| | | |  


بِسْمِ اللهِ الرَّ حْمٰنِ الرَّ حِیْم

کتاب الایمان

ایقان(۱)حضرت عثمانسے روایت ہے۔ فرمایا رسول اللهﷺ نے کہ جو شخص مرے اور وہ اس امر کا یقین رکھتا ہو کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (مسلم)
   (۲)حضرت جابرسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے دوباتیں دوزخ اور جنت کو واجب کرتی ہیں۔ جو شخص شرک کی حالت میں مرے دوزخ میں داخل ہوگا اور جو شخص اس حال میں مرے کہ الله کے ساتھ کسی کو شریک نہ سمجھتا ہو جنت میں داخل ہوگا۔ (مسلم)
   (۳)عبادہ بن صامتسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ جو شخص صدق دلی کے ساتھ زبان سے اس امر کی شہادت دے کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد ﷺالله کے رسول ہیں الله تعالےٰ اس پر دوزخ کی آگ حرام کردیتا ہے۔
ارکان اسلام(۴)ابن عمرسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔۱- اس امر کی گواہی دینا کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺالله کے بندے اور رسول ہیں۔ ۲۔ نماز پڑھنا۔ روزے رکھنا۔ ۴۔ زکوٰة دینا۔ ۵۔حج کرنا۔ (بخاری ومسلم)
   (۵)حضرت عباسبن عبدالمطلب سے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے کہ جس شخص نے الله کو اپنا رب، اسلام کو اپنا دین، محمدﷺکو اپنا رسول مان لیا اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا (مسلم)
اجزائے ایمان(۶)حضرت علیسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے کہ بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اس امر کا یقین نہ رکھے کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں اور مجھ کو رسول برحق نہ سمجھے اور قیامت و تقدیر کو نہ مانے۔ (ترمذی و ابن ماجہ)
   (۷)عمروبن عبسہکہتے ہیں میں نے رسول الله ﷺکی خدمت میں چند سوالات پیش کئے۔ یارسول الله ﷺابتدائے اسلام کے وقت آپ کے ساتھ امر دین میں کون تھا؟ فرمایا ابوبکراور بلال۔ پھر میں نے پوچھا اسلام کی نشانی کیا ہے؟ فرمایا خوش کلامی اور بھوکوں کو کھانا کھلانا۔ میں نے پھر پوچھا ایمان کی علامت کیا ہے؟ فرمایا صبر اور سخاوت۔ میں نے پھر عرض کیا مسلمان کی تعریف کیا ہے؟ فرمایا اس کے ہاتھوں اور زبان سے خلق خدا محفوظ رہے۔ میں نے پھر پوچھا بہترین امور کیا ہیں؟ فرمایا اچھے اخلاق اختیار کرنا اور ان باتوں کو ترک کرنا جو ناپسندیدہ ہوں، اور آخِر شب کی عبادت۔ (احمد)
وساوس(۸)ابوہریرہنے کہاکچھ لوگ رسول الله ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول الله ﷺہمارے دلوں میں بعض وقت ایسی باتیں پیدا ہوتی ہیں کہ ہم میں سے کوئی ان کو زبان پر لانے کا روادار نہیں۔ فرمایا کی واقعی تم ان کو زبان سے ادا کرنے کو براجانتے ہو۔ عرض کیا ہاں یارسول الله، فرمایا یہ ایمان کی علامت ہے اور فرمایا میری امت کے دل میں جو وسوسے پیدا ہوتے ہیں الله نے ان کو معاف فرمادیا ہے جب تک کہ انسان ان وسوسوں پر عمل نہ کرے یا زبان سے ادا نہ کرے۔ (بخاری و مسلم)
ہمزاد یا قرین(۹)ابن مسعود سے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے کہ تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کا ہمنشین یا مصاحب کوئی جن یا ملائکہ میں سے مقرر نہ کیا گیا ہو، صحابہ نے عرض کیا یارسول ا لله آپ کے لیے بھی؟ فرمایا ہاں میرے لئے بھی لیکن الله نے مجھ کو اپنی مدد سے اس پر غلبہ بخشا ہے (مسلم)
شیطان(۱۰)ابوہریرہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے کہ تم میں سے کسی کسی میں شیطان یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ آسمان کس نے پیدا کیا اور زمین اور ساری مخلوقات کس نے پیدا کی، یہاں تک کہ الله کو کس نے پیدا کیا۔ پس جب اس قسم کے وسوسے پیدا ہوں تو الله سے پناہ مانگنا اور ایسے خیالات کو دل سے دور کرکے فوراً توبہ کرنا چاہئیے (بخاری ومسلم)
تقدیر(۱۱)ابن ویلمی نے کہا ابی ابن کعبمیرے پاس آئے میں نے ان سے کہا کہ میرے دل میں کچھ شبہات پیدا ہوئے ہیں تم رسول اللهﷺکی کوئی حدیث بیان کرو شاید میرے شبہات دو ر ہوجائیں ابی ابن کعبنے کہا اگر خدا وند تعالیٰ نے ساری مخلوقات کو عذاب میں مبتلاکردے یا سب پر رحم فرمائے بہرحال بہتر ہی ہوگا وہ مالک و مختار ہے، اگر تو جبل احد کے برابر بھی فی سبیل الله سونا خیرات کرے جب تک تو تقدیر الہٰی پر کامل ایمان نہ رکھے تیرا عمل خیر بارگاہِ الہٰی میں قبول نہ ہوگا، اس بات کو اچھی طرح سمجھ لے کہ جو کچھ تجھےحاصل ہو وہ مقدر سے ہے جس میں تیری سعی کو دخل نہیں اور جو کچھ تجھے حاصل نہ ہو اس کا حصول کسی سعی سے بھی ممکن نہیں کیونکہ تقدیر الٰہی ہر امر پر غالب ہے، اگر تو تقدیر الٰہی پر کامل ایمان نہ رکھے اوراسی حالت میں مرجائے تو دوزخ ہی ٹھکانا ہوگا۔ ابن ویلمینے کہا ابی بن کعبکا یہ بیان سن کر میں عبدالله بن مسعودکے پاس پہنچا انہوں نے بھی اسی بیان کی تائید و تصدیق کی پھر میں حذیفہ بن الیمانکے پاس گیا انہوں نے بھی ایسا ہی کہا کہ پھر میں زید بن ثابتکے پاس گیا انہوں نے بھی رسول الله ﷺکی ایسی ہی حدیث بیان کی۔ (ابوداؤد ابن ماجہ)
   (۱۲)حضرت علیسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کا ٹھکانا نہ لکھاگیا ہو دوزخ میں یا جنت میں، لوگوں نے عرض کیا یارسول اللهﷺتو پھر ہم اپنے نوشتہٴ تقدیر ہی پر بھروسہ نہ کرلیں اور اعمال کو چھوڑدیں، فرمایا عمل کرو اس لئے کہ جو شخص جس چیز کے لئے پیدا کیا گیا وہ چیز اس کے لئے آسان کی گئی ہے یعنی جو شخص نیک بخت ہے اس کے لئے نیک بختی کے کام آسان کردیئے جاتے ہیں اور بدبخت ہیں ان کے لئے بدبختی کے کام سہل کردیئے جاتے ہیں وہ اسی کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ (بخاری و مسلم)
برزخ(۱۳)عبدالله بن عمرسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے کہ جب کوئی مرتا ہے تو برزخ میں صبح و شام اس کو اس کا ٹھکانا دکھایا جاتا ہے یعنی جنتی کو جنت اور دوزخی کو دوزخ دکھائی جاتی ہے اور اس سے کہا جاتا ہے یہ ہے تیرا ٹھکانا تو اس کا انتظار کر اس وقت تک کہ قیامت کے دن تجھ کو اٹھا کر وہاں الله کے حکم سے بھیجا جائے (بخاری و مسلم)
سوال قبر(۱۴)حضرت عثمانسےروایت ہے رسول اللهﷺجب میت کے دفن سے فارغ ہوتے تو قبر کے پاس کھڑے ہوکر فرماتے کہ بھائی کے لیے استغفار کرو اور ثابت قدم رہنے کی دعا مانگو اس لئے کہ اس وقت اس سے سوال کیا جاتا ہے۔ (ابوداؤد)
   (۱۵)جابرکہتے ہیں کہ سعد بن معاذکی وفات پر ہم رسول اللهﷺکے ساتھ ساتھ جنازہ میں شامل ہوئے جب رسول اللهﷺنے نماز جنازہ پڑھ لی اور جنازہ دفن کردیا گیا تو رسول اللهﷺنے تسبیح پڑھی ہم نے بھی دیر تک سبحان الله پڑھا پھر رسول الله ﷺنے تکبیر کہی ہم نے بھی تکبیر کہی پھر رسول اللهﷺسے تسبیح و تکبیر کی وجہ پوچھا گئی تو فرمایا اس بندہٴ صالح کی قبر اس پر تنگ ہوئی تھی ہماری تسبیح و تکبیر سے خدائے پاک نے اس کو کشادہ فرمایا دیا۔ (مسند احمد)
صراط مستقیم(۱۶)عبدالله بن مسعودکہتے ہیں کہ رسول اللهﷺنے ایک مرتبہ ایک سیدھا خط کھینچ کرفرمایا کہ یہ تو الله کا راستہ ہے پھر دائیں بائیں چند خط کھینچ کر فرمایا یہ شیطانی راستے ہیں شیطان اپنے راستوں کی طرف بلاتا ہے۔ تم الله کے راستہ کی طرف چلو کہ یہ میرا یہی سیدھا راستہ ہے۔ (نسائی، دارمی، احمد)
جنّتی(۱۷)ابوسعیدخدریسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے کہ جب شخص نے پاک اور حلال کھایا طریق سنّت پر عمل کیا اور اس سے لوگ امن میں رہے وہ جنّت میں داخل ہوگا۔(ترمذی)
خوش خبری(۱۸)عمر بن عوفسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے کہ دین اس طرح سمٹ کر حجاز میں آجائے گا جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف سمٹ آتا ہے اور دین اس طرح جگہ پکڑے گا حجاز میں جس طرح بکری پہاڑی کی چوٹی پر جگہ پکڑ لیتی ہے۔ ابتدا میں دین غریب پیدا ہوتا تھا آخر میں بھی ایسا ہی ہوجائے گا جیسا کہ پیدا ہوا تھا، پس خوشخبری ہو غریبوں کو وہی درست کردیں گے اس چیز کو جس کو میرے بعد لوگوں نے خراب کر دیا ہوگا یعنی میری سنّت کو (ترمذی)
آخر زمانہ کے مولوی اور مُلاّ(۱۹)ابوہریرسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ آخر زمانہ میں ایسے فریبی اور جھوٹے لوگ ہوں گے جو ایسی حدیثیں بیان کریں گے جن کو لوگوں نے کبھی نہ سنا ہوگا پس بچنا ایسے لوگوں سے اور اپنے قریب نہ آنے دینا ایسے لوگوں کو ورنہ گمراہ کر کے فتنہ میں ڈال دیں گے (مسلم)
   (۲۰)ابن عباسسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے کہ میری جانب سے حدیث بیان کرنے سے بچو، جس شخص نے دانستہ مجھ پر جھوٹ بولا اس کا ٹھکانا دوزخ میں ہوگا۔ (ترمذی و ابن ماجہ)
   (۲۱)حضرت علیسے روایت ہے فرمایا رسول الله ﷺنے ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام صرف برائے نام ہوگا اور نہیں باقی رہے گا قرآن میں سے مگر اس کے نقوش، ان کی مسجدیں بظاہر آباد ہوگی لیکن حقیقت میں خراب ہوں گی، ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سب سے بدتر ہوں گے انہیں سے دین میں فتنہ برپا ہوگااور انہیں میں لوٹ آئے گا۔(بیہقی)
فرشتہ کے سوالات(۲۲)حضرت عمرسے روایت ہے کہ ایک روز ہم رسول الله ﷺکی خدمت میں حاضر تھے اچانک ایک خوش پوش اجنبی شخص آیا اور رسول الله ﷺکے قریب بیٹھ کرپوچھنے لگااسلام کیا ہے؟ رسول الله ﷺنے فرمایا اس امر کی شہادت کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺالله کے رسول ہیں، نماز پڑھنا، روزہ رکھنا، زکوٰة دینا اور زاد راہ میسر ہو حج کرنا۔ اس نے پھر پوچھا ایمان کیا ہے؟ رسول الله ﷺنے فرمایا الله پر اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پر قیامت اور تقدیر الٰہی پر صدق دلی کے ساتھ یقین رکھنا۔ اس نے پوچھا احسان کیا ہے؟ رسول الله ﷺنے فرمایا عبادات حضور قلب سے ادا کرنا، اس نے کہا آپ ﷺنے صحیح فرمایا اور چلاگیا، ہم حیران تھے کہ اس شخص نے سوالات بھی کئے جوابات کی تصدیق بھی کی، رسول الله ﷺنے فرمایا یہ فرشتہ تھا۔ (بخاری و مسلم)
تعلیمات(۲۳)طلحہ بن عبیداللهسے روایت ہے، ایک شخص رسول الله ﷺکی خدمت میں حاضر ہوکرپوچھنے لگا کہ مجھ پر کیاباتیں فرض ہیں، رسول الله ﷺنے فرمایا رات اور دن میں پانچ نمازیں فرض ہیں، کہنے لگا ان کے سوا بھی نماز ہے؟ فرمایا نہیں مگر نوافل پڑھنے کا تجھ کو اختیار ہے، پھر رسول الله ﷺنے فرمایا ماہ رمضان کے روزے فرض ہیں اس نے کہا اس کے سوا بھی کچھ روزے ہیں، فرمایا نہیں مگر نفلی روزوں کا تجھ کو اختیار ہے، پھر رسول الله ﷺنے فرمایا زکوٰة بھی تجھ پر فرض ہے۔ اس نے پوچھ کچھ اور بھی فرض ہے فرمایا نہیں مگر صدقہ نفل کا تجھ کو اختیار ہے۔ اس کے بعد وہ یہ کہتا ہوا چلا گیا کہ نہ تو اس پر میں کچھ زیادہ کروں گا نہ اس میں سے کچھ کم کردوں گا۔ یہ سن کر رسول الله ﷺنے فرمایا اگر اس شخص نے یہ بات سچ کہی تو کامیاب ہوگیا۔ (بخاری و مسلم)
(صحرا نشین اور بادیہ پیما اعراب کے شیوخ دربارِرسالت پناہی میں حاضر ہو کر تعلیمات نبوی ﷺسے مشرف ہوا کرتے تھے پھر اپنے اپنے قبائل میں ان تعلیمات کی تبلیغ کرتے تھے عہد رسالت سے آج تک حجاز کے ساکنان دشت و جبل اعراب کتاب و سنت کے متبع ہیں اور بغیر کسی اضافہ آمیزش کے ان ہی تعلیمات و ہدایات کے پابند ہیں جن ان کے بزرگوں نے رسول الله ﷺسے حاصل کی تھیں)