| | | |  
حزب البحر
مع ترجمہ و فوائد

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
 
۱… یَا عَلِیُ یَا عَظِیْمُ یَا حَلِیْمُ یَا عَلِیْمُ اَنْتَ رَبِّیْ وَعِلْمُکَ حَسْبِیْ فَنِعْمَ الرَّبُّ رَبِّیْ وَنِعْمَ الْحَسْبُ حَسْبِیْ تَنْصُرُ مَنْ تَشَآءُ وَاَنْتَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ
ترجمہ:۔ اے بلند مرتبہ اے بزرگ قدر اے بردبار اے دانائے اسرار تو میرا پروردگار ہے، اور تیرا علم میرے احوال کیلئے کافی ہے پس اچھا پروردگار ہے میرا پروردگار اور اچھا کفایت کرنے والا ہے، میرا کفایت کرنیوالا تو جسے چاہے مدد دیتا ہے اور تو غالب مہربان ہے۔
فائدہ:۔اگر کوئی بادشاہ یا رئیس چاہے کہ رعیت اس کے ساتھ موافقت کرے مختلف نہ ہوں اس کے ساتھ محبت کریں شرح و عقل کے مطابق کام ظہور پذیر ہوں اور خدا تعالیٰ غیب سے اس کے کام سنوارے تو چاہئے کہ روزانہ درد میں اس فقرہ پر مواظبت کرے۔

۲…نَسْاَلُکَ الْعِصْمَةَ فِی الْحَرَکَاتِ وَالسَّکَنَاتِ وَالْکَلِمَاتِ وَ ا لْاِ رَادَاتِ وَالْخَطَرَاتِ مِنَ الظُّنُوْنِ وَالشُّکُوْکِ وَالْاَوٴھَامِ السَّاتِرَةِ لِلْقُلُوْبِ عَنْ مُّطَالَعَةِ الْغُیُوْبِ-
ترجمہ:۔اپنے نفوس کی تجھ سے حفاظت چاہتا ہوں تمام حرکات و سکنات میں جو ہم سے پیدا ہوتی ہیں اور تمام باتوں سے جو ہماری زبان سے نکلتی ہیں اور تمام ارادات و خطرا ت میں جو ہماری ضمیر میں پیدا ہوتے ہیں، مزاحمت اعتقادات فاسدہ اور مزاحمت تردوات واوہام سے جو دلوں کو ڈھانپ لیتے ہیں علوم خفیہ کے مطالعہ اور تدبیر یا حکمت سے جو غیب میں ہے اور عوام اس کو نہیں دیکھتے اور نہیں جانتے۔
فائدہ:۔ جو شخص نیک حالت سے بری حالت میں پڑا ہو مثلا تبزیر و فسق و لہو یا اسے کوئی غم ہو یا حدیث نفس نے پراگندہ دل کردیا ہو یہ فقرہ اس کے بہت مناسب ہے، روزانہ وردمیں اس فقرہ کی بکثرت تلاوت اسے ان بلاوٴں سے رہائی دے گی۔

۳… فَقَدِ ابْتُلِیَ الْمُوٴمِنُوْنَ وَزُلْزِلُوْ زِلْزَالًا شَدِیْدَا وَاِذْ یَقُوْلُ الْمُنَافِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَرَضٌ مَاوَعَدَ نَا اللّٰہُ وَرَسُوْلَہ’ اِلَّاَ غُرُوْرَاo
ترجمہ:۔ اس وجہ سے عصمت کا سوال کرتا ہوں کہ مسلمانوں کو بڑا امتحان پیش آیا ہے اور سخت ہلائے گئے ہیں اور سوال عصمت کرتا ہوں اس وقت کہ منافقین اور وہ لوگ جنہوں کے دلوں میں بیماری ہے، کہتے ہیں کہ خدا و رسول نے ہمیں وعدہ نہیں دیا مگر فریب دینا۔
فائدہ:۔ اس آیت کا نزول قصہٴ احزاب میں ہوا کہ کفار نے محاصرہ کیا اور پیغمبر علیہ السلام خندق میں قلعہ بند ہوگئے، رسد پہنچنا بند ہوگئی منافقین نے طعنہ زنی کی، خداتعالیٰ کی امداد پہنچی، ایسی ہوا چلنا شروع ہوگئی جو کفار کی تشویش حال اور مومنین کی، تقویت کا باعث ہوئی اور وہ مصیبت دور ہوگئی، شیخ اس آیت کو بطور تبرک لائے اور اللہ تعالیٰ سے حسنِ ظن کے ساتھ اپنی حالت کی تبدیلی کے لئے مثل حال اس خوشی کے امیدوار ہوئے۔

۴… فَثَبِّتْنَآ وَانْصُرْنَا وَسَخَّرْلَنَا ھٰذَا الْبَحَرَ کَمَا سَخَّرْتَ الْبَحَرَ لِمُوْسیٰ عَلِیْہ ِالسَّلَامْ وَسَخَّرْتَ النَّارَ لِاِ بْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامْ وَسَخَّرَتَ الْجِبَالَ وَالْحَدِ یْدَ لِدَاوٴُدَ عَلِیْہِ السَّلَامُ وَسَخَّرْتَ الرِّیْحَ وَالشَّیَاطِیْنَ وَالْجِنَ لِسُلِیْمَانَ عَلِیْہِ السَّلَامْ وَسَخِّرْلَنَا کُلَّ بَحْرٍ ھُوَلَکَ فِی الْاَرْضِ وَالسَّمَآءِ وَالْمُلْکِ وَالْمَلَکُوْتِ وَبَحْرَ الدُّ نْیَاوبَحْرَلْاٰ خِرَةِ وَسَخِّرْلَنَا کُلَّ شَیْ یَا مَنْ بِیَدِ ہ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْ
ترجمہ:۔ پس ہمیں ثابت قدم رکھ اور ہمارے لئے اس دریا کو مسخر کر جیسے تو نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے مسخر کیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کیلئے آگ کو مسخر کیا اور حضرت داوٴد علیہ السلام کے لئے پہاڑوں اور لوہے کو مسخر کیا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کیلئے ہوا اور دیو پریوں کو مسخر کیا۔ اور مسخر کر ہمارے لئے ہر دریا کو زمین آسمان ملک اور عالم ملکوت میں ہے، اور دریائے دنیا و آخرت کو اور ہمارے لئے ہر چیز کو مسخر کر اے باری تعالیٰ فرما روائی تیرے دست قدرت میں ہے۔
فائدہ:۔ اگرچہ سبب ورد و الہام قصہٴ دریا تھا، تاہم یہ جائز ہے کہ بحر سے مراد نشاة کلیہ کا جو افراد مختلف الآثار پر مشتمل ہو یا جو کام کہ بہت کاموں پر موقوف ہو۔ ارادہ کرے، داعی کو چاہئے کہ سخرلنا ہٰذا البحر کے تلفظ کے وقت اپنی مراد کو دل میں رکھے، مرض ہو یا کاربستہ یا جس وقت اطبا کسی مرض کے علاج میں عاجز آجائیں اور اس وقت کوئی کام ایسا مشکل ہوجائے کہ اسکی تدبیر نظر نہ آئے روزانہ ورد میں اس فقرہ کی بکثرت تلاوت کرے، لطیفہ غیبی پیش آئیگا، اور کشادگی کارمیسر ہوگی۔

(۵)….کَہٰیٰٓعَصَ اُنْصُرْنَا فَاِنَّکَ خَیْرُالنَّاصِرِیْنَO وَافْتَحْ لَنَافَاِنَّکَ خَیْرُ الْفَاتِحِیْنَOوَاغْفِرْلَنَافَاِنَّکَ خَیْرُ الْغَافِرِیْنَOوَارْحَمْنَا فَاِنَّکَ خَیْرُالرَّٰحِمِیْنَO وَرْزُقْنَا فَاِنَّکَ خَیْرُالرَّازِقِیْنَO وَاحْفِظْنَافَاِنَّکَ َخیْرُالْحَافِظِیْنَO وَاھْدِنَا وَنَجِّنَا مِنِ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَO
ترجمہ:۔ ہماری مدد کر کہ تو بہترین مدد کرنیوالا ہے اور ہمارے کارہائے بستہ کو کھول دے کہ تو بہترین کھولنے والا ہے اور ہمیں بخش دے کہ تو بہترین بخشنے والا ہے اور ہم پر مہربانی کر کہ تو بہترین مہربان ہے اور ہمیں روزی دے کہ تو بہترین روزی دینے والا ہے اور ہماری حفاظت فرما کہ تو بہترین حفاظت فرمانے والا ہے اور ہماری رہنمائی کر اور ظالموں کے ہاتھوں سے خلاصی دے۔
وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رِیْحًا طَیِّبَةً کَمِا ھِیَ فِیْ عِلْمِکَ وَانْشُرْھَا عَلَیْنَا مِنْ خَزَائِنِ رَحْمَتِکَ وَ احْمِلْنَا بِہَا حَمَلَ الْکَرَامَةِ مَعَ السَّلَامَةِ وَالْعَافَیِةِ فِیْ الدِّیْنِ وَالدُّنْیَا وَالْاٰ خِرَةِ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌO
ترجمہ:۔ ہمارے لئے اپنے پاس سے پاک ہوا عطا فرما جیسا کہ تیرے علم میں ہے اور اسے اپنے خزائن رحمت سے ہم پر پھیلادے اور ہمیں اس ہوا کے ساتھ اٹھا جو کہ دین و دنیا اور آخرت میں سلامتی اور عافیت کے ساتھ بزرگی کا سبب ہو بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
فائدہ:۔ یہ جامع دعا طلب نصرت و فتح طلب مغفرت و مرحمت ۔ طلب رزق و محا فظت طلب ہدایت و نجات از ظالماں اور طلب کرامت و سلامتی دارین کیلئے ہے، روزانہ درد میں اس جامع دعا کی تکرار سے چند روز میں لطیفہٴ غیبی اور تائید الٰہی شامل حال ہو کر ظہور برکات و خیرہو گا،

۶… اَللّٰلہُمَّ یَسِّرْلَنَآ اُمُوْرَنَا مَعَ الرَّاحَةِ لِقُلُوْبِنَا وَاَبْدَ انِنَا وَالسَّلَامَةِ وَالْعَافِیَةِ فِیْ دِ یْنِنَا وَدُنْیَانَا وَاطْمِسْ عَلٰی وُجُوْہِ اَعْدَ ٓائِنَا وَامْسَخْہُمْ عَلٰی مَکَا نَتِھِمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ الْمُضِیَّ ٓ وَلَا الْمَجِیْئَ اِلیْنَا وَلَوْنَشَاءُ لَطَمَسْنَا عِلٰی اَعْیُنِہِمْ فَاسْتَبَقُوْا الصِّرَاطَ فَاَنَیٰ یُبْصِرُوْنَo وَلُوْنَشَآءُ لَمَسَخْنٰھُمْْ عَلٰی مَکَانَتِہِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مَضِیًّا وًّ لَا یَرْجِعُوْنَo
ترجمہ:۔ اے اللہ ہمارے لئے ہمارے کام آسان فرما ہمارے دلوں میں اور بدنوں میں خوشی کے ساتھ اور ہماری دین و دنیا میں سلامتی و عافیت کے ساتھ اور ہمارے دشمنوں کی صورت مٹادے انہیں متغیر الاحوال کردے تاکہ وہ کسی طرف نہ گزرسکیں اور نہ ہماری طرف آسکیں۔ (بعد ازاں شیخ نے دو آیتیں ولونشاء لطمسنا… یرجعون تک پڑھیں) یعنی اگر ہم چاہیں ان کو ان کی جگہ پر مسخ کردیں پس وہ نہ گزرسکیں گے اور نہ پھر سکیں گے یہ دو آیتیں خدا تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت پر دلالت کرتی ہیں پس اُس مقام پر ان دو آیتوں کی تلاوت اس صفت سے تمسک کرنے کیلئے ہیں۔
فائدہ:۔ یہ فقرہ صالح یہ ہے ”اللہم یسرلنا امورنا مع الراحة لقلوبنا وابداننا والسلامة والعافیة فی دنینا ودنیانا“ کثرت تکرار سے شرح صدر ہو کر ہرجائز کام آسان ہوگا، اور اگر کسی مجلس میں مسائل دین یا قضا یا معاش میں کسی سے دشمنی واقع ہو اور حق اپنی طرف ہو اور دشمن چرب زبانی اور دلیری سے غلبہ کرے تو تین بار … واطمس علی وجوہ اعدائنا تایرجعون پڑھا جائے اور دشمن کی طرف پھونکا جائے دشمن ساکت ہوجائیگا۔

(۷)یٰسٓ وَالْقُرَاٰنِ الْحَکِیْمo اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَo عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ o تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِ o لِتُنْذِرَقَوْمًا مَّا اُنْذِ رَاٰبَآ وٴُھُمْ فَہُمْ غَافِلُوْنَo لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰٓیاَکْثَرِھِمْ فَہُمْ َلایُوُٴمِنُوْنَo اِنَّا جَعَلْنَا فِیٓ ْ اَعْنَاقِہِمْ اَغْلٰلاً فَہِیَ اِلَی الْاَذْقَانِ فَہُمْ مُّقْمَحُوْنَo وَجَعَلْنَا مِنْم بَیْنِ اَیْدِ یْہِمْ سُدًّا وَّمِنْ خَلْفِہِمْ سُدًّا فَاَغْشَیْنٰہُمْ فَہُمْ لَایُبْصِرُوْنَo شَاہَتِ الْوُجُوْہُ وَعَنَتِ الْوْجُوْہُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ ط وَقَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمَاًo
ترجمہ:۔ قسم قرآن حکیم کی بیشک آپ ﷺ پیغمبروں میں سے ہیں اور صحیح راستہ پر ہیں قرآن خدائے غالب مہربان کی طرف سے اتارا گیا تاکہ آپ ﷺ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے آباوٴاجداد نہیں ڈرائے گئے اور وہ غافل ہیں یعنی قریش کو ڈرائیں کہ ان میں رسول مبعوث نہیں ہوا ان میں سے اکثر پر عذاب کا وعدہ واجب ہوگیا لہٰذا وہ ایمان نہیں لائیں گے،میں نے ان کی گردنوں میں طوق ڈالے ہوئے ہیں جو ٹھوڑیوں تک پہنچے ہوئے ہیں پس یہ لوگ سر اونچا کئے ہوئے ہیں میں نے ان کے سامنے اور پیچھے پردے کردیئے ہیں انہیں ڈھانپ لیا ہے اور کچھ دیکھ نہیں سکتے، خدائے زندہ اور تدبیر کرنے والے کے سامنے رسوا و خوار اور بدشکل ہوگئے ہیں اور جس نے ظلم کیا اسکا مطلب حاصل نہ ہوا۔
فائدہ:۔ اگر کوئی چاہے کہ دشمنوں کے درمیان سے گزر جائے اور دشمن اسے نہ دیکھیں اور اس کے معترض حال نہ ہوں سنگریزوں پر دم کرے اور دشمنوں کی طرف پھینکے یا ان کی طرف پھونکے․ اگر کوئی شخص ناحق دشمنی کرے، ان آیات کو بمعہ شاہت الوجوہ تاظلماً سات بار پڑھ کر اسکی طرف پھونکے۔

(۸)…طٰسٓ طٰسٓمٓ حٰمٓعٓسٓقٓ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیَانِ بَیْنَہُمَا بَرْزَخٌ لَایَبْغَیِانِ۔
ترجمہ:۔ دو دریاوٴں کو جاری کیا جو باہم ملتے ہیں․ ان کے درمیان حجاب ہے ایک دوسرے پر تعدی نہیں کرتے۔
فائدہ:۔ اس فقرہ میں خدا تعالیٰ کی کمال قدرت اور اسکی مہربانی کی صفت کا ذکر ہے۔
یہ فقرہ صالح اس لئے ہے کہ اگر میاں بیوی کے درمیان اختلاف واقع ہو یا کسی معاملہ میں دو شریک یا اعوان بادشاہ میں سے دو آدمی وغیرہ آپس میں تنازع کریں۔ اس فقرہ کا تمسک تلاوةً حملاً اس فتنہ کی تسکین کا موجب ہوگا۔

۹…حٰمٓ حٰمٓ حٰمٓ حٰمٓ حٰمٓ حٰمٓ حٰمٓ حُمَّ الْاَمْرُوَجَاءَ النَّصْرُ فَعَلَیْنَا لَایُنْصَرُوْنَ․
ترجمہ:۔گرم کیا گیا کام یعنی رونق پائی خدا تعالیٰ کی مدد آئی پس ہمارے دشمن ہم پر فتحیاب نہ ہوں گے۔
فائدہ:۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بعض غزوات میں حم لاینصرون کو صحابہ کا شعار بنایا اور فرمایا کہ اگر دشمن شبخون ماریں اس کلمہ سے متکلم ہونا چاہئے۔ اس جگہ جب شیخ نے معلوم کیا کہ حم کو غلبہ اعدامغلوبیت اعدا سے مناسبت ہے پس اس کلمہ کو برائے عدم نصرت اعدا اور ان کے عداوت سے باز رہنے کے لئے سات بار تکرار کیا کیوں کہ یہ کلمہ قرآن عظیم میں سات سورتوں میں آیا ہے۔ یہ فقرہ برائے اسکا ت اعداد طلب جاہ و حشمت پیش امرأ موٴثر ہے۔ سات بار پڑھ کر ان کی طرف پھونکا جائے یا سات سنگریزوں پر دم کرکے ان کی طرف پھینکا جائے۔

(۱۰)…حٰمٓ تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ oغَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ ذِی الطَّوْلِ ط لَآ اِلٰہ َ اِلَّا ھُوَط اِلِیْہِ الْمَصِیْرُ․
ترجمہ:۔ قرآن مجید خدائے غالب و دانا کی طرف سے ا تارا گیا جو گناہ بخشنے والا ہے۔ توبہ قبول کرنے والا سخت عذاب دینے والا ہے، صاحب فراخی (یعنی کثرت مال و زیادت قدرت) اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسکی طرف لوٹنا ہے۔
فائدہ:۔ یہ آیت شریف جامع صفات الٰہیہ کفایت مہمات اور مکروہات سے حفاظت میں موٴثر ہے۔ اس آیت کی بکثرت تلاوت مکا یٓد شیطان۔ سحر اور نظر بد کے لئے نافع ہے۔

﴿۱۱﴾…بِسْمِ اللّٰہِ بَابُنَا تَبَارَکَ حِیْطَانُنَا یٰسٓ سَقْفُنَا کٓہٰیٓعٓصٓ کِفَایَتُنَا حٰمٓعٓسٓقٓ حِمَایَتُنَا․
ترجمہ:۔ بسم اللہ ہمارا دروازہ ہے سورة تبارک ہماری دیواریں ہیں۔ سورہ یٰسٓ ہمارے گھرکی چھت ہے، کٓہٰیٓعٓصٓ ہمارا کفایت مہمات ہے اور کلمہ حٰمٓعٓسٓقٓ ہمارے لئے حمایت ہے۔
فائدہ:۔ یہ فقرہ حصار بلیغ ہے برائے دفع شرمضار محسوس جیسے مضرت دُ زداں و شیاطین و ظالماں۔ داعی کو چاہئے کہ پڑہتے وقت وہ صورت احاطہ نور قرآن اپنے خیال میں رکھے اور ہاتھ اپنے گرد پھرائے یا عصا سے خط کھینچے اپنے سامان کے گرد۔

﴿۱۲﴾…فَسَیَکْفِیْکَہُمْ اللهُ ط وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ
ترجمہ:۔ خدا تعالیٰ تجھے شر ظالماں سے کفایت کریگا۔ اور وہ سننے والا جاننے والا ہے۔
فائدہ:۔ اس آیت کا نزول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کے ساتھ کفایت شراعدا اور اظہارِ دین کا معاملہ کرے گا۔

﴿۱۳﴾… سِتْرُالْعَرْشِ مَسْبُوْلٌ عَلَیْنَا وَعَیْنُ اللهِ نَاظِرَةٌ اِلَیْنَا بِحَوْلِ اللّٰہِ لَایَقْدِرُ عَلَیْنَا وَاللّٰہُ مِنْ وَّرَآئِہِمْ مُحِیْطٌo بَلْ ھُوَ قُرْآنٌ مَجِیْدٌ فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظ․
ترجمہ:۔ عرش کا پردہ ہم پر لگا ہوا ہے (پردہٴ عرش سے مراد خود عرش ہے) خدا تعالیٰ کی عنایت کی آنکھ ہماری طرف دیکھ رہی ہے خدا تعالیٰ کی مدد سے کوئی ہم پر قدرت یافتہ نہ ہوگا۔
بعد ازاں شیخ نے آیت کریمہ والله من ورائہم محیط تلاوت کی یعنی خدا تعالیٰ نے ان کے پیچھے سے احاطہ کئے ہوئے ہے بلکہ یہ کتاب قرآن مجید ہے لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔
فائدہ:۔ یہ فقرہ مضرت غیر محسوس سے حصار بلیغ ہے جیسے مضرت نظر بد ۔سحر۔ آسیب وغیرہ۔

﴿۱۴﴾…فَاللهُ خَیْرٌ حَافِظاً قف وَھُوَاَرْحَمُ الرَّ احِمِیْنَ
ترجمہ:۔ پس اللہ تعالیٰ بہتر حفاظت کرنیوالا ہے اور وہ بہتر مہربان ہے۔
فائدہ:۔ یہ کلمہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کے برادر حقیقی بنیامین کو اس کے علاقی بھائیوں کے سپرد کرتے وقت عہد لینے کے بعد رعایت اسباب کے بعد خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے کہا۔
یہ کلمہ باب حفظ میں ابلغ سبب ہے۔

(۱۵)…اِنَّ وَ لِیِیَّ اللّٰہُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتٰابَ وَ ھُوَیَتَوَلَّی الصَّالِحِیْنَo
ترجمہ:۔ بیشک میرا کارساز خدا تعالیٰ ہے جس نے قرآن مجید نازل فرمایا اور نیکوکاروں کی کارسازی کرتا ہے۔
فائدہ:۔ یہ آیت نفقتہ الغیب اور تحصیل نظام مدنی منزلی میں تاثیر بلیغ رکھتی ہے۔

۱۶…حَسْبِیَ اللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَط عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمُ․
ترجمہ:۔ میرا کفایت کرنیوالا الله ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں میں نے اس پر توکل کیا اور وہ عرش بزرگ کا پروردگار ہے۔
فائدہ:۔ یہ آیت برائے حفظ از مضار طلب نفقہ الغیب کفایت مہمات اور نصرت براعدا عجیب التاثیر کیمیا ہے۔

﴿۱۷﴾…بِسْمِ اللهِ الَّذِیْ لَایَضُرُّمَعَ اسْمِہ شَیْیٌٴ فِی لْاَ رْضِ وَلَا فِیْ السَّمَآءِ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ․
ترجمہ:۔الله تعالیٰ کے نام سے تبرک حاصل کرتا ہوں کہ اس کے نام کے ساتھ کوئی چیز زمین اور آسمانوں میں ضرر نہیں پہنچاتی اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔
فائدہ:۔ یہ دعا ہر ضرر کے روکنے میں تاثیر بلیغ ہے۔

﴿۱۸﴾… وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلَیِّ الْعَظِیْمُ
ترجمہ:۔باز رہنے کی طاقت اور کام کرنے کی توانائی خدائے بلند قدر بزرگ مرتبہ کی مدد کے بغیر نہیں ہے۔
فائدہ:۔ رجعت ردّ دعائے بد اور ہمت اہل ہمت وغیرہ میں تاثیر بلیغ رکھتا ہے۔
طریقہ شاذلیہ میں حزب البحر آیة لا حول ولا قوة تک ہی پڑھے ہیں مگر دوسرے
طریقوں میں مشائخ عظام نے آخرمیں آیت تسبیح و سلام و تحمید اور درود شریف کو بھی تبرکاً شامل کیا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔