| | | |  
دعاء حزب البحر

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
رحمة اللہ علیہ


نا شر

رحمانی پبلیکیشنز

کمرہ نمبر 1010کا وش کراؤن 10thفلور، شاہراہ فیصل کراچی
 
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مقدمہ
”حزب البحر شیخ عظیم القدر ابوالحسن الشاذلی سے منسوب ہے حضرت سیدنا ابوالحسن رحمة اللہ علیہ کا نام علی بن عبداللہ شاذلی ہے جو قریہٴ غمارا میں پیدا ہوئے۔ پیدائش کا سن ۵۷۱ہجری ہے اور ملک یمن کے صحرائے عیذاب میں ساحل کے قریب بمقام مخا رحلت فرمائی۔ وفات کا سن ۶۵۶ ہجری ہے۔
حضرت سیدنا ابوالحسن علی بن عبداللہ الشاذلی  نسباً سادات بنی حسن سے ہیں۔ آباواجداد کا مولد ومسکن مغربی اقصیٰ مراکش ہے۔ حضرت موصوف نے اوائل عمری میں تونس میں مقیم ہو کر تحصیل علم کی اور طریقت میں تونس کے شیخ المشائخ حضرت عبدالسلام بن مشیش سے فیضیاب ہوئے طریقہ شاذلیہ بواسطہ حضرت جابر جعفی سیدنا حضرت امام حسن  سے ملتا ہے۔
باوثوق لوگوں نے نقل کیا ہے کہ شیخ ابوالحسن شاذلی فریضہٴ حج ادا کرکے جدہ پہنچے تو دوستوں سے فرمایا کہ جہاز طلب کرو۔ دوستوں نے بہت تلاش کی مگر صرف ایک بوڑھے نصرانی کا جہاز ملا اسی پر سوار ہوگئے۔ جب لنگر اٹھائے گئے اور جدہ کی عمارتوں سے گزر گئے مخالف ہوا چلنا شروع ہوگئی۔ اور ایک جمعہ جدہ کے نزدیک جہاں سے کہ جدہ کی پہاڑیاں نظر آتی تھیں ٹھہرے رہے، بوڑھا نصرانی اور ان کے لڑکے شیخ پر طعنہ زن ہوئے کہ ہم یہاں باد مخالف میں گھر گئے ہیں شیخ یہ سن کر رجوع الی اللہ کے ساتھ مراقب ہوئے تو یہ دعا (حزب البحر) الہام ہوئی آپ نے پڑھنا شروع کیا اور جہاز راں کو فرمایا کہ لنگر اُٹھالے اس نے کہا کہ اگر لنگر اٹھاوٴں تو اسی وقت جہاز واپس جدہ پہنچ جائیگا۔ آپ نے فرمایا کہ لنگر اٹھا اور عجیب صنع الٰہی کا تماشہ کر۔ آخرکار اس نے لنگر اٹھایا پس موافق ہوا اس قوت سے شروع ہوئی کہ جہاز کی رسیاں میخوں سے نہ کھول سکے بلکہ انہیں کاٹنا پڑا۔ اور بہت تیزی سے آرام و عافیت کے ساتھ منزل مقصود پر پہنچ گئے، طوفان سمندر کا واقعہ ماہ صفر کی سات تاریخ کو ظہر کے وقت پیش آیا تھا۔ الہامی عبارت جو بحالت مراقبہ القا ہوئی۔ یا علی یا عظیم سے بیدہ ملکوت کُل شئ تک ہے جب طوفان کا رخ پھر گیا تو حضرت شیخ نے حروف مقطعات کہٓیٰعٰٓص پڑھ کر انصرناسے شیئ قدیر تک دعا پڑھی اور ہمراہیوں کی طرف مخاطب ہو کر کہا۔
فَضلِ الٰہی سے جس طرح ہمارا جہاز طوفان سے نکل گیا اسی طرح ہر سچے مسلمان کی مصیبت کا جہاز دریائے آفات و مشکلات سے انشاء اللہ بہ سلامت نکل جائیگا، یہ کلمات جو میرے قلب میں وارد ہوئے حزب البحر ہیں، (لفظ بحر میں سب سجور شامل ہیں) منزل مقصود پر مع الخیر پہنچ کر حضرت شیخ نے حزب البحر میں مختلف ضروری حاجات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اللّٰہُمَّ یسرلنا امورنا سے آخر تک اضافہ کرکے اپنے سب متوسلین کو روزانہ عصرومغرب کے درمیان ایک بار پوری دعا پڑھنے کی ہدایت فرمائی جس کے پابند آج تک سب شاذلی ہیں۔
شاہ ولی اللہ قدس سرہ نے لکھا ہے کہ میں اس شخص سے تعجب کرتا ہوں جو حزب البحر کے اول اور آخر میں اعتصام و اختتام پڑھتا ہے اور بعض حروف جلالیہ کی کسر قوت کے لئے ادعیہ جمالیہ پڑھتا ہے، وہ نہیں جانتا کہ حضرت شیخ نے اپنے علم کے اتساع کے لئے ان تمام مراتب کو خود رعایت کیا ہے اور ہر کلمہ جلالی کے جنب میں دو چند کلمہ جمالی لائے ہیں۔
حضرت شیخ کی زندگی میں تو کسی متوسل کو اعمال تصریفیہ میں نصاب کے اجازت کی ضرورت نہ تھی، بعد وفات حصولِ تصرفات و حاجات براری کیلئے ادائے نصاب کی ضرورت محسوس ہوئی۔ ذی علم مجازین اور مختار خلفا نے لفظ ”بحر“ کو مراد قرار دیکر مطابق عدد نصاب مقرر کیا، تاریخ ورود سات صفر ہے، اختلاف رویت کے احتمال سے آگے پیچھے کی تاریخ ۶۔۸ شامل کرکے مطابق تعداد حروف ”بحر“ تین دن نصاب کے لئے تجویز کئے یعنی صفر کی چھ سات آٹھ تاریخ اور لفظ بحر کے دو سو دس (۲۱۰) عدد ہوتے ہیں، اس لئے ان تین تاریخوں میں دو سو دس کی تعداد کو تقسیم کردیا۔ پس بہ نیت ادائے نصاب ماہ صفر کی ۶۔۷۔۸ تاریخ معتکف ہو کر روزہ رکھے اور تین مذکورہ تاریخوں میں بعد نماز ظہر روزانہ ستر بار حزب البحر پڑھے۔ بعد نصاب روزانہ ایک بار پڑھنا کافی ہے۔ روزانہ ورد کیلئے وقت مقرر کرنا ضروری ہے، کسی ایک وقت کو مخصوص کرکے معمول بنالیا جائے، بعد ادائے نصاب ۹/صفر کو بہ نیت ایصال ثواب بہ روح شیخ حسب مقدور چند مساکین کو کھانا کھلایا جائے۔
جب کسی حاجت کے لئے حزب البحر پڑھنا چاہیں تو پہلے ایک بار سورہ فاتحہ پڑھ کر ہر جائز حاجت کے لئے بارہ بار روزانہ پوری حزب البحر پڑھنا چاہئے جب تک حاجت براری نہ ہو۔
حزب البحر بہت مشہور معروف وظیفہ ہے جس کے عامل دنیائے اسلام کے ہرگوشے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ہمارے ملک میں سب سے بڑے عامل حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی گزرے ہیں، موصوف نے حزب البحر کی نہایت عالمانہ و عارفانہ شرح فارسی میں لکھی تھی جو ہوامع کے نام سے طبع ہو کر مقبولِ خاص و عام ہوئی۔ حضرت شاہ صاحب نے اس کتاب میں لکھا ہے کہ: ”مجھے حضرت ابوالحسن شاذلی کے مقام میں قائم کیا گیا ہے اور حزب البحر کے اسرار منکشف کئے گئے ہیں جو اختصار کے سا تھ اس کتاب میں لکھتا ہوں تمام حقائق و معارف کیلئے تو ایک دفتر درکار ہے، ایک طالبِ صادق کے لئے اسی قدر معلومات کافی ہے جو میں نے ہوامع کے عنوان سے جمع کردی ہے۔
یہ کتاب نایاب ہے اب ملتی نہیں ہے ایک پرانے مطبوعہ نسخہ سے ضروری فوائد اقتباس کرکے ترجمہ کے ساتھ شامل کرلئے گئے تاکہ مطلب سمجھنے میں آسانی ہو۔
ہمارے ملک میں حزب البحر کی بہت اشاعت ہوئی ہے، اکثر نسخوں میں طباعت کی غلطیاں ہیں اسی لئے اجازت کی شرط ہے تاکہ غلطی کا احتمال نہ رہے، طریقت کے قریباً ہر سلسلہ میں حزب البحر کا وظیفہ مروج ہے اور ہر طریقہ میں مختلف نصاب مقرر ہیں اور عبارت میں بھی کمی بیشی ہے اکثر شائقین صحیح اور مستند نسخہ کے خواہشمند ہیں اس لئے حزب البحر مصدقہ قلندر زماں عارفِ کامل حضرت شاہ اسد الرحمان قدّسی اعلیٰ اللہ مقامہم مع مختصر شرح و اقتباس فوائد از حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ الله علیہ شائع کی جا تی ہے۔