| | | |  


بِسْمِ اللهِ الرَّ حْمٰنِ الرَّ حِیْم

کتاب الاحکام

ہدایت(۵۶۱)حضرت علی کرم الله وجہ سے روایت ہے رسول اللهﷺنے جب مجھے یمن کا عامل مقرر فرمایا تو میں نے عرض کیا یارسول اللهﷺآپ مجھ کو حاکم بناکر بھیج رہے ہیں اور میں نوجوان ہوں حکومت کرنے کا طریقہ بھی مجھ کو معلوم نہیں ہے، فرمایا الله تعالیٰ تیرے دل کی رہنمائی فرمائے گا۔ اور تیری زبان کو ثابت رکھے گا۔ جب دو شخص کوئی معاملہ لے کر تیرے پاس آئیں تو مدعی کے حق میں اس وقت تک فیصلہ نہ کر جب تک مدعا علیہ کا بیان نہ سن لے اس لئے کہ دونوں فریق کے بیانات پر غور کرنے کے بعد فیصلہ کرنا آسان ہوگا۔ (ترمذی۔ ابوداؤد۔ ابن ماجہ)
   (۵۶۲)عبدالله بن ابی اوفیسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے حاکم کے ساتھ الله تعالیٰ کی توفیق تائید ہوتی ہے۔ جب تک کہ وہ ظلم کرنے لگتا ہے تو الٰہی تائید و توفیق الگ ہوجاتی ہے اور شیطان اس کے ساتھ ہوجاتا ہے۔ (ترمذی۔ ابن ماجہ)
   (۵۶۳)عبدالله بن زبیرسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے مدعی اور مدعاعلیہ حاکم کے سامنے بیٹھیں۔ (ابوداؤد)
   (۵۶۴)ابوذرسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جو شخص جھوٹا دعویٰ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے اس کو چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں ڈھونڈ ے۔ (مسلم)
   (۵۶۵)زید بن خالدسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے بہترین گواہ وہ ہیں جو سچی گواہی دیں اور حق بات ہیں۔ (مسلم)
   (۵۶۶)عمرو بن شعیبروایت کرتے ہیں کہ رسول اللهﷺنے فرمایا مدعی کے ذمہ گواہ ہیں اور مدعاعلیہ پر قسم ہے۔ (ترمذی)
ممانعت(۵۶۷)ابی امامہسے روایت ہے فرمایا رسو لاللهﷺنے جو شخص کسی حاکم یا امیر سے کسی کی سفارش کرے اور پھر اس کو ہدیہ بھیجے اور اس ہدیہ کو قبول کر لے تو اس کا یہ فعل ایسا ہے کہ گویا سود کے ایک بڑے دروازہ میں داخل ہوا۔ (ابوداؤد)
رشوت(۵۶۸)عبدالله بن عمروسے روایت ہے رسول اللهﷺنے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ (ابوداؤد)
ہدایت(۵۶۹)بریدہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے وہ حاکم جنت میں جائے گا جس نے حق کو پہچانا اور حق کے ساتھ فیصلہ کیا اور جس نے حق کو پہچانا مگر فیصلہ میں ظلم کیا یا حق کو نہ پہچانا اور جہالت سے فیصلہ کیا وہ دوزخ میں جائے گا۔ (ابوداؤد۔ ابن ماجہ)
   (۵۷۰)حضرت عمر بن خطابسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے قیامت کے دن مرتبہ کے اعتبار سے الله تعالیٰ کے نزدیک عادل حاکم ہوگا۔ اور بدترین شخص ظالم حاکم ہوگا۔ (بیہقی)
   (۵۷۱)معقل بن یسارسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جس بندہ کو الله تعالیٰ رعیت کی نگہبانی سپرد کرے اوروہ بھلائی اور خیر خواہی کے ساتھ نگہبانی نہ کرے وہ بہشت کی بو نہ پائے گا۔ (بخاری)
   (۵۷۲)عبدالله بن عمرسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے تم میں سے ہر شخص اپنے زیردستوں کا راعی اور نگہبان ہے ہر شخص سے اس کی ماتحت رعیت کی بابت باز پرس ہوگی۔ امام، خلیفہ، حاکم، امیر سے جو اپنے علاقہ کے لوگوں کا نگہبان و راعی ہے اس سے رعیت کی بابت پوچھا جائے گا اور غلام اپنے آقا کے مال کا محافظ ہے اس سے اس کی بابت پوچھا جائے گا۔ خبردار تم میں سے پر شخص سے متعلقہ امور کی باز پرس ہوگی۔ (بخاری و مسلم)
   (۵۷۳)عوف بن مالک اشجعیسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے تمہارے حاکموں میں سے بہترین حاکم وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں اور ان کے لئے تم دعا کرو۔ اور وہ تمہارے لئے دعا کریں اور بدترین حاکم وہ ہیں جن سے تم نفرت کرتو اور وہ تم سے نفرت کریں اور تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں۔ صحابہنے عرض کیا یارسول اللهﷺکیا ہم یسے بدترین حاکموں کو معزول نہ کریں؟ فرمایا نہیں جو شخص تم پر حاکم بنایا جائے اور تم اس میں کوئی ایسی بات دیکھوب جو الله کی نافرمانی پر مبنی ہے تو تم اس بات کو برا سمجھ مگر اس کی اطاعت سے دست بردار نہ ہوجاؤ۔ (مسلم)
اطاعت(۵۷۴)انسسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے اگر تمہارےاوپر کوئی غلام بھی حاکم ہو تو اس کی اطاعت کرو اور اس کا جائز حکم مانو۔ (بخاری)
اختیار مجازی (کسی شخص سے اخلاقی گناہ کے ساتھ مدنی جرم بھی سرزد ہو تو حد کی سزا کے ساتھ تعزیری سزا بھی دی جائے گی، حاکم وقت یا قاضی مجاز ہے اگر ضرورت سمجھے تو اخلاقی گناہ میں بھی تعزیری سزا دے سکتا ہے یعنی جرمانہ کرسکتا ہے یا قید کرسکتا ہے اسی طرح اگرضروت سمجھے تو کسی مدنی جرم میں سزائے حد یعنی تازیانہ کی سزا دے سکتا ہے۔ خلفاء راشدین کے عہد میں ایسی سزائیں دی گئی ہیں۔ زمانہ خلافت میں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ چور کو تازیانہ کی سزادی گئی۔ یا قید کیا گیا اور ایسی بھی مثالیں ہیں چور سے مالک مال کو نقصان کا معاوضہ بطور تاوان دلایا گیا۔ ہاتھ پاؤں کاٹنے کی سزا، جلاوطنی کی سزا بھی جب قید خانے قائم ہوگئے تو قید کی سزا میں تبدیل کی گئی۔ جہاں قید خانے نہ ہوں سزائے حد جاری ہوگی۔)
   (تازیانہ کی ضربات نہ شدید ہوں نہ خفیف ہوں بلکہ اوسط درجہ کی ہوں جو مجرم کی قوت برداشت سے زائد نہ ہوں۔ زمانہ باسعادت میں کھجور کی لکڑی سے جو نہ بہت نرم ہوتیں نہ بہت سخت بلکہ درمیانہ درجہ کی ہوتی تھیں ضربات لگائی جاتی تھیں۔ چمڑے کے شمے یا کپڑے کےکوڑے سے بھی سزائیں دی گئیں شرابیوں کو ہاتھوں اور جوتوں سے بھی مارا گیا۔)
   (سرپر، منہ پر، سینہ پر، پسلیوں پر، پیٹ پر، شرم گاہ پر گھٹنوں اور پاؤں کی نلّی پر مارنا ممنوع ہے صرف پشت کی جانب ضربات لگائی جاتی ہیں۔)
   (حاکم بہ اقتضائے عدل و انصاف جرائم کی تعزیری سزاؤوں میں سے مجرم کے لئے حالات کے پیش نظر جو سزا مناسب اور ضروری سمجھے اس کا حکم صادر کرے۔ حد کی غرض اور تعزیر کی غایت مرتکب یا مجرم کو ان اعمال قبیحہ اور افعال ذمیمہ سے روکنا ہے جو معاشرہ انسانی کے لئے بدامنی اور مضرت کا باعث ہیں۔)
   (قتل و غارتگری، بغاوت و سرکشی اور ارتداد کی سزاؤں میں موت اور جلاوطنی یا حبس دوام ہے۔ مالی معاملات کی بدعنوانی اور مدنی جرائم کی سزاؤں میں جرمانہ و حرجانہ، قرقی، ضبطی اور قید ہے۔
جرمانہ و حرجانہ یا قرقی و ضبطی کی مقدار جرم کی نوعیت اور مجرم کی حالت کے مطابق تجویز ہوگی۔ قید یا دن سے لے کر حبس دوام تک ہے، جلاوطنی کی بھی کوئی خاص معیاد نہیں حسب ضرورت و مصلحت تجویز ہوگی۔)
ممانعت(۵۷۵)ابی بکرہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے کوئی حاکم عیض و غضب کی حالت میں کسی مقدمہ کا فیصلہ نہ کرے۔ (بخاری و مسلم)
ہدایت(۵۷۶)ابوہریرہاور ابی امامہسے روایت ہے فرمایا رسول اللهﷺنے جو شخص حاکم عدالت ہوگا۔ قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ اس کے گلے میں طوق پڑا ہوگا، اگراس نے اپنے عہد حکومت میں عدل و انصاف سے مقدمات کے فیصلے کئے ہوں گے تو نجات پائے گا اور اگر ظلم و تعدی سے کام لیا ہوگا تو عذاب دیا جائے گا۔ (دارمی۔ احمد)