنگ ہوں تو اس علاقہ کے ہرمسلمان پر جہاد فرض ہوگا، اور ساری دنیا کے مسلمانوں پر مجاہدین کی ہر ممکن اماد و اعانت فرض ہوگی۔)
   (۵۷۷)ابوعبسسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جس بندے کے پاؤں الله کی راہ میں غبار آلود ہوجائیں پھر ان کو دوزخ کی آگ نہیں چھوتی۔ (بخاری)
   (۵۷۸)زید بن خالدسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جس شخص نے کسی مجاہد کا سامان درست کردیا اس نے گویا جہاد ہی کیا اور جو شخص مجاہد کے اہل وعیال کا خدمت گزار بنا اس نے بھی گویا جہاد ہی کیا۔ (بخاری و مسلم)
منافق(۵۷۹)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جو شخص جان اور مال سے جہاد میں شریک نہ ہو وہ منافق ہے۔ (مسلم)
مجاہد(۵۸۰)ابوموسیٰسے روایت ہے ایک شخص نے رسول اللهﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ایک شخص تو اس غرض سے شریک جہاد ہوتا ہے کہ مال غنیمت پائے اور ایک شخص شہرت ناموری حاصل کرنے کہ لوگ اس کی عزت کریں، ان میں سے حقیقی مجاہد کون ہے؟ فرمایا وہ شخص حقیقی ہے جو دین اسلام کی سر بلندی کے لئے جہاد کرے۔ (بخاری و مسلم)
ہدایت(۵۸۱)ابو امامہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جس شخص نے نہ تو جہاد کیا نہ مجاہدین کا سامان درست کیا اور نہ مجاہدین کے اہل و عیال کی خبر گیری کی اس کو الله تعالیٰ کسی سخت مصیبت میں مرنے سے پہلے مبتلا کرے گا۔ (ابوداؤد)
   (۵۸۲)جزیمسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جو شخص جہاد فی سبیل الله میں کچھ خرچ کرے اس کے حساب میں سات سو گنا ثواب لکھا جاتا ہے۔ (ترمذی۔ نسائی)
شہید(۵۸۳)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسو ل اللهﷺنے جہاد میں شہید ہونے والا قتل کی صرف اتنی تکلیف محسوس کرتا ہے جتنی کہ تم چیونٹی کے کاٹے کی تکلیف محسوس کرتے ہو۔ (ترمذی۔ دارمی۔ نسائی)
   (۵۸۴)ابن عباسسے روایت ہے رسول اللهﷺنے اپنے صحابہ سے فرمایاتمہارے بھائی جو احد کی جنگ میں شہید ہوئے الله تعالیٰ نے ان کی روحوں کو سبز پرندوں کے جوف میں داخل کر دیا، جنت کی نہروں پر آتے ہیں جنت کے میوے کھاتے ہیں اور ان طلائی قندیلوں میں آرام حاصل کرتے ہیں جو زیر عرش معلق ہیں، ان شہیدوں نے جب اپنے کھانے پینے اور آرام کرنے کی مسرتوں کو حاصل کیا تو کہتے لگے کون ہے جو ہمارے بھائیوں کو ہمای طرف سے ہی پیغام پہنچائے کہ ہم کو جنتی زندگی ملی ہے تاہ وہ بھی جنتی زندگی حاصل کرنے میں بے پروائی سے کام نہ لیں اور جہاد کے موقع پر سستی نہ کریں۔ الله تعالیٰ نے ان کی خواہش پاکر یہ آیتہ کریمہ نازل فرمائی۔ ولا تحسین الذین قتلوافی سبیل الله امواتاً بل احیاء عند ربھم یرزقون۔ جو لوگ الله کی راہ میں قتل ہوئے ان کو مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کی طرف سے رزق پاتے ہیں۔ (ابوداؤد)
حیات جاودانی (جو لوگ جہاد میں شہید ہوتے ہیں قیامت سے قبل ہی ان کو حیات جاودانی عطا ہوتی ہے اور نعمائے جنت سے انہوں رزق ملتا ہے۔ سب مخلوقات کو قیامت کے بعد حیات اُخروی نصیب ہوگی مگر شہداء روز محشر سے پہلے ہی حیات ابدی سے سرفراز فرمائے جاتے ہیں۔)
ہدایت(۵۸۵)عقبہ بن عامرسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے کافروں سے مقابلہ کرنے کے لئے تم جس قدر اپنی قوت کو مضبوط کرسکو کرو، جس نے فنون جنگ کو سیکھا اور پھر چھوڑ دیا اس نے نافرمانی کی۔ (مسلم)
   (۵۸۶)جرید بن عبداللهسے روایت ہے فرمایا رسو ل اللهﷺنے گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت اور بھلائی ہے قیامت تک ان کے ذریعہ جہاد میں حاصل ہوتا ہے ثواب اور مال غنیمت۔ (مسلم)
   (۵۸۷)عتبہ ابن سلمیٰسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے گھوڑوں کی پیشانی کے بال، عیال اور دم نہ کاٹو، اس لئے کہ دم ان کی چونری ہے جس سے وہ مکھیاں اڑاتے ہیں اور عیال ان کو گرم رکھتی ہے او پیشانی کے بالوں میں خیر و برکت ہے۔ (ابوداؤد)
غنیمت(۵۸۸)ابن عمرسے روایت ہے رسول اللهﷺنے مال غنیمت میں سے سوار مجاہد کے لئے تین حصے مقرر فرمائے ہیں۔ ایک حصہ سوار مجاہد کا اور دوحصے اس کے گھوڑے کے۔ (بخاری و مسلم)
   (۵۸۹)ابی امامہسے روایت ہے فرمایا رسو ل اللهﷺنے میری امت کو دوسری امتوں پر فضیلت بخشی ہے اور مال غنیمت کو ہمارے لئے حلال قرار دیا ہے۔ (ترمذی)
ممانعت(۵۹۰)رباح بن ربیعاور انسسے روایت ہے رسول اللهﷺنے مجاہدین کو جنگ میں کمزور ضعیف بوڑھوں، عورتوں ، بچوں اور مزدوروں کو قتل کرنے یا زخمی کرنے کی ممانعت فرمائی ہے ۔(ابوداؤد)
   (جہاد مال غنمیت کے ساتھ کبھی مرد، عورت، اور بچے بھی گرفتار ہوکر آتے تھے۔ عورتیں اور بچے مجاہدین میں تقسیم کردیئے جاتے تھے اور ہدایت کردی جاتی تھی کہ ان کی خوراک و آسائش کا خیال رکھا جائے اور ان سے برداشت سے زیادہ کام نہ لیا جائے۔
مرد قیدیوں کو باندھ کر رکھا جاتا تھا جو بطور تاوان جنگ معاوضہ ادا کرنے پر رہا کردیئے جاتے تھ، جو قیدی معاوضہ ادا نہیں کرسکتے تھے ان میں سرکش اور شریر افراد کو قتل کردیا جاتا تھا اور باقی کو ایک مقررہ معیاد تک محبوس رکھ کر مختلف خدمات لی جاتی تھیں، پھر چھوڑ دیا جاتا تھا اور جو قیدی اسلام قبول کر لیتے تھے ان کو آزاد کردیا جاتا تھا۔)
   (۵۹۱)انسسے روایت ہے رسول اللهﷺنے خالد بن ولیدکو علاقہٴ دومہ کے سرکش سردار کی سرکوبی کے لئے بھیجا، خالداور ان کے ہمراہیوں نے سردار کو گرفتار کرلیا۔ اور دربار نبویﷺمیں لے آئے۔ اس نے جزیہ دینا قبول کر کے اپنی رہائی کی درخواست کی رسول اللهﷺنے اس کی درخواست منظور فرما کر جزیہ پر اس سے صلح کر لی اور اسے چھوڑ دیا۔ (ابوداؤد)
   (دومہ مملکت اسلامیہ کی مفتوحہ حدود میں واقع تھا اور وہاں کا سردار اکیدر نامی بڑا سرکش تھا۔ جو کفار دارالاسلام میں آباد تھے وہ ذمی کہلاتے تھے ان سے جزیہ لیا جاتا تھا۔ اکیدر نے جزیہ دینے سے انکار کردیا تھا۔ جس کی بنا پر اس کو گرفتار کیا گیا۔)
   (۵۹۲)معاذسے روایت ہے رسول اللهﷺنے جب ان کو یمن روانہ فرمایا تو یہ حکم دیا ہ ہر بالغ کا فرذمی سے جزیہ میں ایک دینار لیں یا ایک دینار کی قیمت کا یمنی کپڑا۔ (ابوداؤد)
   (۵۹۳)حرب بن عبیداللهسے مروی ہے کہ رسول اللهﷺنے یہود و انصاری کفار پر مال تجارت میں سے دسواں حصّہ جزیہ واجب قرار دیا ہے، مسلمان پر جزیہ نہیں۔ (ابوداؤد)
   (۵۹۴)عبدالرحمٰن بن عوفسے روایت ہے کہ رسول اللهﷺنے مقام ہجر کے محبوس سے جزیہ لیا ہے۔ (بخاری)
   (۵۹۵)اسلمسے مروی ہے کہ حضرت عمربن خطاب نے ان لوگوں پر جو زیادہ مقدار میں سونا رکھتے تھے چار دینار جزیہ مقرر کیا تھا اور جو چاندی رکھتے تھے ان پر چالیس درہم جزیہ تھا اور ان پر یہ بھی واجب تھا کہ وہ تین دن تک مسلمان عّمال کی مہمانی کریں۔ (موطاء)
مسئلہ(جو کافر ذمی بغیر جنگ و جدال کے جزیہ پر راضی ہوئے اور خوشی کے ساتھ مسلمانوں سے صلح کی ان میں سے اگر کوئی برضا و رغبت مسلمان ہوجائے تو اس کو جزیہ معاف ہوگا مگر اس کی ضبط شدہ جائیداد واپس نہ ہوگی۔)
جہاد میں جو مال حاصل ہوتا ہے اس کو غنیمت کہتے ہیں، مال غنیمت کے چار حصّے مجاہدین میں تقسیم ہوتے ہیں اور ایک حصّہ بیت المال میں جمع ہوتا ہے اس پانچویں حصّہ میں سے بھی بطور عطیہٴ انفال کبھی کسی جماعت مجاہدین کو یا کسی ایک مجاہد کو کسی خاص امر کے صلہ میں کچھ دیا جاتا ہے کس سے اس کی عزت افزائی مقصود ہوتی ہے۔
مال غنیمت کا وہ پانچواں حصّہ جو خمس کے نام سے بیت المال میں جمع ہوتا ہے اس کو جنگی عسکری ضروریات کے علاوہ رفاہ عامّہ کے کاموں میں بھی خرچ کیا جاتا ہے۔
جو مجاہدین جنگ میں شہید ہوتے ہیں ان پر نماز جنازہ نہیں پڑھی جاتی اور نہ ان کو غسل و کفن دیا جاتا ہے بلکہ جن کپڑوں میں شہید ہوئے ہیں انھیں کپڑوں میں دفن کیا جاتا ہے۔ وہ شہدا جو معرکہ میں سخت زخمی ہو کر اٹھائے لائے جائیں اور اپنے خیمہ گاہ یا مسکن میں آکر کچھ دیر بعد وفات پائیں ان کو غسل و کفن دیا جائے گا اور نماز جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔
جہاد کی فضیلت(۵۹۶)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جو شخص الله کی راہ میں جہاد کرے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی دن بھر روزہ رکھے رات بھر عبادت کرے یعنی گھر سے جہاد کی نیت سے نکلنے اور بعد جہاد لوٹنے تک گویا ہر وقت عبادت میں ہے۔ (موطاء)
   (۵۹۷)انسسے روایت ہے حارثہ بن سراقہکی ماں نے رسول اللهﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یارسول اللهﷺکیا آپ حارثہکا حال مجھ سے بیان نہیں کریں گے؟ حارثہبدر کی لڑائی میں شہید ہوا تھا، اگر وہ جنت میں ہو تو صبر کروں اور کسی دوسری جگہ ہو تو خوب روؤں۔ فرمایا حارثہ کی ماں! جنت میں بہت سے باغ ہیں اور تیرا بیٹا فردوس اعلیٰ میں ہے۔ (بخاری)
   (۵۹۸)مقدام بن معدی کربسے روایت ہے فرمایا رسو لاللهﷺنےشہید کا کا پہلا قطرہ گرتے ہی بخشا جائے گا، جان نکلتے ہی اس کو جنت میں اس کا مقام دکھایا جائے گا، عذاب قبر سے محفوظ رہے گا اور حیات جاودانی حاصل ہوگی۔ (ترمذی۔ ابن ماجہ)
پیشن گوئی(۵۹۹)جابر بن سمرہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے دین اسلام ہمیشہ قائم رہے گا اور مسلمانوں کی ایک جماعت کہیں نہ کہیں ہمیشہ جہاد کرتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت قائم ہو۔ (مسلم)
الله تبارک و تعالیٰ کی تائید وتوفیق سے پہلی جلدی جس میں (۵۹۹)احادیث صحیحہ ہیں ختم ہوئی، دوسری جلد آثار صحابہ کا مجموعہ ہے۔
مولائے کریم قبول فرمائے اور عمل کی توفیق بخشے۔
جو کام جماعتِ علمائے امت کو کرنا چاہیے تھا وہ ایک اُمیّ محض کو کرنا پڑا۔ وما توفیقی الّا بالله۔
ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم وتب علینا انک التواب الرحیم وصلّے الله تعالیٰ علٰی خیر خلقہ سیدنا ومولانا محمد وعلیٰ اٰله و اصحابه اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین۔
 

اسد الرحمٰن قدسی
۱۲ ربیع الاوّل ۱۳۷۰ھ